Knowledge Float

Knowledge Float

Share

21/03/2026

🚨 بریکنگ نیوز: ایران کا بحیرۂ ہند میں امریکی و برطانوی اڈے پر میزائل حملہ!
ایران کی جانب سے عید کے موقع پر ایک ایسی فوجی کارروائی جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا:
ہدف: ڈیگو گارشیا (بحیرۂ ہند میں واقع کلیدی امریکی و برطانوی فوجی اڈہ)۔
فاصلہ: تقریباً 4,500 کلومیٹر — یہ وہی فاصلہ ہے جو تہران اور لندن کے درمیان ہے۔
اہمیت: ایران نے پہلی بار اس قدر طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا استعمال کر کے اپنی دفاعی صلاحیت کا لوہا منوا لیا ہے۔
یہ کارروائی برطانیہ کی جانب سے امریکہ کو اپنے اڈے ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دینے کے جواب میں کی گئی ہے۔
رعایت اللہ فاروقی صاحب

17/03/2026

عشق رسول اور عقل:

قیامت تک جب عشق کی بات ہو گی تو سمجھ جانا بس محمد عربی کا غلام ہوگا اور اگر یہی عشق عقل کی بنیاد پر ہوگا تو ابولہب ہی بنے گا۔
شاید اسی موقع کیلئے اقبال نے لکھا کہ:

با خدا در پردہ گویم با تو گویم آشکار
یا رسول اللہ او پنہان و تو پیداے من

یارسول اللہ میں خدا سے تو پردے میں بات کرتا ہوں مگر آپ سے تو کھلم کھلا عرض کرتا ہوں یا رسول اللہ وہ مجھ سے پنہاں سے اور آپ آشکار۔

اسی سلسلے کو اقبال کے عشق میں دیکھیں تو اقبال پھر لکھتا ہے۔

ہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبالؔ
اُڑا کے مجھ کو غبارِ رہِ حجاز کرے

اقبال کہتا میں مدینے پاک جانے کی سکت نہیں رکھتا لیکن ایک طریقہ ہے کہ میں مر جاؤں میرا جسم ختم ہو کر مٹی جو جائے، پھر ہندوستان سے ایک ہوا چلے اور میرے جسم کی مٹی اٹھا کر اس راستے پر پھینک دے،جو رستہ مدینہ پاک جاتا، پھر وہاں سے حاجی گزریں ان کے پیروں سے وہ مٹی لگے تو میں مدینہ پاک پہنچے۔

یہ عشق رسول ہی ہے جو دنیا و آخرت کی کامیابی کی کنجی ہے ورنہ ایسے ہی تو خدا نے قبر میں اپنی ذات کے بارے سوال:
تیرا رب کون ہے۔
کے بعد اپنے حبیب کی محبت کا سوال رکھا کہ:
بتاؤ اس شخص/ذات کے بارے تمہارا کیا عقیدہ/ایمان تھا۔

مجھے تو لگتا اسی موقع کو دیکھتے ہوئے ہی پھر اقبال نے یہ شعر بھی لکھا کہ:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

15/03/2026

وہ عثمانی سلطان جس کی گواہی قاضی نے رد کر دی تھی!
تاریخ کی جستجو رکھنے والے دوستو،ہم تاریخ کے اُس دور میں کھڑے ہیں جب شہرِ بورصہ سلطنتِ عثمانیہ کا اہم سیاسی و روحانی مرکز تھا۔ یہ سلطان بایزید اوّل کا زمانہ تھا، جو تاریخ میں یلدرم (صاعقہ) کے لقب سے مشہور ہیں۔
سلطان بایزید اوّل وہ عظیم عثمانی فرمانروا تھے جنہوں نے اپنے مختصر مگر انتہائی تیز رفتار عہدِ حکومت میں بلغاریہ، بوسنیا، سلانیك (تھسالونیکی) اور البانیہ جیسے اہم یورپی علاقوں کو سلطنتِ عثمانیہ میں شامل کیا۔ یہ وہی سلطان ہیں جنہوں نے یورپ کی متحدہ صلیبی افواج کو ایسی عبرتناک شکست دی
جو صدیوں تک یورپی تاریخ میں یاد رکھی گئی۔
یہ صلیبی لشکر پوپ بونیفاس نہم (Boniface IX) کی اپیل پر جمع ہوا تھا،
جس میں پندرہ یورپی ریاستیں شریک تھیں، جن میں انگلینڈ، فرانس، ہنگری، جرمنی اور دیگر طاقتور سلطنتیں شامل تھیں۔
یہ فیصلہ کن معرکہ
جنگِ نیکوپولس1396ء میں پیش آیا، اور اسے اکثر مؤرخین قرونِ وسطیٰ کی آخری عظیم صلیبی جنگ قرار دیتے ہیں۔
ایک دن یہی فاتحِ اعظم کسی ذاتی یا عوامی معاملے میں بطورِ گواہ مشہور قاضی، فقیہ اور جلیل القدر عالمِ دین شمس الدین فناریؒ کی عدالت میں حاضر ہوئے۔ یہ وہی شمس الدین فناری ہیں جو بعد میں سلطنتِ عثمانیہ کے پہلے شیخ الاسلام مقرر ہوئے اور فقہِ اسلامی میں غیر معمولی مقام رکھتے تھے۔ سلطان عدالت میں داخل ہوئے، نہ شاہی رعب، نہ محافظوں کا ہجوم، سر جھکائے کھڑے ہوئے، اور اپنے ہاتھ باندھ لیے بالکل ایک عام مسلمان گواہ کی طرح یہ منظر خود اس بات کی دلیل تھا۔ کہ عثمانی نظام میں قانون اور شریعت، سلطان سے بھی بالا تھے۔
قاضی شمس الدین فناریؒ نے سلطان کی طرف دیکھا اور غیر معمولی جرأت کے ساتھ فرمایا:
“اے سلطان!
آپ کی گواہی قبول نہیں کی جا سکتی، کیونکہ آپ باجماعت نماز کے پابند نہیں، اور جو شخص بلا عذر جماعت کی نماز چھوڑ دے، وہ اپنی گواہی میں بھی جھوٹ بول سکتا ہے۔”
یہ الفاظ عدالت میں موجود ہر شخص پر صاعقہ بن کر گرے، یہ محض ایک قانونی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ایک فاتح سلطان کی شان میں بظاہر بہت بڑی بات تھی۔ سب ساکت رہ گئے۔ سب کو یہی گمان تھا کہ اب سلطان قاضی کے قتل کا حکم دے گا، کیونکہ تاریخ میں طاقت ور حکمران ایسی باتیں برداشت نہیں کیا کرتے تھے۔
لیکن تاریخ نے وہ منظر دیکھا جو صرف اسلامی تہذیب کا خاصہ ہے۔ سلطان بایزید اوّل نے نہ غصہ کیا، نہ زبان سے ایک لفظ کہا، نہ قاضی پر ہاتھ اٹھایا،بلکہ خاموشی سے مڑے اور وقار کے ساتھ عدالت سے باہر چلے گئے۔
اسی دن سلطان بایزید اوّل نے حکم دیا کہ ان کے محل کے بالکل ساتھ ایک مسجد تعمیر کی جائے تاکہ وہ نمازِ باجماعت میں کبھی کوتاہی نہ کریں۔ جب مسجد مکمل ہوئی تو سلطان بایزید اوّل باقاعدگی سے پانچ وقت کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے لگے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ایک سلطان نے ثابت کیا کہ اسلام میں اقتدار نہیں، احتساب اصل طاقت ہے۔
اس واقعے کو ترک مؤرخ عثمان نزار نے اپنی مشہور کتاب “حدیقۃ السلاطین” میں بیان کیا ہے،اور بعد ازاں مؤرخ اورخان محمد علی نے اسے اپنی تصنیف “روائع من التاريخ العثماني” میں نقل کیا۔
جب مسلمانوں کے پاس شمس الدین فناری جیسے بے خوف علماء ہوتے تھے،
تو ان کے پاس بایزید صاعقہ جیسے باعمل اور عاجز سلطان بھی ہوتے تھے۔ یہی وہ امت تھی, جس میں سلطان عدالت میں کھڑا ہوتا تھا اور قاضی حق بولنے سے نہیں ڈرتا تھا۔

Want your school to be the top-listed School/college in Riyadh?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address

Riyadh