World Time
📖 اسلامی احادیث، قرآنی آیات اور ایمان افروز اسلامی معلومات
🤲 دینِ اسلام کی خوبصورت تعلیمات عام کرنا ہمارا مقصد ہے
❤️ روزانہ نئی اسلامی پوسٹس اور ریلز
🔔 پیج کو فالو کریں اور ثوابِ جاریہ میں حصہ دار بنیں
07/06/2026
سنن ابوداؤد
کتاب: نماز کا بیان
باب: لڑ کے کو نماز پڑھنے کا کب حکم کیا جائے
حدیث نمبر: 494
حدیث نمبر: 494 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي ابْنَ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُرُوا الصَّبِيَّ بِالصَّلَاةِ إِذَا بَلَغَ سَبْعَ سِنِينَ، وَإِذَا بَلَغَ عَشْرَ سِنِينَ فَاضْرِبُوهُ عَلَيْهَا.
ترجمہ:
سبرہ بن معبد جہنی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بچے سات سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو ، اور جب دس سال کے ہوجائیں تو اس (کے ترک) پر انہیں مارو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٨٢ (٤٠٧) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٤١ (١٤٧١) ، (تحفة الأشراف : ٣٨١٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٠٤) (حسن صحیح )
Translation:
Narrated As-Saburah (RA) : The Prophet ﷺ said: Command a boy to pray when he reaches the age of seven years. When he becomes ten years old, then beat him for prayer.
07/06/2026
سنن الترمذی
کتاب: جہاد کا بیان
باب:
حدیث نمبر: 1669
حدیث نمبر: 1669 حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ الْفِلَسْطِينِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى اللهِ مِنْ قَطْرَتَيْنِ، وَأَثَرَيْنِ: قَطْرَةٌ مِنْ دُمُوعٍ فِي خَشْيَةِ اللهِ، وَقَطْرَةُ دَمٍ تُهَرَاقُ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَأَمَّا الْأَثَرَانِ: فَأَثَرٌ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَأَثَرٌ فِي فَرِيضَةٍ مِنْ فَرَائِضِ اللهِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ:
ابوامامہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو دو قطروں اور دو نشانیوں سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں ہے : آنسو کا ایک قطرہ جو اللہ کے خوف کی وجہ سے نکلے اور دوسرا خون کا وہ قطرہ جو اللہ کے راستہ میں بہے، دو نشانیوں میں سے ایک نشانی وہ ہے جو اللہ کی راہ میں لگے اور دوسری نشانی وہ ہے جو اللہ کے فرائض میں سے کسی فریضہ کی ادائیگی کی حالت میں لگے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٤٩٠٦) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (3837) ، التعليق الرغيب (2 / 180) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1669
Translation:
Sayyidina Abu Umamah reported that the Prophet ﷺ said, “Nothing is dearer to Allah than two drops and two marks. A drop of tears from fear of Allah, and a drop of blood shed in Allah’s path. As for the two marks, one is what a man may get in jihad (through a wound, etc) and the other on discharging one of the obligatory duties.”
07/06/2026
سنن نسائی
کتاب: زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
باب: جس کی ناک کٹ جائے کیا وہ شخص سونے کی ناک بنا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 5164
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ، عَنْ جَدِّهِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ، أَنَّهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ، فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ،فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ.
ترجمہ:
عرفجہ بن اسعد (رض) سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جنگ کلاب کے دن ان کی ناک کٹ گئی، تو انہوں نے چاندی کی ناک بنوا لی، پھر اس میں بدبو آگئی تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں سونے کی ناک بنوانے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الخاتم ٧ (٤٢٣٢، ٤٢٣٣) ، سنن الترمذی/اللباس ٣١ (١٧٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٩٥) ، مسند احمد (٥/١٣، ٢٣) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: کلاب ایک چشمے یا کنویں کا نام ہے، زمانہ جاہلیت میں اس کے پاس ایک عظیم جنگ لڑی گئی تھی۔ اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے علماء نے بوقت حاجت سونے کی ناک بنوانے اور دانتوں کو سونے کے تار سے باندھنے کو مباح قرار دیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5161
Translation:
It was narrated from Arafah bin Asad that: His nose was cut off at the battle of Al-Kulab during the Jahiliyyah, so he wore a nose made of silver, but it began to rot, so the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) told him to wear a nose made of gold.
07/06/2026
سنن نسائی
کتاب: زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
باب: خواتین کو کونسی خوشبو لگانا ممنوع ہے؟
حدیث نمبر: 5129
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ وَهُوَ ابْنُ عُمَارَةَ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْالْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلَى قَوْمٍ لِيَجِدُوا مِنْ رِيحِهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ.
ترجمہ:
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو عورت عطر لگائے اور پھر لوگوں کے سامنے سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ زانیہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الترجل ٧ (١٤٧٣) ، سنن الترمذی/الأدب ٣٥ (الاستئذان ٦٩) (٢٧٨٦) ، (تحفة الأشراف : ٩٠٢٣) ، مسند احمد (٤/٣٩٤، ٤٠٠، ٤٠٧، ٤١٣، ٤١٤، ٤١٨) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: یعنی وہ عطر مہک والا ہو، اور مہک والا عطر لگا کر باہر نکلنا عورتوں کے لیے حرام ہے، گھر میں شوہر کے لیے لگا سکتی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5126
Translation:
It was narrated that Al-Ashari said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Any woman who puts on perfume then passes by people so that they can smell her fragrance then she is an adulteress.
07/06/2026
سنن نسائی
کتاب: زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
باب: مردوں اور خواتین کی خوشبو میں فرق سے متعلق
حدیث نمبر: 5120
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الْحَفَرِيَّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طِيبُ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ، وَخَفِيَ لَوْنُهُ، وَطِيبُ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ، وَخَفِيَ رِيحُهُ.
ترجمہ:
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک ظاہر ہو اور رنگ چھپا ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور مہک چھپی ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/النکاح ٥٠ (٢١٧٤) ، سنن الترمذی/الأدب ٣٦ (الاستئذان ٧٠) (٢٧٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١٥٤٨٦) ، مسند احمد (٢/٤٤٧، ٥٤٠) (حسن) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے ) وضاحت : ١ ؎: مردوں کے لیے رنگلین خوشبو اس لیے منع ہے کہ رنگ عورتوں کی چیز ہے جو مردانہ وجاہت کے خلاف ہے، رنگدار خوشبو جیسے زعفران اور خلوق جس کا تذکرہ حدیث نمبر : ٥١٢٣ (وما بعدہ) میں آ رہا ہے، سند کے لحاظ سے گرچہ وہ روایتیں ضعیف ہیں مگر اس حدیث سے ان کے معنی کو تقویت حاصل ہو رہی ہے اور عورتوں کے لیے یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب عورت گھر سے باہر نکلے، ورنہ شوہر کے ساتھ گھر میں رہتے ہوئے ہر طرح کی خوشبو استعمال کرسکتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5117
Translation:
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The perfume for men is that whose scent is apparent while its color is hidden, and the perfume for women is that whose color is apparent, while its scent is hidden.
07/06/2026
سنن نسائی
کتاب: زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ
باب: مونچھیں کترنے سے متعلق
حدیث نمبر: 5050
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ صُهَيْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ لَمْ يَأْخُذْ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا.
ترجمہ:
زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جس نے مونچھیں نہیں کاٹیں وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5047
Translation:
It was narrated that Zaid bin Al-Arqam said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever does not take from his mustache, he is not one of us.
07/06/2026
سنن نسائی
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: تجارت سے متعلق احادیث
حدیث نمبر: 4461
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، أَنْ يَفْشُوَ الْمَالُ، وَيَكْثُرَ، وَتَفْشُوَ التِّجَارَةُ، وَيَظْهَرَ الْعِلْمُ، وَيَبِيعَ الرَّجُلُ الْبَيْعَ، فَيَقُولَ: لَا حَتَّى أَسْتَأْمِرَ تَاجِرَ بَنِي فُلَانٍ، وَيُلْتَمَسَ فِي الْحَيِّ الْعَظِيمِ الْكَاتِبُ فَلَا يُوجَدُ.
ترجمہ:
عمرو بن تغلب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ مال و دولت کا پھیلاؤ ہوجائے گا اور بہت زیادہ ہوجائے گا، تجارت کو ترقی ہوگی، علم اٹھ جائے گا ١ ؎، ایک شخص مال بیچے گا، پھر کہے گا : نہیں، جب تک میں فلاں گھرانے کے سوداگر سے مشورہ نہ کرلوں، اور ایک بڑی آبادی میں کاتبوں کی تلاش ہوگی لیکن وہ نہیں ملیں گے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٧١٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اکثر نسخوں میں يظهر العلم ہے، اور بعض نسخوں میں يظهر الجهل ہے، یعنی لوگوں کے دنیاوی امور و معاملات میں مشغول ہونے کے سبب جہالت پھیل جائے گی، اور دوسری احادیث کے سیاق کو دیکھتے ہوئے يظهر العلم کا معنی یہاں علم کے اٹھ جانے یا ختم ہوجانے کے ہوں گے ، واللہ اعلم۔ ٢ ؎: یعنی ایسے کاتبوں کی تلاش جو عدل و انصاف سے کام لیں اور ناحق کسی کا مال لینے کی ان کے اندر حرص و لالچ نہ ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4456
Translation:
It was narrated that Amr bin Taghilb said: "The Messenger of Allah ﷺ said: One of the portents of the Hour will be that wealth becomes widespread and abundant, and trade will become widespread, but knowledge will disappear. A man will try to sell something and will say: "No, not until I consult the merchant of banu so and so: and People will look throughout a vast area for a scribe and will not find one." (Sahih)
07/06/2026
سنن نسائی
کتاب: گرہن کے متعلق احادیث کی کتاب
باب: چاند گرہن اور سورج گرہن کا بیان
حدیث نمبر: 1460
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَعَالَى لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ.
ترجمہ:
ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو کسی کے مرنے اور کسی کے پیدا ہونے سے گرہن نہیں لگتا، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الکسوف ١ (١٠٤٠) ، ٦ (١٠٤٨) ، ١٧ (١٠٦٣) ، اللباس ٢ (٥٧٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٦١) ، مسند احمد ٥/٣٧، ویأتی عند المؤلف بأرقام : ١٤٦٤، ١٤٦٥، ١٤٩٢، ١٤٩٣، ١٥٠٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1459
Translation:
It was narrated that Abu Bakrah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The sun and moon are two signs of Allah (SWT), the Most High, and they do not become eclipsed for death or birth of anyone, rather Allah (SWT), the Mighty and Sublime, strikes fear into His slaves through them."
07/06/2026
سنن ابن ماجہ
کتاب: صدقات کا بیان
باب: قرض دینے کی فضیلت
حدیث نمبر: 2431
حدیث نمبر: 2431 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَاهِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى بَاب: الْجَنَّةِ مَكْتُوبًا الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالْقَرْضُ بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَا بَالُ الْقَرْضِ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ، قَالَ: لِأَنَّ السَّائِلَ يَسْأَلُ وَعِنْدَهُ، وَالْمُسْتَقْرِضُ لَا يَسْتَقْرِضُ إِلَّا مِنْ حَاجَةٍ.
ترجمہ:
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا دیکھا کہ صدقہ کا ثواب دس گنا ہے، اور قرض کا اٹھارہ گنا، میں نے کہا : جبرائیل ! کیا بات ہے ؟ قرض صدقہ سے افضل کیسے ہے ؟ تو کہا : اس لیے کہ سائل سوال کرتا ہے حالانکہ اس کے پاس کھانے کو ہوتا ہے، اور قرض لینے والا قرض اس وقت تک نہیں مانگتا جب تک اس کو واقعی ضرورت نہ ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٧٠٣، ومصباح الزجاجة : ٨٥٤) (ضعیف جدا) (خالد بن یزید متروک ہے، یحییٰ بن معین نے تکذیب کی ہے، نیز ملاحظہ ہو : ٣٦٣٧ )
Translation:
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "On the night on which I was taken on the Night Journey (Isra), I saw written at the gate of Paradise: Charity brings a tenfold reward and a loan brings an eighteen fold reward. I said: O Jibril! Why is a loan better than charity? He said: Because the beggar asks when he has something, but the one who asks for a loan does so only because he is in need."
Click here to claim your Sponsored Listing.
Website
Address
Riyadh
44000