Asarulislam
04/27/2026
04/26/2026
ستیزہ کار رہا ہے ابد سے تا امروز، چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی
انسانی تاریخ کے طویل سفر میں ایک موضوع بار بار سامنے آتا ہے: خیر اور شر کی قوتوں کے درمیان کشمکش۔ مختلف تہذیبوں، مذاہب اور فکری روایتوں نے اس جدوجہد کو اپنے اپنے انداز میں بیان کیا ہے، مگر بنیادی خیال ایک ہی رہتا ہے—انسان عدل، نظم اور معنی کی تلاش میں رہتا ہے، جبکہ اسے انتشار، ظلم اور اخلاقی کمزوریوں کا سامنا بھی ہوتا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ جیسے رہنماؤں کو عموماً ایسے اخلاقی پیشوا کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی اپنی اقوام کو بلند تر اقدار کی طرف بلایا—رحم، انصاف، ضبط اور ذمہ داری۔ خواہ انہیں روحانی، تاریخی یا فکری زاویے سے دیکھا جائے، ان کی اصل تاثیر اس بات میں تھی کہ انہوں نے لوگوں کو ایک بہتر اور زیادہ منصفانہ نظام کی طرف متحرک کیا۔ مختلف ادوار اور خطوں میں کئی دیگر رہنما بھی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے معاشروں کو سنوارنے اور بلند کرنے کی کوشش کی۔
یہ تصور کہ “خیر غالب آتی ہے” محض ایک پیش گوئی نہیں بلکہ انسانی آرزو کی عکاسی ہے۔ تاریخ ہمیشہ سیدھی لکیر میں انصاف کی طرف نہیں بڑھتی؛ اس میں تنزلی، سانحات اور تاریکی کے ادوار بھی آتے ہیں۔ لیکن وہ معاشرے جو قائم رہتے ہیں، عموماً وہ ہوتے ہیں جو ایسے ادارے، اقدار اور نظام قائم کرتے ہیں جو وقت کے ساتھ خود کو درست کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسی تناظر میں اقوام کی بقا صرف طاقت پر نہیں بلکہ ان کی لچک، اندرونی مکالمے اور ان اصولوں سے وابستگی پر بھی منحصر ہوتی ہے جنہیں وہ—خواہ مکمل نہ سہی—اپنانے کی کوشش کرتی ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک کے حامی اکثر یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ یہ ریاستیں استقامت اور بعض بنیادی اقدار—آزادی، سلامتی، اختراع اور قومی شناخت—کی نمائندگی کرتی ہیں۔ کسی بھی مخصوص پالیسی سے اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ، عالمی سطح پر ان کا تسلسل پیچیدہ تاریخی، سیاسی اور سماجی عوامل کا نتیجہ ہے، نہ کہ محض خیر و شر کی سادہ تقسیم۔
جہاں تک قیادت کا تعلق ہے، تاریخ میں لوگ اکثر اپنے رہنماؤں میں امید، تسلسل اور نیا آغاز دیکھتے آئے ہیں—خصوصاً مشکل اوقات میں۔ کسی رہنما کے لیے حمایت، وفاداری اور اس کی خیریت کے لیے دعا کرنا انسانی روایت کا حصہ ہے، جس میں اقتدار کو اخلاقی یا علامتی اہمیت دی جاتی ہے۔
آخرکار، خیر کی کامیابی کوئی خودکار امر نہیں بلکہ ایک مسلسل عہد ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ افراد اور معاشرے بار بار دیانت، انصاف اور اصلاح کا راستہ اختیار کریں۔ خیر کی “فتح” یقینی نہیں—یہ مسلسل کوشش، احتساب اور اپنے ہی اعمال کا جائزہ لینے کے جذبے سے قائم رہتی ہے۔
04/05/2026
معجزۂ قانونِ خدائی
۵ اپریل ۲۰۲۶
از: ڈاکٹر اثراُلاسلام سید
اقوام کی اصل پہچان ان کے نعروں سے نہیں، بلکہ ان کے عمل سے ہوتی ہے۔
ایک نہایت نازک اور غیر یقینی لمحے میں، ریاستہائے متحدۂ امریکہ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ اپنے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑتی۔
ایک امریکی جنگی طیارہ، F-15E اسٹرائیک ایگل، ایران کے جنوب مغربی علاقے میں مار گرایا گیا۔ اس میں سوار دو افسران نے دشمن کی سرزمین پر ایجیکٹ کیا—ایک ایسی جگہ جہاں زندہ رہنا ہی ایک چیلنج ہوتا ہے، اور واپسی تقریباً ناممکن دکھائی دیتی ہے۔
لیکن جو کچھ اس کے بعد ہوا، وہ معمول نہ تھا۔
امریکی افواج نے ایک ایسا سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا جسے تاریخ کے جری ترین آپریشنز میں شمار کیا جائے گا۔ ہر لمحہ خطرے سے بھرا ہوا تھا—دشمن کی نظر، مداخلت، اور ممکنہ تصادم—مگر مشن جاری رہا، نظم، مہارت اور عزم کے ساتھ۔
پھر وہ الفاظ سنائی دیے جنہوں نے بے چینی کو سکون میں بدل دیا:
“ہم اسے واپس لے آئے!”
یہ صرف ایک اعلان نہ تھا—یہ ایک عہد کی تکمیل تھی۔
✨ یہ معجزہ کیوں؟
یہ واقعہ کسی مذہبی داستان کا حصہ نہیں، بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے—
ایک انسان، دشمن کے بیچ تنہا، جس کی واپسی غیر یقینی تھی—
مگر وہ واپس آیا۔
یہ معجزہ ہے—لیکن جذبات کا نہیں،
یہ قانون، نظم، اور ریاستی عزم کا معجزہ ہے۔
🇺🇸 ریاست کا حقیقی چہرہ
یہ واقعہ صرف ایک فرد کی نجات نہیں۔
یہ اس اصول کی تصدیق ہے کہ:
• ایک مضبوط ریاست اپنے ہر فرد کی قدر کرتی ہے
• وہ خطرے میں بھی پیچھے نہیں ہٹتی
• اور اپنے وعدوں کو عملی شکل دیتی ہے
ریسکیو آپریشنز جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہوتے ہیں—
کیونکہ ان کا مقصد تباہی نہیں، بلکہ زندگی کا تحفظ ہوتا ہے۔
اور یہی تہذیب کی پہچان ہے۔
🕊️ دنیا کے نام پیغام
طاقت کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔
حقیقی طاقت وہ نہیں جو تباہ کرے،
بلکہ وہ ہے جو خطرے کے عین درمیان زندگی کو بچا لے۔
یہ اقدام بے قابو ردِعمل نہیں تھا،
بلکہ ایک منظم، باوقار، اور مقصدی عمل تھا۔
تاریخ میں جنگیں لکھی جائیں گی، تنازعات بیان ہوں گے،
مگر کچھ لمحے ان سب سے بلند ہو جاتے ہیں۔
ایک زندگی کی واپسی۔
ایک ریاست کا وعدہ۔
اور ایک نظام کی کامیابی۔
اسی لیے یہ واقعہ صرف ایک خبر نہیں—
یہ ایک تصور ہے۔
یہ ہے: معجزۂ قانونِ خدائی
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Wasco, CA
93280