Prudential Management Systems

Prudential Management Systems

แชร์

Safety & security.
7. Training
D.K. Tanoli Cell # 03002563540 Karachi. We are a team of highly experienced and qualified consultants. Our mission is to enhance capability and productivity of our clients in different sectors and make them able to utilize their resources actively to sustain and grow in competitive business environment.


• Human Resource Management
• Process and System Improve

Photos from Prudential Management Systems's post 26/08/2023

Labour and environmental compliance due diligence training program 23 august 2023

15/05/2023

پاکستان میں ماحولیاتی تباہی کا ذمہ دار کون؟
پاکستان کے تما م بڑے شہروں بلکہ اب تو چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں بھی ماحولیاتی آلودگی عروج پر ہے۔ آلودہ پانی پینے اور غیر معیاری ہوا میں سانس لینے کے وجہ سے شہری طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں اور بہت سی بیماریاں جان لیوا بھی ثابت ہو رہی ہیں۔ زرعی زمینوں پر بلڈرز مافیا بڑی تیزی سے رہائشی کالونیاں تعمیر کررہے ہیں جس سے اناج اور پھلوں کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ بڑی بڑی صنعتوں، کارخانوں اور ہسپتالوں کا کیمیکل ملا آلودہ پانی نالوں اور ندیوں کے ذریعے صاف پانی کے دریاؤں ، نہروں اور جھیلوںکو آلودہ کرتا ہوا سمندر میں شامل ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ پورے پاکستان میں پینے کے پانی کی ترسیل ندیوں، دریاؤں اور جھیلوں سے کی گئی ہے اور یہ تما م ندیاں، دریا اورجھیلیں اس آلودگی کا شکار ہیں اور پاکستان کی عام عوام یہی غلاظت ملا آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے اور قسم قسم کی بیماریوں سے دوچار ہے۔
لاکھوں کی تعداد میں چلنے والی گاڑیوں، بجلی کے جنریٹرز اور صنعتوں سے نکلنے نے والے کاربن کی وجہ سے فضاء میں موجود آکسیجن بھی اب کافی حد تک آلودہ ہو چکی ہے جو کہ پھیپھڑوں کی بیماریوں کا سبب بن رہی ہے۔ انسانوں کے ساتھ ساتھ آبی اور جنگلی حیات بھی ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہو رہی ہے اور مجموعی طور پر ملک پاکستان کی قدرتی خوبصورتی بہت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ آبادی میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان تما م مسائل میں بھی دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔
حکومتی سطح پر پاکستان کے چاروں صوبوں میں ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (EPA)قائم کیے گئے ہیں اور ماحول کی بقاء کے لیے قوانین بھی بنائے گئے اور ان اداروں کو اختیارات بھی دیے گئے ہیں کہ وہ ماحول کے تحفظ کے لیے قوانین پر عمل درآمدکروائیں اور جو لوگ یا صنعتیں ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتے ہیں ان کو سزا بھی دیں اور جرمانہ بھی کریں تاکہ لو گ ماحولیاتی تباہی سے باز رہیں۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں ماحول کے تحفظ کی براہ راست ذمہ داری ان ایجنسیوں پر عائد ہوتی ہے مگر یہ ایجنسیاں اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا رہی ہیں ان ایجنسیوں کے ملازمین رشوت کے عوض بڑے بڑے ماحول دشمن پروجیکٹ کی منظوریاں دے رہے ہیں اور اپنی پسند کی ماحولیاتی لیبارٹریز کو کاروباری لائسنس جاری کر رہے ہیں جن کے ساتھ ان کا ذاتی مفاد جڑا ہوا ہے۔ پورے پاکستان میں بہت سی انڈسٹریز ایسی ہیں جن کا فضلہ او ر مختلف مشینوں کے چلنے سے خارج ہونے والی ماحول دشمن گیسیں ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہی ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کے اداروں کی طرف سے زیادہ تر انڈسٹریز کو ماحولیاتی پروٹیکشن آرڈرز صرف اس لیے ایشو کیے جاتے ہیں کہ ان کو ڈرا کر ان سے پیسے وصول کیے جائیں۔
ماحولیاتی تحفظ کے ان اداروں کی طرف سے عوام کی رہنمائی کے لیے کوئی آگاہی مہم نہیں ہے اور نہ ہی ان کی کوئی ویب سائیٹ موجود ہے کہ عوام کوئی رہنمائی لیں سکیں۔ہر صوبے میں EPA کی ایک ویب سائیٹ ہونا چایئے اور عام عوام اگر ماحول سے متعلق کوئی معلومات لینا چائیں یا کوئی شکایت کرنا چائیں تو اس کے لیے ایک ہلپ لائن نمبر موجود ہونا چایئے۔
آج پاکستان کے تقریباََ تمام دریا آلودہ ہو چکے ہیں ان میں کہیں سے ہسپتالوں کے گندگی شامل ہو رہی ہے، کہیں سے فیکٹریوں کی اور کہیں سے رہائشی کالونیوں کا کچرا شامل ہو رہا ہے۔ رہائشی کالونیوں نے ذرعی زمین برباد کر دی ہے۔ سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں، بجلی کے جنریٹرز اور کارخانوں کی مشنریز سے خارج ہونے والے حد سے بڑے ہوئے کاربن نے آکسیجن کو سانس لینے کے قابل نہیں چھوڑا۔
حکومت وقت کو موجودہ مسائل کا ادراک ہونا چائیے اور جہاں جہاں پر عملے کی طرف سے ماحولیاتی تحفظ میں نااہلی کا مظاہرہ ہورہا اس کا نوٹس لینا چائیے، جہاں مذید قانون سازی کی ضرورت ہے وہاں قانون سازی کرنی چائیے۔ ماحولیاتی تحفظ کے اداروں اور ان کے ذیلی دفاتر میں اہل، قابل اور ایمان دار لوگوں کو بھرتی کرنا چایئے اور ان کے کاموں کے احتساب کا بھی کوئی نظام ہونا چایئے تاکہ یہ ادارے اپنا موثر کردار ادا کریں۔
ہماری طرح باتی دنیا میں بھی ماحولیاتی مسائل ہیں مگر ترقی یافتہ ممالک میں عوام اور حکومت کی شعوری کوششوں کی وجہ سے یہ مسائل قابو میں ہیں۔ ان ممالک میں حکومتوںکے ساتھ ساتھ عام عوام بھی ماحول کی بقا کے لیے سنجیدگی سے کا م کر رہی ہے۔ہماری عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چایئے اور ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے اپنا کر دار ادا کرنا چائیے۔

دلاور خان تنولی ایڈوکیٹ

14/04/2023

Most of the brands who are claiming themselves socially & environmentally responsible need to change their audits and factory verification approaches. Social and environmental compliance verification should be more practical and result oriented. Currently, audit/assessments are conducted frequently in the factories but environmental and social conditions remain same after many audits. In this regard, following recommendations can be considered by the brands to achieve sustainable environmental and social objectives.
• The long and hectic audit checklists should be reduced/eliminated so that auditors can give more time on verification activities rather filling out checklists and reporting formats.
• 100% compliant strategy should not be adopted. At the initial stage, factories should be given flexibility to remain open and transparent during audit and compliance verification process.
• Factories should not be marked as failed due to low compliance score. Factories should be given opportunity to improve in social and environmental compliance. Transparency and cooperation can be increased by doing this.
• Compliance scoring/achievement should be linked with orders placement and business enhancement.
• Auditors/verifiers should be enough capable and knowledgeable persons with reasonable relevant educational background and experience.
• Auditing and capacity building activities should be conducted parallel. Training from the brands end should be as important as audits.
• Code of conducts should be country specific to avoid confusions.
Professional are requested to give their valued comments and suggestions for improvement in social and environmental compliance.
Thank you. Dilawar Khan Tanoli

ต้องการให้ธุรกิจของคุณ ธุรกิจ ขึ้นเป็นอันดับหนึ่ง วาณิชย์ ใน Dha?
คลิกที่นี่เพื่อเป็นสมาชิก?

เว็บไซต์

ที่อยู่

A-1, 1st Floor, 11-C, South Park Avenue, Phase II
Dha