Crew Films Production

Crew Films Production

Share

Its poetry, composition, and all stages of production have been creatively enhanced with the use of Artificial Intelligence.

01/05/2026

ہیر رانجھا کی داستان اور پشتو کلاسیکی ادب میں اس کا ذکر**

تحریر: دکتور لطیف یاد
ترجمہ : فیروز افریدی

ہیر رانجھا

ہیر رانجھا اصل میں پنجاب کی سرزمین کی چار مشہور رومانوی داستانوں میں سے ایک قدیم ترین کہانی ہے، جو پنجابی، اردو، ہندی، پشتو اور فارسی زبانوں میں نثر اور زیادہ تر نظم (شاعری) کی صورت میں لکھی گئی ہے۔ اگرچہ بہت سے پنجابی شعراء مثلاً گورداس، مقبل اور احمد گوجر نے ہیر رانجھا کی کہانی منظوم کی ہے، لیکن ان سب میں مشہور ترین پنجابی صوفی شاعر **وارث شاہ** (1722-1798ء) کا لکھا ہوا "منظوم ہیر رانجھا" ہے۔ غالب گمان یہی ہے کہ ہیر اور رانجھا ہندوستان کے پشتون لودھی حکمرانوں کے دور (1451ء - 1526ء) میں گزرے ہیں، اسی لیے اسے قرونِ وسطیٰ کی قدیم داستان مانا جاتا ہے۔
# # # **ہیر اور رانجھا کون تھے؟**
ہیر اور رانجھا پنجاب کے خطے کی ایک عشقیہ داستان ہے اور یہ دونوں وہ عاشق تھے جو ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ہیر ایک نہایت خوبصورت لڑکی اور جھنگ کے ایک امیر پنجابی کی بیٹی تھی، جس کا تعلق جاٹ قوم کے "سیال" قبیلے سے تھا اور وہ جھنگ میں رہتی تھی۔ جھنگ آج کل پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک ضلع ہے جو دریائے چناب کے کنارے واقع ہے اور پنجاب کے مرکز لاہور سے تقریباً 210 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ہیر تیرہ سال کی عمر تک اپنی ہم عمر سہیلیوں کے ساتھ دریا کے کنارے جا کر کھیلا کرتی تھی۔
رانجھا کا اصل نام **دھیدو** تھا، لیکن اسے رانجھا کہا جاتا تھا۔ رانجھا کا تعلق بھی جاٹ قوم سے تھا اور وہ "تخت ہزارہ" کا رہنے والا تھا۔ تخت ہزارہ پنجاب کے ضلع سرگودھا میں واقع ہے۔ رانجھا کے آٹھ بھائی تھے، لیکن چونکہ وہ سب سے چھوٹا تھا اس لیے اپنے والد کا بہت لاڈلا تھا۔ دوسرے بھائی اپنے والد کی زمینوں پر کام کرتے تھے جبکہ رانجھا اپنے ہم عمروں کے ساتھ کھیلتا اور بانسری بجاتا تھا۔
کچھ عرصے بعد جب رانجھا کے والد کا انتقال ہو گیا تو اس کے بھائیوں نے اس کے ساتھ زیادتیاں شروع کر دیں اور اس کے لیے بہت سی مشکلات کھڑی کر دیں۔ ایک رات رانجھا بہت غمگین تھا کہ اسے خواب میں ہیر نظر آئی۔ ہیر نے خواب میں اسے کہا: "اگر میرا وصال چاہتے ہو تو خود کو مجھ تک پہنچاؤ۔" جب رانجھا خواب سے بیدار ہوا تو اس نے سفر کا ارادہ کیا اور تین دن کی مسافت کے بعد خود کو ہیر کے علاقے میں پہنچا دیا جو دریائے چناب کے کنارے واقع تھا۔ وہاں پہنچتے ہی اس نے ایک کشتی دیکھی جس میں سونے کے لیے ایک خوبصورت پلنگ (تخت) بچھا تھا۔ رانجھا نے ملاحوں سے اجازت مانگی اور وہاں سو گیا۔
اسی دوران ہیر اپنی سہیلیوں کے ساتھ وہاں پہنچی اور دیکھا کہ اس کے پلنگ پر کوئی اجنبی سو رہا ہے۔ ہیر ملاحوں پر غصہ ہوئی کہ یہ کون ہے جو میرے بستر پر سویا ہے؟ ملاحوں کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ ہیر کی سہیلیوں نے مشورہ دیا کہ اسے دریا میں پھینک دینا چاہیے، لیکن جیسے ہی ہیر نے اس کے چہرے سے چادر ہٹائی تو پہلی ہی نظر میں اپنا دل ہار بیٹھی اور بے ہوش ہو گئی۔ ہوش آنے پر ہیر نے رانجھا سے اس کا حال پوچھا، جس پر رانجھا نے پوری کہانی بیان کر دی۔ ہیر نے گھر جا کر اپنے والد کے سامنے رانجھا کی تعریفیں کیں اور اس کے والد نے رانجھا کو بھینسیں چرانے کے کام پر رکھ لیا۔ رانجھا دن بھر جنگل میں مال مویشی چراتا، ہیر گھر سے اس کے لیے کھانا لاتی اور دونوں جنگل میں محبت کی باتیں کرتے۔
آخر کار ایک مکار شخص کو ان کی محبت کا علم ہو گیا اور اس نے ہیر کے چچا (کیدو) کو بتا دیا۔ ایک دن جب ہیر رانجھا کے لیے کھانا لے کر گئی تو کیدو فقیر کے بھیس میں وہاں پہنچا اور اس نے اپنی آنکھوں سے سب دیکھ لیا۔ اس نے فوراً ہیر کے والد کو جا کر ساری کہانی سنا دی۔ اس کے بعد ہیر کا گھر سے نکلنا بند کر دیا گیا اور اس کا رشتہ کسی دوسری جگہ طے کر دیا گیا۔ ہیر کے والد نے سسرال والوں سے کہا کہ شادی جلدی کریں، جس پر ہیر بہت بیمار ہو گئی۔ شادی ہو گئی اور دولہا ہیر کو لے گیا، لیکن ہیر بے ہوشی اور صدمے کی حالت میں تھی۔
ہیر کی نند، جس کا نام **سہتی** (شہدۍ) تھا، بھانپ گئی کہ ہیر کسی اور کی محبت میں گرفتار ہے۔ چونکہ سہتی خود بھی کسی سے محبت کرتی تھی، اس لیے وہ عشق کی تپش سے واقف تھی۔ اس نے ایک کاتب کے ذریعے رانجھا کو خط لکھوایا۔ اس وقت رانجھا جدائی کے غم میں اس قدر نڈھال تھا کہ دریا میں ڈوب کر خودکشی کرنا چاہتا تھا، لیکن حضرت خضر علیہ السلام نے اسے روکا، تسلی دی اور صبر کی تلقین کی۔
جب رانجھا کو ہیر کا خط ملا، تو وہ فقیر کا بھیس بدل کر ہیر کے سسرال پہنچا تاکہ خیرات مانگنے کے بہانے ہیر کا پتہ لگا سکے۔ سہتی نے اسے پہچان لیا اور اسے ایک منصوبہ بتایا۔ ایک دن سہتی ہیر کو لے کر باہر نکلی جہاں رانجھا ٹھہرا ہوا تھا۔ دونوں کی ملاقات ہوئی اور سہتی نے گھر آکر یہ مشہور کر دیا کہ ہیر کو سانپ نے ڈس لیا ہے۔ پھر اس نے اپنی ماں سے کہا کہ گاؤں کے باہر ایک فقیر (رانجھا) ہے جو زہر اتار سکتا ہے۔ رانجھا کو بلایا گیا اور اس نے منتر پڑھنے کے بہانے ہیر کے قریب ہونے کا موقع پا لیا۔ سہتی کے تعاون سے رانجھا اور ہیر وہاں سے بھاگ نکلے، جبکہ سہتی بھی اپنے محبوب کے ساتھ چلی گئی۔
آخر میں لوگوں نے ہیر کو پکڑ لیا اور قاضی کے پاس لے گئے۔ قاضی نے حکم دیا کہ ہیر کو اس کے شوہر کے حوالے کر دیا جائے۔ رانجھا اس پر بہت دکھی ہوا اور بددعا دی، جس سے پورے شہر میں آگ لگ گئی۔ اس وقت کے بادشاہ کو جب خبر ہوئی تو اس نے حکم دیا کہ ہیر رانجھا کے حوالے کر دی جائے۔ دونوں خوشی خوشی تخت ہزارہ کی طرف روانہ ہوئے، لیکن راستے میں رانجھا بیمار ہو کر فوت ہو گیا اور ہیر بھی اسی غم میں جان دے بیٹھی۔ لوگوں نے ان دونوں عاشقوں کے لیے ایک ہی قبر بنائی اور انہیں اکٹھے دفن کر دیا۔ ان کا مزار آج بھی پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع جھنگ میں موجود ہے جہاں لوگ زیارت کے لیے جاتے ہیں۔
# # # **پشتو ادب میں ہیر رانجھا کا ذکر**
اگر ہم پشتو کے کلاسیکی ادب میں خوشحال خان خٹک، کامگار خٹک اور رحمان بابا کے دیوانوں کا مطالعہ کریں، تو واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے ہیر رانجھا کا تذکرہ کیا ہے۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:
**خوشحال خان خٹک** ہیر رانجھا کا تذکرہ یوں کرتے ہیں:
> **شور وشر به درانجها په جهان نه و**
> **که دهیر صورت پیدا نه وای په شور کې**
> *(اردو مفہوم: دنیا میں رانجھا کا یہ شور و غوغا (عشق کا چرچا) نہ ہوتا، اگر حسن کے ہنگامے میں ہیر کی صورت پیدا نہ ہوتی۔)*
>
اسی طرح خوشحال خان خٹک کے خاندان کے ایک اور شاعر **کامگار خٹک** کہتے ہیں:
> **که په زړه کې درانجها صبر شکیب وي**
> **په خپل وصل کې به خوښ کړی و هیر ورو ورو**
> *(اردو مفہوم: اگر رانجھا کے دل میں صبر و شکیب ہوتا، تو وہ آہستہ آہستہ (مستقل مزاجی سے) ہیر کو اپنے وصل (میلان) سے خوش کر دیتا۔)*
>
پشتو زبان کے نامور صوفی شاعر **رحمان بابا** اپنے دیوان میں لکھتے ہیں:
> **ډیر هندکي په جهان ګرځي دچایاد دي**
> **عشق عالي پایه دهیر او درانجها کړه**
> *(اردو مفہوم: دنیا میں بہت سے ہندواسی (لوگ) پھرتے ہیں، انہیں کون یاد رکھتا ہے؟ یہ تو عشق ہی ہے جس نے ہیر اور رانجھا کا مرتبہ بلند کر دیا کہ سب انہیں یاد کرتے ہیں۔)*
>
پشتو زبان میں ہیر رانجھا کا قصہ **اچرج سنگھ ہوڑا** نے بھی لکھا ہے، جو پنجاب کے علاقے چندی گڑھ کے رہنے والے تھے اور آل انڈیا ریڈیو کے پشتو شعبے سے وابستہ تھے۔ وہ تقسیم ہند سے پہلے پختونخوا کے شہر مردان میں رہتے تھے اور 1947ء کے بعد ہندوستان چلے گئے۔
**حوالہ جات:**
1. کلیاتِ خوشحال، اکیڈمی آف سائنسز افغانستان، ص 470، کابل (1358ھ)۔
2. دیوانِ کامگار خٹک، اکیڈمی آف سائنسز افغانستان، ص 70، کابل (1356ھ)۔
3. دیوانِ رحمان بابا، پشتو تولنہ، ص 152 (1356ھ)۔

29/04/2026

رشی کپور کی دلیپ کمار سے متعلق یادداشتیں

میں یوسف انکل کیلیے کبھی بھی رشی یا چنٹو نہیں رہا ، میں ان کا "سنی بوائے " ہوں. بچپن کی جو یادیں میرے ذہن میں آج بھی تازہ ہیں وہ یوسف انکل کی ہمارے بمبئی والے گھر آمد کی ہیں. عموما" وہ مہینے کے دوسرے اتوار کو آیا کرتے تھے جب فلم ورکرز اور اسٹارز چھٹی کرتے تھے.وہ گھر کے سامنے والے باغیچے کے پاس سے گزرتے جہاں میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل رہا ہوتا.وہ میرے پاس رکتے اور مجھے پاس بلا کر میرے بال بگاڑ دیتے اور پوچھتے " کیسے ہو میرے سنی بوائے؟"..

میں جانتا تھا کہ یہ شخص سپر اسٹار دلیپ کمار ہے اور میرے پاپا کے ساتھ کام کرتا ہے.میرے دوست بھی یوسف انکل کو دیکھتے اور وہ بھی میرے دوستوں کو دیکھ کر مسکراتے.پھر میرے پپا باہر آکر ان کو خوش آمدید کہتے اور شکوہ کرتے
" لالے تو نے دیر کردی میں صبح سے تیرا انتظار کررہا تھا". پھر وہ دونوں بغلگیر ہوتے اور شام تک آپس میں مگن رہتے.پپا کا اور یوسف انکل کا وہ لازوال برادرانہ تعلق تھا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا.پیشے کے اعتبار سے وہ دونوں ایک دوسرے کے حریف تھے مگر ویسے وہ دونوں ایک دوسرے سے یوں محبت کرتے تھے گویا ایک ہی والدین کی اولاد ہوں.جب یوسف انکل ہمارے گھر آتے تو گھر میں جشن کا سماں ہوتا تھا.مما باورچی کو ہدایات دے رہی ہوتیں کہ کھانے میں کیا بنانا ہے اور چائے میں کیا ہوگا..پپا فریش ہو کر ایک دم پشتون حلیے میں آ کر چھوٹے بچوں کی طرح پرجوش ہوجاتے.میرے خیال میں یہ ان کے بچپن کی یادیں تھیں جن کو وہ زندہ کرتے تھے جو انہوں نے پشاور میں اکٹھے گزارا یا خالصہ کالج بمبئی کا زمانہ طالبعلمی یا پھر بمبئی ٹاکیز میں گزارے ہوئے ابتدائی سال..

میرا خیال ہے راج کپور یوسف انکل سے اتنی ہی محبت کرتے تھے جتنی وہ اپنے بھائیوں شمی اور ششی سے کرتے تھے.لیکن وہ اپنے جذبات ، احساسات یوسف انکل سے زیادہ شئیرکرتے تھے بجائے اپنی فیملی کے..

اس میں کوئی شک نہیں کہ پیشے کے حوالے سے ایک دوسرے کے حریف تھے.مگر انہوں نے کبھی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے یا نیچا دکھانے کی کوشش نہیں کی.ان دونوں کو ایک دوسرے پہ فخر تھا .مجھے ان کی موجودگی یاد ہے جب آر کے تھیٹر میں فلم بوبی اور میرا نام جوکر تیاری کے مراحل میں تھیں.پاپا یوسف انکل کی رائے کی بہت قدر کرتے تھے.ایک بار کوئی بھونچال آگیا تو پپا اور یوسف انکل اکٹھے آفس میں بیٹھ کر امدادی رقم اکٹھی کرتے رہے تھے.مجھے وہ منظر اچھی طرح یاد ہے.

میری نوجوانی کی تین یادیں ہیں جو میں بنا کسی لگی لپٹی کے سنا سکتا ہوں.ان میں سے پہلی تو آج بھی مجھے دہلا دیتی ہے.یہ اس وقت کی بات ہے جب پاپا کو آخری بار اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا.انڈسٹری کا ہر آدمی عیادت کیلیے آیا اور حوصلہ دے کر گیا.ہم سب جانتے تھے کہ پاپا کا وقت قریب ہے کیونکہ پاپا مسلسل کومہ میں تھے.یوسف انکل ان دنوں صدر پاکستان کی دعوت پہ پاکستان گئے ہوئے تھے پاپا کو دہلی میں اپالو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں ان کو دل کا دورہ پڑا.یوسف انکل جیسے ہی بمبئی واپس آئے تو ائیرپورٹ سے ہی دہلی کی فلائٹ پکڑ لی.یوسف انکل بھاگم بھاگ اسپتال پہنچے اور اس کمرے میں داخل ہوئے جہاں پاپا بے ہوش و حواس لیٹے تھے.یوسف انکل نے کرسی کھینچی اور پاپا کا ہاتھ پکڑ کر بولے : "راج ! آج بھی میں دیر سے آیا ، مجھے معاف کردو.مجھے پتا ہے تمہیں شہرت اور توجہ پسند ہے.اب بہت ہوگیا ہے.چلو شاباش اٹھو اور میری بات سنو ، میں ابھی پشاور سے واپس آیا ہوں اور تمہارے لیے چپلی کباب کی مہک قید کرکے لایا ہوں.تم اور میں دونوں پشاور جائیں گے اور بازار میں ویسے ہی گھومیں گے جیسے بچپن میں گھومتے تھے اور روٹیاں اور کباب اڑائیں گے..راج ایکٹنگ بند کرو.مجھے پتا ہے تم بہت بڑے ایکٹرہو .. راج ! تو مینوں لے کے جانا اے پشاور والے گھر دے آنگن وچ ، راج اٹھ یار. .."

یہ کہتے ہوئے یوسف انکل کی آواز رندھ گئی اور ان کے آنسو بہنے لگے.میں اور رندھیر چپ چاپ کھڑے تھے.مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یوسف انکل کمرے سے باہر جانے کیلیے تیار نہیں تھے،کافی ضد کے بعد جب باہر گئے تو آخری بار اپنے پیارے دوست کی جانب جس بے بسی سے انہوں نے دیکھا میں کبھی نہیں بھول سکتا.

دوسرا قصہ یہ ہے کہ ہم اپنے اسٹوڈیو میں پریم روگ کی شوٹنگ میں مصروف تھے.پاپا اس کے ڈائریکٹر تھے..میرا کردار اس میں ایک عاشق کا تھا.میں شدید محبت کے ایکسپریشن دینے کی کوشش کر رہا تھا مگر دے نہیں پا رہا تھا جس سے پاپا کو غصہ آرہا تھا.پھر وہ سارے عملے کے سامنے چلائے .
" مجھے یوسف چاہیے، مجھے بالکل ویسی لک چاہیے جیسی یوسف کی ہوتی تھی.تمہاری آنکھوں سے محبت کے اظہار کے وقت وہی پیار اور بے ساختگی چھلکنی چاہیے جو یوسف کی آنکھوں سے چھلکتی تھی"..

سارا یونٹ خاموش تھا.کوئی یقین نہیں کرسکتا تھا کہ یہ بات دلیپ کمار کا سب سے بڑا حریف کہہ رہا ہے.میں سمجھتا ہوں یہ پاپا کا خراج عقیدت تھا جو انہوں نے دلیپ کمار کی لازوال اداکاری کو پیش کیا تھا اور یہ اسی لیے ممکن ہوا کہ ان کے دل میں ایک دوسرے کی عزت تھی.کیا آج شاہ رخ خان یا سلمان خان سے آپ یہ توقع کرسکتے ہیں؟

ایک موقع وہ جب بال ٹھاکرے نے یوسف انکل کو تنگ کرنا شروع کیا کیونکہ یوسف انکل نے پاکستان حکومت سے نشان امتیاز قبول کیا تھا.ان کے گھر کے باہر دنگے ہوئے اور وہ گھر میں محصور ہو کر رہ گئے اور شیو سینا کو لگام ڈالنے کیلیے کوئی آگے نہ آیا..یوسف انکل نے اس وقت کہا کہ مجھے آج میرا دوست راج بہت یاد آرہا ہے.آج اگر راج زندہ ہوتا تو وہ کبھی ایسا نہ ہونے دیتا..راج کبھی مجھ پہ یہ وقت نہ آنے دیتا اور بے خوفی سے میرا دفاع کرتا.

ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ دلیپ کمار جیسے عظیم انسان کے دل میں ہمارے پاپا کیلیے عزت و احترام تھا اور وہ پاپا کو اپنے مشکل وقت کا ساتھی سمجھتے تھے جو مشکل وقت میں ہمیشہ ہرمظلوم آرٹسٹ کے شانہ بشانہ کھڑا رہا. ❤️

کتاب : Dilip Kumar , The substance and the Shadow , An autobiography
ترجمہ : حسنین چوہدری

Want your establishment to be the top-listed Arts & Entertainment in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address

Peshawar