Data upload
یہ نوجوان کوئٹہ کا زیارت گل ہے۔
زیارت گل سات سے آٹھ سال کی عمر میں گھر سے نکلا تھا آج تک نہیں لوٹ سکا۔
انکا کہنا ہے کہ میں یتیم تھا،ماں باپ دونوں فوت ہوچکے تھے،ہم دو بھائی اور ایک بہن تھے۔
تایا کی پرورش میں تھے۔
بہن کی شادی ہمارے ہوش سنبھالنے سے قبل ہوئی تھی نا بہن کا نام یاد ہے اور نا کبھی دیکھا تھا۔ ایک بھائی کا نام جنت گل تھا۔
تایا زاد بھائیوں کے نام خوانی،عمرگل،اور گل حسن خان ہیں۔
خوانی کے تین بچے تھے جن کے نام روزی گل،نیاز ولی اور عبدالہادی تھے۔
سال 1999 میں انکی رہائش کوئٹہ کے پشتون آباد میں تھا۔پہلے پشتون آباد تھانے کے پاس رہائش تھی پھر وہاں سے شفٹ ہوگئے کچھ فاصلے پر ایک محلے میں شفٹ ہوئے جہاں بالکل قریب میں پہاڑ تھا اور گھر کے سامنے مسجد تھی۔
پشتون آباد روڈ پر ایک مدرسہ تھا اس مدرسے میں پڑھتا تھا،مدرسے میں ایک استاذ پاؤں سے معذور تھے جنکو "گڈ مولوی صاحب" کہتے تھے۔ایک کلاس فیلو کا نام امیر جان تھا۔
تایا ذات بھائی نے پڑھائی سے نکال کر کام پر لگایا تھا،کام کی سختی کی وجہ سے سات سال کی عمر میں گھر سے بھاگ گیا تھا۔
کسی نے ایک دن اپنے گھر رکھ کر کوئٹہ کے شیلٹر میں جمع کردیا تھا۔چند روز بعد شیلٹر نے اپنے کراچی شیلٹر میں بھیج دیا تھا۔
کراچی شیلٹر میں تقریبا چار سال رہا،اسکے بعد ریڈیو پاکستان میں لیجاکر انٹرویو کروایا گیا تو وہ انٹرویو تایا زاد بھائی نے سن لیا تھا وہ لینے آگئے۔
تایا زاد کراچی کے علاقے کراچی کے قائد آباد اپنے ساتھ لےگیا اور وہاں پھر سے مزدوری پر رکھا،انکی سختی کی وجہ سے میں پھر بھاگ گیا۔
کراچی میں کسی نیک دل انسان نے اپنا بیٹا بنالیا،آج تک انکے ساتھ ہے۔
زیارت گل کا کہنا ہے کہ پہلے میں بہت کمسن تھا،جسکی وجہ سے نادانیوں بہت ہوئیں،اب مجھے اپنے خونی رشتے یاد آتے ہیں تو راتوں میں تنہائی میں روتا ہوں رو رو کر صبح ہوجاتی ہے۔
ایک ہوٹل میں صبح سے رات دیر تک کام کرتا ہے۔
آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں یہ پوسٹ پڑھ رہے ہیں،انسانی فریضہ ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کیا جائے۔ اور زیارت گل کو تنہائیوں کی اذیت سے نکال پر اپنوں سے ملائیں۔ ۔کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
03162529829
23 April 2026
14/04/2026
کیا میرا کام بھی ہوگا ناں۔۔؟!!
فیصل آباد:
اس نوجوان کا نام عرفان ہے والد کا نام ناہید یاد ہے
یہ سال 1998 کی بات ہے جب عرفان کم سن بچہ تھا،ماں باپ کا لاڈلا اور انکی آنکھوں کا تارا تھا،ماں باپ اپنے ساتھ بازار لیکر گئے تھے،بازار کے رش میں عرفان ان سے الگ ہوا اور بچھڑ گیا۔
عرفان کا کہنا ہے کہ مجھے یاد آرہا ہے ہم فیصل آباد میں رہتے تھے اور جس بازار میں امی ابو کے ساتھ گیا تھا اس بازار کا نام چوڑی بازار ذہن میں آرہا ہے۔ابو چمڑے کا کام کرتا تھا۔گھر گاؤں جیسے علاقے میں تھا۔ ابو کا نام ناہید یاد ہے۔ایک بھائی تھا اسکا نام یاد نہیں ہے۔ میرا نام "عرفان" بھی مجھے کنفرم نہیں اصلی نام ہے یا شیلٹر والوں نے رکھا تھا۔
میرے گھر والوں کو ڈھونڈو میری بڑی خواہش ہے اپنوں کو دیکھ لوں اور اس "زندگی" سے جان چھوٹ جائے بہت دل کرتا ہے گھر ملے چلا جاؤں۔
جاتے جاتے عرفان نے نہایت ہی بےبسی کی تصویر بن کر سوال کیا "ولی بھائی یار میرا کام ہوجائےگا ناں؟" تو میرا گلا بھرا گیا جواب میں ان شاءاللہ سے زیادہ کچھ نا کہہ سکا۔
آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر یہ تحریر پڑھ رہے ہیں برائے مہربانی انسانی فریضہ ادا کرتے ہوئے ضرور شئیر کریں۔
آپکا ایک شئیر عرفان کو محرومیوں سے نکال کر خوشحال بناسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
03162529829
14 april 2026
*السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ*
*❁بِسْــــــــــــــــــمِ اﷲِالرَّحْمَنِ اارَّحِيم❁۔*
*❁اللَّهُمَّ صَــّلِ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ ❁ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيْمَ ❁ إنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ ❁*🩷🤍💛🩵
*❁ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ ❁ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيْمَ ❁ إنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ ❁*🩷🤍💛🩵
Data upload Poshish Maker Qasim poshish
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
64200
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Saturday | 09:00 - 17:00 |
| Sunday | 09:00 - 17:00 |