Mehran Ali Shah
سندھ حکومت کی غفلت سے مینگروو جنگلات کی تباہی: سندھ سرکار اہم ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں ناکام
مھران علی شاہ
پاکستان کے آڈیٹر جنرل کی جانب سے کی گئی ایک سخت ماحولیاتی آڈٹ رپورٹ میں سندھ کی پیپلز پارٹی (PPP) کی زیرقیادت حکومت پر صوبے کے مینگروو جنگلات کے تحفظ اور بحالی میں شدید غفلت کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ رپورٹ، جو 2011-12 سے 2016-17 تک کے دور کا احاطہ کرتی ہے، ان اہم منصوبوں کے ناکام نفاذ کو بے نقاب کرتی ہے جو ساحلی کمیونٹیز کی حفاظت، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے، اور سمندری حیاتیات کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرنے والے ان مینگروو جنگلات کے تحفظ کے لیے بنائے گئے تھے۔ مینگروو محض درخت نہیں؛ یہ ساحلی ماحولیاتی نظام کی جان ہیں۔ یہ جنگلات سونامی، سمندری طوفانوں، اور سمندر کے بڑھتے پانی کے خلاف قدرتی رکاوٹ کا کام کرتے ہیں، جبکہ سمندری حیات کے لیے پناہ گاہ اور ہزاروں ساحلی باشندوں کی روزی روٹی کا ذریعہ بھی ہیں۔ ان کی ماحولیاتی اور معاشی اہمیت کے باوجود، سندھ کے مینگروو جنگلات (خاص طور پر انڈس ڈیلٹا میں) بدانتظامی، نگرانی کی کمی، اور حکومتی ترجیحات میں ان کے تحفظ کو نظرانداز کیے جانے کے باعث تباہی کے دہانے پر ہیں۔ ماحولیاتی آڈٹ رپورٹ میں کئی تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں جو مینگروو کے تحفظ کے تئیں سندھ حکومت کی بے حسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ دو بڑے منصوبے، "انڈس ڈیلٹا میں سمندری مداخلت کو روکنے کے لیے مینگروو جنگلات کی بحالی، ترقی اور انتظام" اور "انڈس ڈیلٹا میں سمندری مداخلت کو کم کرنے میں مینگروو کا ممکنہ کردار"، جن کا کل بجٹ 1.3 ارب روپے سے زیادہ تھا، اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ رپورٹ کے مطابق، ان منصوبوں میں تاخیر، بدانتظامی، اور مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ واضح ہدایات اور ٹائم لائن کے باوجود، سندھ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ مینگروو کی شجرکاری اور حیاتیاتی بحالی کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ مثال کے طور پر، 11,905 ہیکٹرز پر شجرکاری کا ہدف 2016-17 تک صرف 8,705 ہیکٹرز تک پہنچ پایا۔ آڈٹ میں بے جا اخراجات اور بغیر جواز ادائیگیوں کا انکشاف ہوا۔ ایک واقعے میں 48.452 ملین روپے ایسے کاموں پر خرچ کیے گئے جو منصوبے کے اہداف میں شامل ہی نہیں تھے۔ نگرانی کا فقدان منصوبوں میں مؤثر مانیٹرنگ کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے مینگروو کی بحالی کے اثرات کا جائزہ لینے والا کوئی تیسرا فریق موجود نہیں تھا۔ اہلکاروں کی کمی فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ نے ضروری عملہ (جیسے GIS ماہرین، فاریسٹ آفیسرز) کی تعیناتی نہیں کی، جس سے منصوبوں کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ تحقیق کو نظرانداز کرنا مینگروو کے ماحول کو سمجھنے کے لیے مختص ریسرچ فنڈز استعمال نہیں کیے گئے، جس سے مسائل کے حل کی سائنسی حکمت عملی نہ بن سکی۔ آڈٹ رپورٹ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے ماحولیاتی تحفظ کے وعدوں پر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود، حکومت نے مینگروو کے تحفظ کو ترجیح نہیں دی، جبکہ یہ جنگلات صوبے کی معیشت اور ماحول کے لیے اہم ہیں۔ سیاسی کمزوری اور بیوروکریٹک نااہلی نے ان جنگلات کی تباہی کو تیز کیا ہے۔ رپورٹ میں سندھ حکومت کو فوری اقدامات کی تجاویز دی گئی ہیں، جن میں مستقل نگرانی کا نظام، اہلکاروں کی بھرتی، اور مینگروو پر انحصار کرنے والوں کے لیے متبادل روزگار شامل ہیں۔ تاہم، یہ سفارشات اس وقت تک بے اثر ہیں جب تک حکومت سنجیدگی سے کام نہیں کرتی۔ سندھ کے مینگروو جنگلات کی تباہی صرف ماحولیاتی المیہ نہیں، بلکہ حکومتی کوتاہیوں کا آئینہ دار ہے۔ سندھ سرکارکو چاہیے کہ فوری طور پر ان جنگلات کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ اگر یہ تباہی جاری رہی، تو نہ صرف ماحول بلکہ سندھ کے لاکھوں ساحلی باشندوں کی بقا بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ وقت excuses کا نہیں، عمل کا ہے!
ماهيگيرن جا بنيادي مسئلا حل نه ٿيڻ سنڌ سميت بدين ۾ ڊنڊن ڊورن تي بااثرن پاران قبضا ڪرڻ خلاف ۽ وفاقي حڪومت پاران ڇھ نوان ڪينال ڪڍڻ ڻ خلاف سيد مھراڻ شاه ۽ سيده ياسمين شاه جي اڳواڻي ۾ ھزارين ماهيگيرن مردن عورتن پاران شھيد بينظير چوڪ کان بدين پريس ڪلب تائين ريلي ڪڍي سخت احتجاج ڪيو ويو.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the organization
Telephone
Address
Sindh