MadeKhail RizwanUllah
10/11/2025
اللہ کے راستے میں نکلنے والے کی نیکی کے بارے میں ایسی کوئی حدیث نہیں جس میں ایک نیکی کا ثواب انچاس کروڑ کے برابر ملتا ہے ۔ جن دو احادیث سے ایک نیکی کا ثواب "انچاس کروڑ گنا" ثابت کیا گیا ہے ، وہ دونوں کتاب الجہاد میں ہیں اور ضعیف ہیں۔
لوگ من گھڑت روایات کو بلا خوف وخطر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔
ضعیف اور موضوع احادیث بیان کرنے سے ذرہ بھی نہیں ہچکچاتے ۔
پہلی حدیث :
”جو شخص فی سبیل اللہ (اللہ کی راہ میں) خرچ بھیجے، اور اپنے گھر بیٹھا رہے تو اس کے لیے ہر درہم کے بدلے سات سو درہم ہیں، اور جو شخص فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے میں) بذات خود جہاد کرنے نکلے، اور خرچ کرے، تو اسے ہر درہم کے بدلے سات لاکھ درہم کا ثواب ملے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «والله يضاعف لمن يشاء» ”اور اللہ تعالیٰ جیسے چاہے ( ثواب میں ) کئی گنا اضافہ کر دے“ (سورۃ البقرہ: ۲۶۱)۔
[سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2761]
دوسری حدیث :
”(دوران جہاد) نماز، روزہ اور ذکر الٰہی (کا ثواب) جہاد میں خرچ کے ثواب پر سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے“۔
[سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2498]
ابن ماجہ کی حدیث میں ایک روپے کا سات لاکھ ہے اور ابو داؤد کی حدیث میں اللہ کی راہ میں نماز کا ثواب سات سوگنا زیادہ ہے، چنانچہ سات لاکھ کو سات سو سے ضرب دی جائے تو نتیجہ انچاس کروڑ آتا ہے۔
سنن ابن ماجه کی حدیث نمبر 2761 اور ابو داؤد کی 2498 دونوں حدیثیں سنداً ضعیف ہیں تو کیا ان سے استدلال اور ان کے ضعف پر تنبیہ کئے بغیر ان کی تشہیر جائز ہے یا نہیں ؟
24/09/2025
اعتبار ایک ہی بار کرو !
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
47000