Syed Hassan Raza
09/09/2024
بنے وہ اپنا مسیحا تو درد_دل جائیں
ہم اس سے لپٹیں تو صدیوں کے زخم سل جائیں
رگوں میں ڈورتی خواہش کی حد یہیں تک ہے
بس اس کے شبنمی ہونٹوں پہ پھول کھل جائیں
جلا کے کشتیاں ساحل پہ بیٹھے ہیں کچھ لوگ
لگا کے آس کہ دونوں کنارے مل جائیں
مسافتوں سے اسے دور ہی رکھا کہ کہیں
وہ میرے ساتھ چلے اور پاؤں چھل جائیں
گیا وہ شخص تو اپنا یہ حال ہے جیسے
کسی شکستہ مکاں کے ستون ہل جائیں
سید وحدان حسن
جو شہر_دل میں جنوں کا طواف ہو جائے
اجاڑ دل کا نگر کوہ قاف ہو جائے
کچھ ایسے ٹوٹ کے بکھروں خدا کو رحم آئے
جب آہ نکلے فلک میں شگاف ہو جائے
مرے ضمیر میں ایماں کی تھی رمق باقی
میں جرم کر نہ سکا اعتراف ہو جائے
کبھی نہ سلگے کہیں سے ہوس کی چنگاری
جو پارسائی نگہ کا غلاف ہو جائے
محبتوں کی ہوائیں چلیں تو ممکن ہے
دلوں میں پھیلی ہوئی گرد صاف ہو جائے
نہیں ہے ظرف کسی میں خدا کے جیسا حسن
جو ایک آنسو سے سب کچھ معاف ہو جائے
سید وحدان حسن
Click here to claim your Sponsored Listing.