XOHAD

XOHAD

Share

Photos from XOHAD's post 01/12/2023

ATKT'ing
لے آئی آج زندگی _ کن پستیوں میں تُو مجھے
یاروں نے لا مغالطہ ____ ٹھہرا دیا عدُو مجھے

عرش سے سیدھا فرش پر چہرے کے بَل گِرا ہوں میں
پٹخے گی اور کتنی بار _ ایک ہی جستجُو مجھے

میرا چراغ ہائے دل _ جلنے سے پہلے بُجھ گیا
جل گیا خواب آنکھ میں _ جس کی تھی آرزو مجھے

آپ ہی اپنا چارہ ساز _ آپ ہی اپنا غم شناس
مجھ سوا جانتا ہے کون _ پیش ہے جو رفُو مجھے

"جس کو ہمارے نام کے حرف بھی یاد تک نہیں
حرف بہ حرف یاد ہے اُس کا ہر اِک عضو مجھے"

صحنِ خیال سے یہ کون _ توڑ کے لے گیا اُسے
کھِلنے سے جس گلاب کے _ ملتی رہی نمُو مجھے

پوچھیے مت کہ کون ہے _ میرا شریکِ لا شریک
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھیے بس کبھُو مجھے

غار میں سو گیا ہوں میں _ پتھر کا ہو گیا ہوں میں
موت سے زندگی نکال _ ہاتھ بڑھا کے چھُو مجھے

جانیے کتنا محترم ہو گا وہ میرے واسطے
جس کی تلاش کے لیے سونا ہے با وضو مجھے

آپ زوھاد جائیے ___ ڈھونڈیے لا مکان میں
میرا خدا تو ہر گھڑی دِکھتا ہے چار سُو مجھے
🖤🔥
زوھاد

06/10/2021

حَسن کُوزہ گر

جہاں زاد، نیچے گلی میں ترے در کے آگے
یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں
تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطّار یوسف
کی دکّان پر میں نے دیکھا
تو تیری نگاہوں میں وہ تابناکی
تھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں
جہاں زاد، نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں!
یہ وہ دور تھا جس میں میں نے
کبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانب
پلٹ کر نہ دیکھا
وہ کوزے مرے دست چابک کے پتلے
گل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاں
وہ سر گوشیوں میں یہ کہتے
"حسن کوزہ گر اب کہاں ہے
وہ ہم سے خود اپنے عمل سے
خداوند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں!"
جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزرا
کہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرے
تغاروں میں مٹی
کبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میں
سنگ بستہ پڑی تھی
صراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں
مری ہیچ مایہ معیشت کے، اظہار فن کے سہارے
شکستہ پڑے تھے
میں خود، میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برہنہ
سرِ چاک ژولیدہ مو، سر بہ زانو
کسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کے
گِل و لاسے خوابوں کے سیّال کوزے بناتا رہا تھا
جہاں زاد، نو سال پہلے
تو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھی
کہ میں نے، حسن کوزہ گر نے
تری قاف کی سی افق تاب آنکھوں
میں دیکھی ہے وہ تابناکی
کہ جس سے مرے جسم و جاں، ابرو مہتاب کا
رہگزر بن گئے تھے
جہاں زاد بغداد کی خواب گوں رات
وہ رود دجلہ کا ساحل
وہ کشتی وہ ملّاح کی بند آنکھیں
کسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیے
ایک ہی رات وہ کہربا تھی
کہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اسکا وجود۔۔
اس کی جاں اس کا پیکر
مگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلا
حسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!

جہاں زاد اس دور میں روز، ہر روز
وہ سوختہ بخت آ کر
مجھے دیکھتی چاک پر پا بہ گِل سر بزانو
تو شانوں سے مجھ کو ہلاتی
(وہی چاک جو سالہا سال جینے کا تنہا سہارا رہا تھا!)
وہ شانوں سے مجھ کو ہلاتی
"حسن کوزہ گر ہوش میں آ
حسن اپنے ویران گھر پر نظر کر
یہ بچّوں کے تنّور کیونکر بھریں گے
حسن، اے محبّت کے مارے
محبّت امیروں کی بازی،
حسن، اپنے دیوار و در پر نظر کر"

مرے کان میں یہ نوائے حزیں یوں تھی جیسے
کسی ڈوبتے شخص کو زیرِگرداب کوئی پکارے!
وہ اشکوں کے انبار پھولوں کے انبار تھے ہاں
مگر میں حسن کوزہ گر شہرِ اوہام کے اُن
خرابوں کا مجذوب تھا جن
میں کوئی صدا کوئی جنبش
کسی مرغ پرّاں کا سایہ
کسی زندگی کا نشاں تک نہیں تھا!

جہاں زاد، میں آج تیری گلی میں
یہاں رات کی سرد گوں تیرگی میں
ترے در کے آگے کھڑا ہوں
سر و مو پریشاں
دریچے سے وہ قاف کی سی طلسمی نگاہیں
مجھے آج پھر جھانکتی ہیں
زمانہ، جہاں زاد وہ چاک ہےجس پہ مینا و جام و سبو
اور فانوس و گلداں
کے مانند بنتے بگڑتے ہیں انساں
میں انساں ہوں لیکن
یہ نو سال جو غم کے قالب میں گزرے!
حسن کوزہ گر آج اک تودہ خاک ہےجس
میں نم کا اثر تک نہیں ہے
جہاں زاد بازار میں صبح عطّار یوسف
کی دکّان پر تیری آنکھیں
پھر اک بار کچھ کہہ گئی ہیں
ان آنکھوں کی تابندہ شوخی
سے اٹھی ہے پھر تودۂ خاک میں نم کی ہلکی سی لرزش
یہی شاید اس خاک کو گِل بنا دے!

تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ہے جہاں زاد لیکن
تو چاہے تو بن جاؤں میں پھر
وہی کوزہ گر جس کے کوزے
تھے ہر کاخ و کو اور ہرشہر و قریہ کی نازش
تھے جن سے امیر و گدا کے مساکن درخشاں
تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ہے جہاں زاد لیکن
تو چاہے تو میں پھر پلٹ جاؤں ان اپنے مہجور کوزوں کی جانب
گِل و لا کے سوکھے تغاروں کی جانب
معیشت کے اظہارِ فن کے سہاروں کی جانب
کہ میں اس گل و لا سے ، اس رنگ و روغن
سے پھر وہ شرارے نکالوں کہ جن سے
دلوں کے خرابے ہوں روشن!
🖤🔥
ن م راشد

Want your business to be the top-listed Media Company in Mecca?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Ghaza Street
Mecca
21955