AliZai

AliZai

Share

04/12/2026

‏جب ثالث کی اوقات یہ ہو کہ مزاکرات کی ٹیبل پر بیٹھے ایک فریق کو I Want To Salute you کہتا ہو اور دوسرے کے حملوں کی اقوام متحدہ میں مزمت کرتا ہو جو دنیا میں beggars can’t be Choosers کے نام سے جانا جاتا ہو ،وہ اپنی ٹیبل رینٹ پر تو دے سکتا ہے ٹیبل پر رائے نہیں دے سکتا ! رینٹ پر دی گئی ٹیبل اور ثالثی کی میز میں فرق ہوتا ہے ثالث آپشن دیتا ہے ، مستقبل کا خدشہ بتاتا ہے ، دباو ڈالتا ہے ، کیا اردلیوں کی یہ پوزیشن تھی ؟ 21 گھنٹے کی بات چیت کے بعد وینس خالی ہاتھ واپس چلا گیا اور مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے۔ موجودہ حکومت اب بھی اسے “تاریخی سفارتی کوشش” قرار دے کر کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہی ہے، مگر حقیقت بالکل مختلف ہے۔یہ پیشرفت شروع سے ہی بدلتے علاقائی اور عالمی حالات کا نتیجہ تھی، نہ کہ موجودہ رجیم کی کوئی غیر معمولی حکمت عملی۔جب دونوں بڑی طاقتیں بات چیت پر آمادہ ہوئیں تو پاکستان کو صرف میزبان بننے کا موقع ملا۔ لیکن اصل امتحان یہ تھا کہ موجودہ رجیم صرف میزبان نہیں ثالث بنتی اور یہ تاریخی مزاکرات کامیاب کرواتی ناکامی کی وجہ صرف فریقین کا اختلاف نہیں، بلکہ پاکستان کی طرف سے مؤثر ثالثی کی مکمل عدم موجودگی بھی ہے۔ غیر خودمختار خارجہ پالیسی، ایک طرفہ انحصار، عالمی سطح پر پاکستان کی گرتی ساکھ، اور قیادت پر اعتماد کی شدید کمی نے اسے صرف “رینٹل میزبان” بنا دیا۔ ایسے حساس اور اسٹریٹجک معاملات میں قیادت فیصلہ کن ہوتی ہے۔ ایک ایسی قیادت جوعوامی مینڈیٹ رکھتی ہو خودمختار فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو عالمی سطح پر واضح، اصول پسندانہ اور مستقل مؤقف رکھتی ہو اور دونوں فریقین اس پر اعتماد کر سکیں
‏وہی حقیقی ثالث بن سکتی ہے اور پاکستان کے قومی مفادات کو محفوظ رکھ سکتی ہے عمران خان جیسی قیادت اس موقع پر پاکستان کے لیے بہترین متبادل تھی۔ جو وائیٹ ہاوس میں ٹرمپ کے سامنے پریس کو بتا رہا تھا کہ افغانستان کے مسلے کا حل کیوں ضروری ہے اور کیسے ہو گا اُس کی بات پر ٹرمپ بھی مسلسل اثبات میں سر ہلا رہا تھا ! ان کا “Pakistan First” کا واضح مؤقف، اقوام متحدہ میں کلیر سٹانس ! عالمی سطح پر مستقل ساکھ، اور دونوں طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات کی پالیسی انہیں ایک قابلِ اعتماد ثالث بنا سکتی تھی۔ ان کی موجودگی میں پاکستان محض فوٹو سیشن، خوشامدی سلیوٹ اور پریس ریلیز کا موضوع نہ بنتا، بلکہ علاقائی سفارتکاری میں ایک باوقار اور مؤثر کھلاڑی کے طور پر ابھر سکتا تھا۔
‏بدقسمتی سے، موجودہ رجیم نے اس موقع کو صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ، فوٹو شوٹ اور کریڈٹ لینے کے لیے استعمال کیا۔ نتیجہ سامنے ہے مذاکرات ناکام، اور پاکستان کی سفارتی ساکھ مزید کمزور۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم حقیقت دیکھیںحقیقی سفارتی کامیابی قیادت سے ملتی ہے — نہ کہ محض حالات کے رخ بدلنے سے، خوشامدی سلیوٹوں سے، یا “beggars can’t be choosers” والی ذہنیت سے۔

تحریر :- علی زئی

03/03/2026

نیا اسٹیبلشی بیانیہ ایران ہمارا دشمن ہے ، ہماری پالیسی بہترین ہے :-عسکری صحافی مزمل ! علی زئی نے تاریخ بتا دی

03/03/2026

ایرانی فوج میں ایک بھی فیلڈ مارشل نہیں

02/27/2026

ہم دنیا کو بتا رہے ہیں یہ جنگ د ہ ش ۔۔ گر د ی کے خلاف ہے ! جبکہ حکومت کہتی ہے یہ جنگ تندور والوں ، افغانوں کے خلاف ہے ! اچھا جی ؟

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Atlanta?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address

Atlanta, GA