Quetta News Network
🚨 "اسٹیج پر للکار، پولیس آئی تو فرار! قدوس کاکڑ آخرکار پولیس کے ہتھے چڑھ گئے
15/06/2026
کوئٹہ (رپورٹ کوئٹہ نیوز نیٹ ورک ): گورنر بلوچستان نے آئین کے آرٹیکل 109(a) کے تحت بلوچستان صوبائی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 17 جون 2026ء بروز بدھ سہ پہر 4 بجے طلب کر لیا۔ صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس کے دوران افسران، اہلکاروں اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نمائندوں کا داخلہ صرف کارڈ کے ذریعے ممکن ہوگا، جبکہ تمام سرکاری و غیر سرکاری مسلح سکیورٹی گارڈز کے اسمبلی سیکرٹریٹ میں داخلے پر پابندی عائد رہے گی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر تمام جنرل وزیٹرز کا اسمبلی سیکرٹریٹ میں داخلہ بھی سختی سے ممنوع ہوگا۔
14/06/2026
کوئٹہ (پ ر)
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکٹریٹ کے پریس ریلیز میں وفاقی بجٹ کو عوام دشمن، غیر منصفانہ، مرکزیت پسند اور آئی ایم ایف کی شرائط کے تابع قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بجٹ عوامی فلاح، تعلیم، صحت، روزگار اور پسماندہ قومی وحدتوں کی ترقی کے بجائے قرضوں، سودی معیشت، استحصالی طبقات اور مقتدرہ اشرافیہ کے غیر پیداواری اخراجات کے تحفظ کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 18 ھزار ارب روپے سے زاھد کے اس وفاقی بجٹ میں سے تقریباً 8 ھزار روپے قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جو مجموعی بجٹ کا بڑا حصہ ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ملکی معیشت مسلسل قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور قومی وسائل عوامی بہبود کے بجائے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور قرض دہندگان کی نذر کیے جا رہے ہیں۔
پارٹی کے مطابق بجٹ خسارہ 7 ہزار ارب روپے سے زائد ہے جبکہ محصولات کے اہداف کے حکومتی دعوے حقیقت پسندانہ نہیں۔ وفاقی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ دوسری جانب عوام کی خوراک، پوشاک اور روزمرہ ضروریات سے وابستہ اشیاء پر 39 نئے اور بھاری ٹیکس عائد کیے گئے ہیں، جس سے پہلے سے جاری مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ۔ژوب۔ڈی آئی خان قومی شاہراہ کی دو رویہ تعمیر اور پشتون علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر جیسے اہم منصوبے بجٹ میں شامل نہیں کیے گئے۔ حکومت نے ایف بی آر کے لیے 15 ھزار ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا ہے، جس کے نتیجے میں براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ اس سے تنخواہ دار طبقہ، چھوٹے کاروباری افراد، متوسط طبقہ، مزدور، کسان اور پیشہ ور طبقہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہوگا، جبکہ پٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس، موبائل فون سروسز، انٹرنیٹ، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ یقینی ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں مسلسل بڑھتے ہوئے سیلز ٹیکس، پٹرولیم لیوی اور یوٹیلٹی نرخوں کے باعث عوام پہلے ہی شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور قوتِ خرید میں کمی نے مزدوروں، کسانوں، سرکاری ملازمین، پنشنرز اور متوسط طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جبکہ نئے ٹیکس اقدامات اس بحران کو مزید گہرا کریں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے دفاعی اخراجات کی مد میں 3 ھزار روپے مختص کیے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 450 ارب روپے (17.7 فیصد) زیادہ ہیں۔ مزید برآں صوبوں کے حصے سے ایک ہزار ارب روپے دفاع کے نام پر کم کیے گئے ہیں، حالانکہ عسکری اداروں کے وسیع کاروباری اثاثوں کا ایک حصہ بھی دفاعی ضروریات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
پارٹی نے کہا کہ اگر دفاعی اخراجات میں اضافہ ممکن ہے تو تعلیم، صحت، زراعت، روزگار، صاف پانی اور سائنسی تحقیق جیسے شعبوں کے لیے وسائل کی کمی کا جواز نہیں رہتا۔ تعلیم پر اخراجات کا جی ڈی پی کے محض 0.8 فیصد تک محدود ہونا حکمرانوں کی ترجیحات کو واضح کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بڑے سرمایہ داروں، جاگیرداروں، رئیل اسٹیٹ مافیا اور مراعات یافتہ طبقے کو بدستور تحفظ حاصل ہے، جبکہ ٹیکسوں کا اصل بوجھ تنخواہ دار طبقے، مزدوروں، کسانوں، تاجروں اور عام شہریوں پر ڈالا جا رہا ہے، جو معاشی انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
مزید کہا گیا کہ پشتونخوا وطن، بلوچستان، سندھ اور سرائیکی و سمیت محکوم قومی وحدتوں کو درپیش پسماندگی، بے روزگاری اور تعلیم و صحت کے بحران کو بجٹ میں نظر انداز کیا گیا ہے، جبکہ ترقیاتی وسائل ان علاقوں کی ضروریات کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ بجٹ درحقیقت قرضوں، سودی معیشت، مرکزیت اور آئی ایم ایف کی پالیسیوں کا عکاس ہے، جس سے مہنگائی، غربت اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس بجٹ سے نہ معاشی خودمختاری حاصل کی جا سکتی ہے اور نہ ہی عوامی مسائل کا پائیدار حل ممکن ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ قومی وسائل کو دفاعی و غیر پیداواری اخراجات کے بجائے تعلیم، صحت، روزگار، زراعت، صنعت، توانائی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کی جانب موڑا جائے، این ایف سی ایوارڈ اور آئینی حقوق پر مکمل عملدرآمد کیا جائے، ٹیکس نظام کو منصفانہ بنایا جائے اور مراعات یافتہ طبقات کو مؤثر طور پر ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، تاکہ ایک منصفانہ، جمہوری اور عوامی معاشی نظام تشکیل دیا جا سکے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Address
87300