Advertising guru
اے کالی ماں کے بیٹے۔۔۔
تاریخ کا ایسا واقعہ جو دل چیر دیتا ہے۔
حضرت ابوذر غفاری رض نے حضرت بلال سے کہا "اے کالی ماں کے بیٹے تو بھی مجھے ٹوکتا ہے"
یہ بات بلال کا سینہ چیر گئی اور یہ بات سن کر حضرت بلال رونے لگے ..
اور کہا "میں یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤں گا"
اور پھر رحمۃ للعالمین نے جب یہ سنا تو آپکے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا اور فرمایا
"اے ابوذر تو نے بلال کو ماں کے رنگ کا طعنہ دے کر اسکی تحقیر کی ہے تیرے اندر ابھی تک جاہلیت موجود ہے"
آپ (ص) کی زبان مبارک سے یہ سن کر ابوذر کی ہچکی بندھ گئی اور عرض کیا "یارسول اللہ میرے لیے بخشش کی دعا کیجیے" اور پھر روتے ہوئے بلال کے گھر کی جانب دوڑ لگادی
بلال کے پاس پہنچ کر اپنا چہرہ زمین پر رکھ دیا اور روتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے
"اللہ کی قسم میں اپنا چہرہ اس وقت تک زمین سے نہیں اٹھاؤں گا جب تک بلال کا پاؤں اس چہرے پر نہیں پڑتا
اے بلال آپ عزت والے ہیں اور ابوذر ذلیل ہے"
اور پھر بلال نے پاس آکر ابوذر کا چہرہ چوم لیا اور کہا میں ایسے چہرے پر پاؤں نہیں رکھ سکتا جو رب کریم کے سامنے جھکتا ہو اور پھر دونوں بغل گیر ہو کر دیر تک روتے رہے ۔
کبھی غور کیا آج ہماری کیا کیفیت ہے؟
ھم کتنی دفعہ دوسروں کی تذلیل کرتے ہیں ؟
کبھی فرقہ و سیاسی گروہ کی بنیاد پر ، کبھی رنگ ونسل کی بنیاد پر ، کبھی برادری اور قومیت کی بنیاد پر کبھی علاقائی بنیاد پر کبھی مالی حالت کی بنیاد پر کبھی علم کی بنیاد پر اور کبھی عمل کی بنیاد پر کہ جیسے ہم نے ہی تقویٰ کا سرٹیفکیٹ لے رکھا ہے
اور پھر زندگی میں کم ہی وقت ملتا ہے کہ ہم اس پر معذرت کریں اور اعتراف کریں کہ ہم نے زیادتی کی تھی
اللہ پاک ہم سب کو اپنے اندر کی "میں" ختم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین،
*** مکہ سے کربلا کا فاصلہ تقریبا 1381 کلومیٹر ہے آج یہ فاصلہ گاڑی کے زریعہ 18 گھنٹوں میں طے کیا جاسکتا ہے لیکن 60 ہجری میں یہ سفر کافی طویل اور دشوار تھا۔امام حسین ع نے اپنا سفر 8 ذوالحجہ کو شروع کیا۔ مکہ سے روانگی کے بعد تاریخ کی کتابوں میں 14 ایسے مقامات کا ذکر ہے جن پر امام نے یا تو قیام کیا یا لوگوں کو خطبات دیے۔ یہ مقامات درج ذیل ہیں۔ ***
*** نمبر 1: الصفا ***
یہ پہلا مقام تھا امام اس جگہ پر عرب کے مشہور شاعر
الفرزدق سے ملے اور اُس سے کوفہ کے حالات پُوچھے ،
شاعر بولا ” کوفہ والوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور اُن
کی تلواریں آپ کے خلاف ہیں”۔
جس پر امام نے جواب دیا اللہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ میں اپنا سب کچھ اس پر چھوڑتا ہوں کیونکہ اسی نے مجھۓ حق کے رستے پر چلنے کا عندیا دیا ہے۔***
*** نمبر 2: ذات عرق ***
مکہ سے کوفہ جاتے ہُوئے یہ دوسرا مقام ہے جو مکہ سے
تقریباً 92 کلومیٹر پر ہے۔ اس مقام پر امام کے چچا زاد بھائی عبداللہ ابن جعفر اپنے دوبیٹوں عون ع اور محمد ع کو ان کی ماں حضرت زینب علیہ السلام کے پاس لائے تاکہ وہ امام کی مدد کر سکیں۔ انہوں نے امام کو مدینہ واپس لوٹنے پر قائل کرنےکی کوشش مگر امام نے جواب دیا” میری منزل کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ***
*** نمبر 3: حاجریا بطن الروما ***
یہ مقام ذات عرق سے کُچھ کلومیٹر آگے ہے اس مقام پر امام نے قیس بن مسہر کو ایک خط دے کر کوفہ بھیجا اور عراق سے آنے والے عبداللہ بن مطیع سے ملاقات کی۔ جب اس نے امام کے ارادوں کے بارے میں سنا تو انہیں آگے جانے سے روکا اور بولا ”کوفہ والوں پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا وہ اہل وفا میں سے نہیں" مگر امام نے اپنا سفر جاری رکھا۔***
*** نمبر 4: زرود ***
حجاز کی پہاڑیوں پر یہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا اور یہاں پر حجاز کی پہاڑیوں کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے اور عرب کا تپتا ریگستان شروع ہوتا ہے۔ یہاں امام کی مُلاقات زُہیر ابن القین سے ہُوئی۔ اُنہیں جب پتہ چلا کہ امام کس مقصد کے لیے جارہے ہیں تو اپنا تمام سامان اپنی بیوی کے حوالے کیا اور کہا کہ تم گھر جاؤ میری خواہش ہے کہ میں امام کے ساتھ شہید ہوجاؤں۔ ***
*** نمبر 5: زبالہ ***
اس مقام پر امام کی مُلاقات دو آدمیوں سے ہُوئی جن کا
تعلق عرب کے قبیلہ اسدی سے تھا انہوں نے امام کو کوفہ والوں کے ہاتھوں جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر دی۔ امام نے فرمایا "بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔***
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
12722
26/06/2025