sofisticated chawals

sofisticated chawals

Share

Gud quotes are always welcum here:):):)
Iam nothing just a puppet of clay. . . .A Chemical engr. who does't even know the chemistry of life coz he is weak in chemistry :p
pepsi 65 ki b mny ki..zardari ko mny htya..iftikhar chaudry ko b mny lgaya...Ik ko hero mny bnaya..

06/07/2026

Shshjahan grill economical hack ❤️🤤😋🤪😂🤝

06/06/2026

💥 میں اپنی چھ سالہ بیٹی کو نہلا رہی تھی جب اُس کے بازو پر چار انگلیوں کے نیلے نشان دیکھے۔ وہ کسی بڑے ہاتھ کی سخت گرفت تھی۔ 🥹💔

میرا نام مہرین ہے۔
میری بیٹی عنایہ چھ سال کی ہے۔

وہ اسلام آباد کے ایک مشہور نجی سکول میں پڑھتی تھی۔

بڑا گیٹ، صاف کلاس رومز، مہنگی فیس، اور والدین کو مطمئن کر دینے والا ماحول۔

مگر چند ہفتوں سے عنایہ بدلنے لگی تھی۔

صبح سکول کا نام آتے ہی اُس کا چہرہ اتر جاتا۔

“امی، آج سکول نہ جائیں؟”

“امی، پیٹ میں درد ہے۔”

“امی، مس شازیہ غصہ کرتی ہیں۔”

میں نے ہر بار یہی سمجھا کہ نئی کلاس ہے، عادت ہو جائے گی۔

پھر اُس شام میں اسے نہلا رہی تھی۔

میں نے اُس کا بازو اٹھایا تو میری سانس رک گئی۔

اوپر بازو پر چار نیلے نشان تھے۔

بالکل انگلیوں جیسے۔

میں نے بہت نرمی سے پوچھا:

“عنایہ، یہ کس نے کیا؟”

وہ فوراً چپ ہو گئی۔

نظریں جھکا لیں۔

پھر بہت آہستہ سے بولی:

“مس شازیہ۔”

میرے اندر جیسے سب کچھ جم گیا۔

“کب؟”

“جب میں نے کاپی غلط صفحے پر کھول لی تھی۔”

پھر اُس نے فوراً میرا ہاتھ پکڑ لیا۔

“امی، سکول میں مت بتانا۔ مس نے کہا تھا کوئی یقین نہیں کرے گا۔”

اُس رات میں نے اُس کے بازو کی تصویریں لیں۔

تاریخ کے ساتھ۔

اگلی صبح میں اپنے شوہر عادل کے ساتھ عنایہ کو لے کر سکول گئی۔

پرنسپل مسز نادیہ قریشی نے ہمیں بٹھایا اور بہت نرم لہجے میں کہا:

“عنایہ بہت حساس بچی ہے۔ بعض بچے معمولی ڈانٹ کو بھی دل پر لے لیتے ہیں۔”

میں نے فون اُن کے سامنے رکھ دیا۔

تصویر کھولی۔

عنایہ کے بازو پر انگلیوں کے نشان صاف نظر آ رہے تھے۔

میں نے کہا:

“یہ ڈانٹ نہیں ہے۔ یہ ہاتھ ہے۔”

عادل نے بھی سخت لہجے میں کہا:

“ہمیں کلاس روم کی سی سی ٹی وی فوٹیج چاہیے۔”

پرنسپل کا لہجہ فوراً بدل گیا۔

“یہ ممکن نہیں۔ سکول پالیسی اجازت نہیں دیتی۔”

اسی وقت مس شازیہ اندر آئیں۔

انہوں نے عنایہ کی طرف جھک کر کہا:

“بیٹا، امی ابو کو بتاؤ نا، مس آپ سے پیار کرتی ہیں؟”

عنایہ فوراً میرے پیچھے چھپ گئی۔

اُس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔

عادل نے یہ دیکھا تو اُس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

پرنسپل نے بات سنبھالنے کی کوشش کی۔

“دیکھیے، آپ پہلے والدین نہیں ہیں جو ایسی شکایت لے کر آئے ہیں۔ سکول کا نام خراب کرنے سے پہلے سوچ لیجیے گا۔”

میں نے فوراً پوچھا:

“پہلے والدین نہیں؟”

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

اُنہیں احساس ہو چکا تھا کہ زبان پھسل گئی ہے۔

عادل نے بہت سکون سے کہا:

“تو اس کا مطلب ہے شکایت پہلے بھی آئی ہے۔ اب معاملہ صرف ہماری بچی کا نہیں رہا۔”

ہم وہاں سے نکل آئے۔

اس بار ہم خاموش نہیں رہے۔

سب سے پہلے عنایہ کو ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔

میڈیکل رپورٹ بنوائی۔

پھر اُس رات عنایہ نے مجھے ایک اور بات بتائی۔

“امی… حورین کو بھی مس شازیہ نے ایسے ہی پکڑا تھا۔”

حورین اُس کی کلاس فیلو تھی جو دو ہفتے پہلے اچانک سکول چھوڑ گئی تھی۔

اگلے دن عادل نے حورین کے والد کا نمبر پرانے والدین گروپ سے ڈھونڈا۔

جب ہم نے بات کی تو دوسری طرف لمبی خاموشی ہوئی۔

پھر حورین کی امی روتے ہوئے بولیں:

“ہماری بچی نے بھی یہی بتایا تھا… مگر سکول نے کہا وہ بہت حساس ہے۔”

اسی دن ہم دونوں خاندان ملے۔

عنایہ کے بازو کی تصویریں تھیں۔

حورین کی پرانی تصاویر تھیں۔

دونوں بچیوں کی باتیں ایک جیسی تھیں۔

دونوں کو ڈرایا گیا تھا۔

دونوں کو کہا گیا تھا:

“گھر میں بتایا تو کوئی یقین نہیں کرے گا۔”

اب یہ صرف شکایت نہیں رہی تھی۔

یہ ثبوت بن چکا تھا۔

ہم نے مل کر چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن پر شکایت کی۔

ایجوکیشن اتھارٹی کو درخواست دی۔

پولیس میں رپورٹ جمع کروائی۔

اور سکول کو قانونی نوٹس بھجوایا۔

دو دن بعد ایک تیسرا والد بھی سامنے آ گیا۔

اُس کے بچے نے بھی کلاس میں سخت رویے اور بازو سے کھینچنے کی بات کی تھی۔

سکول نے پہلے اسے غلط فہمی کہا۔

پھر اندرونی انکوائری کا اعلان کیا۔

اور آخرکار جب دباؤ بڑھا تو مس شازیہ کو کلاس سے ہٹا دیا گیا۔

سی سی ٹی وی کی مکمل فوٹیج تو ہمیں نہ دی گئی، مگر اتنا ضرور سامنے آ گیا کہ شکایت صرف ہماری نہیں تھی۔

پرنسپل کے خلاف بھی کارروائی شروع ہوئی، کیونکہ شکایات پہلے سے موجود تھیں اور دبائی جا رہی تھیں۔

عنایہ نے سکول بدل دیا۔

شروع کے دن آسان نہیں تھے۔

نئے سکول کے گیٹ پر وہ میرا ہاتھ زور سے پکڑتی اور پوچھتی:

“امی، یہ والی میم اچھی ہیں نا؟”

میں ہر بار جھک کر کہتی:

“بیٹا، اگر کوئی بھی تمہیں ڈرائے، ہاتھ لگائے، یا کہے کہ امی ابو کو نہ بتانا… تو سب سے پہلے ہمیں بتانا۔”

آہستہ آہستہ اُس کی ہنسی واپس آنے لگی۔

وہ گاڑی میں پھر نظمیں پڑھنے لگی۔

ایک دن گھر آ کر بولی:

“امی، آج میں نے کلاس میں نظم سنائی۔”

میں نے اُسے سینے سے لگا لیا۔

کیونکہ وہ صرف نظم نہیں تھی۔

وہ میری بچی کی واپسی تھی۔

آج عنایہ کے بازو کے نشان مدھم ہو چکے ہیں۔

مگر میرے دل کا نشان شاید کبھی پوری طرح نہیں جائے گا۔

کیونکہ ماں باپ کیلئے سب سے بڑا درد یہ نہیں ہوتا کہ بچہ زخمی ہوا۔

سب سے بڑا درد یہ ہوتا ہے کہ بچہ کئی دن ڈرتا رہا…

اور ہم اُسے نخرہ سمجھتے رہے۔

میں نے ایک بات سیکھ لی ہے۔

جب بچہ بار بار کہے:

“پیٹ درد ہے۔”

“سکول نہیں جانا۔”

“میم اچھی نہیں لگتیں۔”

تو اسے ہمیشہ ضد نہ سمجھیں۔

کبھی کبھی یہ ایک چھوٹی سی جان کی آخری کوشش ہوتی ہے کہ کوئی اُس کی خاموشی پڑھ لے۔

بچوں کو صرف بڑے سکولوں میں داخل نہ کروائیں۔

اُنہیں یہ یقین بھی دیں کہ اُن کی بات گھر میں سنی جائے گی۔ ❤️

06/06/2026

🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣

06/04/2026

Guys, If you’ve money, pay for the comfort, there is no award for suffering 😐

06/03/2026

💥 ولیمے کے دن میں نے اپنی بیٹی کا سرخ جوڑا نہیں آنکھ کے نیچے پڑا نیل دیکھا۔
اُس کے شوہر نے ہنستے ہوئے کہا: "کبھی کبھی بیوی کو سبق سکھانا پڑتا ہے۔" 🥹💔

میرا نام نادیہ ہے۔

اور اُس دن میری بیٹی ایمان کا ولیمہ تھا۔

دو دن پہلے ہی نکاح اور رخصتی ہوئی تھی۔

گھر بھر میں خوشیوں کا شور تھا۔

رشتے دار تھے۔

تصویریں تھیں۔

دعائیں تھیں۔

اور وہ تمام خواب تھے جو ایک ماں اپنی بیٹی کے لیے برسوں سے جمع کرتی رہتی ہے۔

ایمان ہمیشہ سے نرم دل بچی تھی۔

بچپن میں بجلی کڑکتی تو ڈر کر میرے ساتھ آ کر بیٹھ جاتی۔

بارش میں بھیگنا پسند تھا۔

مگر کسی کو ناراض کرنا نہیں۔

اسی لیے شاید اُس نے شادی کے بعد پیش آنے والی بات بھی مجھ سے چھپانے کی کوشش کی۔

ولیـمے کی شام جب وہ اسٹیج پر آنے کے لیے تیار ہو رہی تھی تو میں اُس کے پاس گئی۔

وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔

مگر پھر میری نظر اُس کی بائیں آنکھ کے نیچے گئی۔

میک اپ کی تہہ کے باوجود ہلکا سا نیلا نشان دکھائی دے رہا تھا۔

میرا دل دھڑکا۔

میں نے فوراً اُس کا چہرہ اپنی طرف کیا۔

"یہ کیا ہے؟"

وہ ایک لمحے کیلئے گھبرا گئی۔

پھر فوراً بولی:

"کچھ نہیں امی۔"

"دروازے سے لگ گیا تھا۔"

میں ماں تھی۔

اور مائیں جھوٹ کی آواز پہچان لیتی ہیں۔

میں نے اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔

وہ نظریں چرا گئی۔

بس اُسی لمحے مجھے سمجھ آ گیا کہ بات دروازے کی نہیں۔

مگر اُس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔

"پلیز امی۔"

صرف دو لفظ۔

مگر اُن میں اتنی منت تھی کہ میں خاموش ہو گئی۔

ولیـمے کی تقریب شروع ہو گئی۔

لوگ مبارکبادیں دے رہے تھے۔

تصویریں بن رہی تھیں۔

اور میں مسلسل اپنی بیٹی کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔

وہ مسکرا رہی تھی۔

مگر اُس کی مسکراہٹ آنکھوں تک نہیں پہنچ رہی تھی۔

پھر دولہا، ارسلان، مائیک کے پاس گیا۔

سب سمجھ رہے تھے شاید محبت بھری کوئی بات کرے گا۔

کوئی دعا دے گا۔

کوئی خوبصورت جملہ کہے گا۔

مگر وہ ہنس کر بولا:

"اگر آج دلہن تھوڑی خاموش لگ رہی ہے تو فکر نہ کریں۔"

ہال میں ہلکی سی ہنسی پھیلی۔

وہ مزید بولا:

"کبھی کبھی نئی نئی شادی میں بیوی کو سبق سکھانا بھی پڑتا ہے۔"

اس بار ہنسی ذرا بلند تھی۔

کچھ دوست قہقہے لگا رہے تھے۔

کچھ رشتے دار مسکرا رہے تھے۔

مگر میری بیٹی کا رنگ اُڑ گیا۔

اور اُس کی انگلیاں میرے بازو میں پہلے سے زیادہ زور سے دھنس گئیں۔

مجھے اچانک سب سمجھ آ گیا۔

نیل۔

خوف۔

جھوٹی مسکراہٹ۔

سب۔

میں آہستہ سے اپنی کرسی سے اٹھی۔

ہال خاموش ہونے لگا۔

میں سیدھی مائیک کی طرف بڑھی جہاں ارسلان کھڑا تھا۔

ارسلان نے مجھے آتے دیکھا تو مسکرا دیا۔

شاید اُسے لگا میں کوئی دعا دینے آ رہی ہوں۔

میں نے مائیک ہاتھ میں لیا۔

اور پورے ہال کے سامنے صرف ایک سوال پوچھا۔

"یہ نیل بھی اُسی سبق کا حصہ ہے؟"

ہال پر جیسے خاموشی گر گئی۔

ارسلان کی مسکراہٹ ایک لمحے کو رکی۔

پھر وہ ہنسنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا:

"آنٹی، آپ بھی نا..."

"نئی نئی شادیوں میں ایسی باتیں ہو جاتی ہیں۔"

میں نے دوسرا سوال کیا۔

"تو یہ نیل آپ نے دیا ہے؟"

اس بار اُس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

اُسے شاید پہلی بار احساس ہوا کہ بات اب مذاق سے آگے جا چکی ہے۔

وہ بولا:

"غلطی ہو گئی۔"

پھر فوراً ہنسا۔

"اتنی سی بات کو مسئلہ بنا دیا۔"

اُسی لمحے ارسلان کے والد کھڑے ہو گئے۔

"غلطی؟"

اُن کی آواز کانپ رہی تھی۔

"شادی کو دو دن ہوئے ہیں۔"

"اور تم ہاتھ اٹھانے کو غلطی کہہ رہے ہو؟"

پہلی بار ارسلان خاموش ہوا۔

اُس کی ماں نے حیرت سے بیٹے کو دیکھا۔

"تم نے واقعی ایمان پر ہاتھ اٹھایا؟"

ارسلان جھنجھلا گیا۔

"امی پلیز..."

"بات کو بڑھائیں مت۔"

مگر اب بات اُس کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔

میرا شوہر اسٹیج پر آیا۔

وہ ایمان کے سامنے کھڑا ہوا۔

اور نہایت آہستگی سے بولا:

"بیٹا۔"

ایمان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

"اگر آج تم خاموش رہیں..."

وہ رک گیا۔

پھر بولا:

"تو کل ہر مار کے بعد یہی کہا جائے گا کہ پہلی بار تو معاف کر دیا تھا۔"

پورا ہال خاموش تھا۔

کوئی ہنس نہیں رہا تھا۔

کوئی ویڈیو نہیں بنا رہا تھا۔

سب صرف ایمان کو دیکھ رہے تھے۔

اور پہلی بار میری بیٹی نے سر اٹھایا۔

اُس نے اپنے شوہر کو دیکھا۔

پھر ہمیں۔

اور آہستہ سے بولی:

"ابو..."

"میں گھر جانا چاہتی ہوں۔"

میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

میں نے آگے بڑھ کر اُس کا دوپٹہ درست کیا۔

بالکل ویسے ہی جیسے بچپن میں سکول بھیجتے وقت کیا کرتی تھی۔

پھر اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

اور کہا:

"چلو بیٹا۔"

اُس دن ولیمہ مکمل نہیں ہوا۔

کھانے لگے رہ گئے۔

تصویریں ادھوری رہ گئیں۔

مہمان خاموشی سے رخصت ہو گئے۔

کچھ لوگوں نے کہا رشتہ ٹوٹ گیا۔

کچھ نے کہا اتنی سی بات پر اتنا بڑا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

مگر ایک ماں جانتی تھی...

اُس دن اُس کی بیٹی کا گھر نہیں ٹوٹا تھا۔

اُس دن صرف اُس کی خاموشی ٹوٹی تھی۔

اور بعض اوقات ایک لڑکی کی خاموشی ٹوٹ جانا...

اُس کی پوری زندگی بچا لیتا ہے۔ ❤️

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in New York?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


New York, NY