Sheru
20/08/2025
ہجرت اُسے ہی سمجھ آتی ہے جو کرتا ہے ۔ پڑھیے ڈاکٹر سعد حمید کیا لِکھتے ہیں ۔
شروعات ہوئی تھی گورنمنٹ کالج لاہور کے ایک طالب علم کی پنجابی تقریر سے!
ایک مباحثے میں نوجوان نے کہا اگر دانہ ہوتا تو پرندے گھونسلہ چھوڑ کر نہ جاتے (یعنی ہم وطن بے وطن نہ ہوتے) ۔
چودہ اگست آیا۔ ذاتی تجربات پر مبنی کچھ تحاریر نظر سے گزریں جس میں لکھنے والوں نے بتایا کہ پاکستان میں واقعی دانے نہیں تھے اور انہیں بیرون ملک آنا پڑا۔
بعض نے کہا معاملہ خوراک کی کمی نہیں بلکہ جلا وطنی اختیار کرنے والوں کا اپنا لالچ وجہ بنا۔
فی الوقت میں بھی ایک تارک وطن ہوں اور میرے لئے یہ کہانی تب شروع ہوئی جب میرے دادا مرحوم نے سن سنتالیس میں جالندھر سے ہجرت کی۔ لاہور سے فیصل آباد جاتی بڑی سڑک پر بستے ایک گاؤں میں پڑاؤ ڈالا اور مٹی میں بیج بو کر خود دانے اگانے کا انتظام کیا۔ کسان خاندان سے تعلق پر فخر ہے کہ محنت سے کمانے والوں کا خون ہوں۔
ابّو سے میں نے کبھی پوچھا نہیں (مہلت بھی نہیں ملی) کہ دادا جی کے گھر دانے کم تھے جو آپ سرحدوں کی حفاظت کے لئے چلے گئے یا کوئی اور وجہ تھی؟ خیر ہمارے لئے رزق کا انتظام کرتے کرتے ایک دن والد صاحب بھی رخصت ہوئے۔ رازق تو اللّٰہ ہے۔ روٹی ملتی رہی۔
پھر میرا وقت آیا، جسے کہتے ہیں پریکٹیکل لائف میں داخل ہونا۔ میرا نسب، دوستیاں اور حالات ایسے رہے کہ میں خود کو پاکستان کے ان چند فیصد میں شامل کر سکتا ہوں کہ جنہوں نے بہترین طرز زندگی دیکھا۔ میرا کوئی ایسا اسمگلنگ کا کاروبار نہیں تھا جس کیلئے فائلوں کو پہئے لگانے پڑتے۔ البتہ سرکاری میڈیکل کالج کی تعلیم، بعد ازاں ملازمت اور گھر بار سے متعلق چھوٹے بڑے جائز دفتری کام " کہہ کہلا کر، اور سُن سنا " کر نکلتے رہے۔ سیر کرنے جانا ہو تو فوجی دوستوں کے توسط سے ریسٹ ہاؤس میں قیام، کھانے کا موڈ ہو تو چناب کلب والے یاروں کا ممبر شپ نمبر، سرکاری دفاتر تک رسائی ، چند اہم فون نمبر وغیرہ ، غرض کہ وہ سب کچھ جو ایک با اثر شخص محدود پیمانے پر تصویر کر سکتا ہے موجود تھا۔ یعنی میرے آشیانے میں دانے تھے اور وافر تھے ( کم از کم میں سرکاری نوکری کے ایک ڈیڑھ لاکھ کو بھی کافی سمجھنے والوں میں سے ہوں)۔
یہ سب دیکھتے کرتے دماغ نے بہت سوال اٹھائے ۔ یہ سب میرے لئے ہی کیوں؟ ان سب کیلئے کیوں نہیں جنہیں پیدائش پر میرے برابر سہولیات مہیا نہ ہو سکیں؟ یا جنہیں میرے سے بہت زیادہ مِلا ہوا ہے وہ مجھے ایسا ہیچ کیوں سمجھتے ہیں؟ کیوں جہاں کوئی کام ہوتا ہے وہاں میرا عہدہ، دولت اور شان کے حساب سے مجھے برتاؤ ملتا ہے؟ کیوں میرے ہی ہم عمر میز کے دوسری جانب کرسی پر براجمان ہو کر قائد اعظم کی تصویر کے نیچے ان کی ہی تصویر والا نوٹ پکڑنے سے قبل اور بعد میں مختلف برتاؤ کرتے ہیں؟
پھر سوال مزید خطرناک ہوتے گئے ، کیوں حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ دینے والے دورانِ ملازمت اور ریٹائرمنٹ کے بعد یورپ و امریکہ میں جائیداد بناتے ہیں ؟ کیوں دفتری بابو سیلاب کے روٹ مہینوں قبل جاننے کے باوجود اس کے آگے بندھ نہیں باندھتے ؟ کیوں مکہ، مدینہ، حرمین اسٹور نام رکھنے والے سودی/خیانتی کاروبار کے باوجود اپنی تدفین جنت البقیع میں چاہتے ہیں ؟
ایک استاد نے کہا تھا سوال زیادہ ہو جائیں تو مزید سوچنا چھوڑ دو۔ میں نے چھوڑ دیا۔ اور فیصلہ کیا کہ ان کے دیس جا کر دیکھوں گا جو دو صدیاں قبل ہم جیسے ہوشیار انسانوں پر حکومت کر گئے۔ دو سال قبل میں برطانیہ آ گیا۔ کچھ جواب ملے ہیں، کچھ شاید کبھی نہ مل پائیں۔
گوروں کے اسپتالوں میں کام کرتے کبھی بہت باریک قسم کے جملے سُننے کو مل جاتے ہیں جو واپس جانے کا خیال دل میں لاتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں بیٹھے کالے انگریز بابو ایک بدتر مخلوق ہیں۔ اور اوپر سے خلائی مخلوق کا سایہ چھٹنے پر نہیں آتا۔ مجھے اپنے ایمان اور اپنی اولاد کی اخلاقی فکر بھی ہوتی ہے، لیکن اپنے دیس میں رائج منافقت سے بھی خوف آتا ہے۔ میرے کچھ پیارے وہاں زندہ یا سپردِ خاک نہ ہوں تو واپس جانے کی خواہش نہ کروں۔
سب ہرا نہیں ہوتا۔ ہر ہجرت دکھ رکھتی ہے۔ میں بہت کچھ چھوڑ آیا ہوں۔ نجانے پھر دیکھ پاؤں کہ نہیں۔ گو کہ اب وہ بھی نہیں رہے مگر مجھے اپنے دادا کے امرود کے باغات یاد آتے ہیں۔ اپنے دوست یاد آتے ہیں۔ کچھ بے غرض رشتے ستاتے ہیں۔ کتنے ہی محبت کرنے والے صاحب فراش ہیں اور میں خبر گیری نہیں کر سکتا۔
میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسئلہ دانوں کی کمی نہیں بلکہ ان کی انسانی تقسیم کا ہے :
خدا کا رزق تو ہر گز زمین پر کم نہیں یارو
مگر یہ کاٹنے والے ! مگر یہ بانٹنے والے !
آبائی قبرستان میں پرکھوں کے پاس خود کیلئے جو آرام گاہ سوچی تھی وہ مٹی بھی شاید کسی اور نے اوڑھ لی ہو۔ اب فرق بھی نہیں پڑتا، یہاں برطانیہ میں تو شاید کونسل والے ٹیکس کے بدلے قبر کا خیال رکھیں۔ وہاں اپنے دیس میں کسی جاگیر دار ، کسی جرنیل، کسی سیاست دان، کسی بیوروکریٹ ، کسی سرمایہ دار کی فصلیں یا فیکٹریاں بچانے کیلئے میرے گاؤں کی جانب سیلابی ریلا موڑ دیا گیا تو پانی میں تیرتی میری لمبی ہڈیاں بھی عجیب لگیں گی۔۔۔۔
~ سعد حمید
11/12/2023
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
Cliquez ici pour réclamer votre Listage Commercial.
Type
Contacter l'entreprise
Téléphone
Site Web
Adresse
Dakar
0000