AHM

AHM

Share

ALKHIDMAT is Largest NGO. From Raising Orphans to provide affordable Health-Care & Relief in crisis, we work in all domains of social welfare.

18/06/2026

آج پاکستان نے سرفراز کی قیادت میں چیمپینز ٹرافی کا فائنل جیتا تھا۔ انڈیا سے میچ تھا۔ منور صاحب ویسے تو افطار ہر آتے رہتے تھے۔
میرے گھر 2017 میں افطار پارٹی سے آخری خطاب تھا
بہت مشکل سے راضی ہوئے۔ کیونکہ اس دن طبیعت کافی خراب تھی۔ اتوار کا دن تھا
سب سے پہلے تو ظہر کے بعد فون آیا کہ ارے بھئی کل افطار پارٹی میں کتنے بجے آؤں
میں نے کہا کہ کل نہیں آج ہے۔ ان کو بھی پتا تھا کہ آج ہی ہے۔
ہھر عصر سے پہلے دوسرا فون آیا کہ آج چیمپئنز ٹرافی کا فائنل ہے۔ کوئی بھی افطار پارٹی میں نہیں آئے گا۔ فائنل وہ بھی انڈیا سے
میں نے کہا کہ آپ کا دل بھی فائنل میں اٹکا ہوا ہے لیکن میں محلے والوں کو کہ چکا ہوں۔ تین سو کرسیاں لگائی ہیں۔ انشاءاللہ 350 لوگ ہونگے
عصر کے بعد تیسری بعد فون آیا کہ ارے بھئی میری طبعیت کافی خراب ہے۔ پیٹ بھی صحیح نہیں یے
اپنی بیگم سے کہنا کہ میرے لیئے کھچڑی بنا دے
اور اگر میں بھول جاؤں تو یاد کرا دینا
مظفر ہاشمی مرحوم کا بھی میرے گھر یہ آخری افطار تھا۔ 2018 میں وہ اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔
درس کے دوران جب بھی گھروں سے شور کی آواز آتی تو منور صاحب تقریر روک کر پوچھتے کہ کون آؤٹ ہوا۔
اگلے دن اکیڈمی جاتے ہوئے کہنے لگے کہ بس یہ آخری افطار پارٹی تھی
اب افطار میں نہیں بلانا۔ دس منٹ کا پرگرام اور تقریر
پھر افطار کا وقت ہو جاتا ہے
افطار کے فورا" بعد تراویح کی فکر
اگلے سال زندگی رہی تو رمضان کے بجائے عید کے بعد آؤنگا۔ پھر عید بقر عید پر ضرور آتے رہے
اللہ تعالیٰ سید منور حسن صاحب اور مظفر ہاشمی صاحب کے درجات بلند فرمائے آمین
چیمپئنز ٹرافی کی فتح اور سید منور حسن😟

ری پوسٹ
Humayun Naqvi

13/06/2026

جماعتِ اسلامی کب کامیاب ہوگی؟ — ایک آخری سوال، ایک آخری جواب

پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس نے کبھی یہ سوال نہ سنا ہو:

"جماعتِ اسلامی آخر کب کامیاب ہوگی؟"

یہ سوال صرف جماعتِ اسلامی کے کارکن نہیں پوچھتے، اس کے مخالفین بھی پوچھتے ہیں، اور وہ لوگ بھی جو دور کھڑے ہو کر سیاست کا تماشا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

مگر افسوس یہ ہے کہ اس سوال کے جواب میں اکثر یا تو مایوسی دی جاتی ہے یا پھر ایسی تسلی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

آئیے آج نہ مایوسی کی بات کرتے ہیں اور نہ خوش فہمی کی۔

صرف حقیقت کی۔

جماعتِ اسلامی ہار کیوں رہی ہے؟

اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے پہلے پاکستان کی سیاست کو سمجھنا ہوگا۔

ہمارے ہاں سیاست نظریات کی منڈی نہیں، مفادات کا بازار ہے۔

اس بازار میں برادری بکتی ہے۔
لسانیت بکتی ہے۔
سرمایہ بکتا ہے۔
جذباتی نعرے بکتے ہیں۔
خوف اور نفرت بھی بکتی ہے۔

مگر جماعتِ اسلامی ان میں سے کوئی چیز فروخت نہیں کرتی۔

وہ ایک ہی چیز پیش کرتی ہے: نظریہ۔

اور سچ یہ ہے کہ جس بازار میں خریدار ہی نظریے کے نہ ہوں، وہاں بہترین نظریہ بھی مقبول نہیں ہوتا۔

اس میں سارا قصور بیچنے والے کا نہیں ہوتا، کبھی کبھی مسئلہ خریدار کی ترجیحات میں بھی ہوتا ہے۔

مگر ایک حقیقت ایسی بھی ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے

اگر کامیابی کا معیار صرف اسمبلی کی نشستیں ہیں تو شاید جماعتِ اسلامی کامیاب نہیں۔

لیکن اگر کامیابی کا مطلب معاشرے میں خدمت، کردار سازی اور خیر کا پھیلاؤ ہے تو پھر تصویر مختلف نظر آتی ہے۔

جب سیلاب آتا ہے تو جماعت کا کارکن سب سے پہلے متاثرین کے درمیان دکھائی دیتا ہے۔

جب زلزلہ آتا ہے تو وہ ملبے کے نیچے دبے انسانوں کو نکالنے میں مصروف ہوتا ہے۔

جب کہیں تعلیمی ادارہ بنتا ہے، فلاحی منصوبہ شروع ہوتا ہے یا ضرورت مندوں کی مدد کی جاتی ہے تو وہاں بھی اس کے کارکن موجود ہوتے ہیں۔

اکثر بغیر کیمروں کے۔
بغیر خبروں کی سرخیوں کے۔
بغیر ووٹ مانگے۔

ایسی کامیابیاں بیلٹ بکس سے نہیں ملتیں، تاریخ کے صفحات پر لکھی جاتی ہیں۔

اگر انتخابی کامیابی کی بات کریں تو تین بڑی شرطیں ہیں

پہلی شرط: عوامی شعور کا دردناک ارتقاء

پاکستانی معاشرہ ابھی بھی مختلف چہروں سے امیدیں وابستہ کرتا ہے۔

ہر چند سال بعد ایک نیا نعرہ، ایک نئی شخصیت اور ایک نیا خواب سامنے آ جاتا ہے۔

لیکن قومیں اس وقت بدلتی ہیں جب وہ چہروں سے مایوس ہو کر اصولوں کی طرف آتی ہیں۔

جب لوگ یہ سمجھنے لگیں گے کہ مسئلہ صرف حکمران کا نہیں بلکہ نظام کا ہے، تب ان کی ترجیحات بھی بدلنا شروع ہوں گی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ بعض قومیں دلیل سے سیکھتی ہیں، اور بعض تجربات کی آگ میں جل کر۔

دوسری شرط: نوجوان نسل کی فکری بلوغت

آج کا نوجوان پہلے کی نسبت زیادہ باخبر ہے۔

وہ سوال کرتا ہے، تحقیق کرتا ہے اور روایتی سیاسی وفاداریوں کو چیلنج بھی کرتا ہے۔

اگر اس نسل کا ایک بڑا حصہ اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ شخصیات نہیں بلکہ اصول اہم ہیں، تو پاکستان کی سیاست کا نقشہ بدل سکتا ہے۔

یہ تبدیلی اچانک نہیں آئے گی۔

مگر ہر سیاسی تجربہ اور ہر قومی مایوسی اس شعور میں اضافہ ضرور کرتی ہے۔

تیسری شرط: کردار یافتہ افراد کی کثرت

ہر بڑی تبدیلی کا آغاز چند لوگوں سے ہوتا ہے، لیکن کامیابی اس وقت آتی ہے جب وہ چند لوگ ایک بڑی سماجی قوت بن جائیں۔

جماعتِ اسلامی کی اصل طاقت جلسے نہیں، اس کی تربیت ہے۔

وہ تربیت جو انسان کو اپنے مفاد سے اوپر اٹھ کر سوچنا سکھاتی ہے۔

وہ تربیت جو قومیت، زبان اور برادری سے آگے بڑھ کر ایک بڑے مقصد سے جوڑتی ہے۔

جب ایسے افراد معاشرے میں مؤثر تعداد میں موجود ہوں گے تو ان کے اثرات سیاست سمیت ہر شعبے میں محسوس ہوں گے۔

تو آخر کامیابی کب آئے گی؟

اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے:

جماعتِ اسلامی اس دن کامیاب ہوگی جس دن پاکستانی ووٹر خود بدل جائے گا۔

جس دن ووٹ برادری کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضمیر کی بنیاد پر پڑے گا۔

جس دن لوگ یہ نہیں پوچھیں گے کہ "کون جیت رہا ہے؟" بلکہ یہ پوچھیں گے کہ "کون درست ہے؟"

جس دن جذبات کے بجائے شعور فیصلہ کرے گا۔

جس دن مفاد کے بجائے اصول اہم ہوں گے۔

اس دن سیاسی منظرنامہ بھی بدل جائے گا۔

آخری بات

شاید اصل سوال یہ نہیں کہ جماعتِ اسلامی کب کامیاب ہوگی۔

اصل سوال یہ ہے کہ پاکستانی عوام کب کامیاب ہوگی۔

کیونکہ اگر ایک قوم بار بار وہی غلطیاں دہراتی رہے تو مسئلہ صرف سیاسی جماعتوں میں نہیں ہوتا، کہیں نہ کہیں مسئلہ اجتماعی سوچ میں بھی ہوتا ہے۔

جس دن یہ قوم اپنے آپ سے سچائی کے ساتھ یہ سوال پوچھ لے گی:

"ہم نے ہر بار کیا چنا، اور کیوں چنا؟"

شاید اسی دن بہت سے جواب خود بخود سامنے آ جائیں گے۔

اور اگر وہ دن آیا، تو ممکن ہے کچھ ایسی تحریکیں، جنہوں نے مشکل وقت میں بھی اپنے نظریے، اپنی تنظیم اور اپنی تربیت کو زندہ رکھا، قوم کو پہلے سے تیار کھڑی ملیں۔

کیونکہ تاریخ میں وہی لوگ اور تحریکیں دیر تک زندہ رہتی ہیں جو حالات کے ساتھ بکتی نہیں، دباؤ کے ساتھ جھکتی نہیں، اور ناکامیوں کے باوجود اپنا سفر جاری رکھتی ہیں۔

اور ہمیشہ باقی رہنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔

~Ahm

Want your business to be the top-listed Realtor/realty Service in Swabi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address

Mardan Road Swabi
Swabi
23430