Muhammad Essa Roshan

Muhammad Essa Roshan

Share

16/05/2026

چیئرمین پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اور رکنِ قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں -

16/05/2026

#کوټه

Photos from Muhammad Essa Roshan 's post 10/05/2026

کوئٹہ (پ ر) پشتونخوا نیپ کے اہتمام پر پشتون قومی سیاسی تحریک کے عظیم رہنما اور پشتونخوا میپ کے سینئر ڈپٹی چیئرمین، ممتاز پارلیمنٹیرین اور نامور تاریخ دان عبدالرحیم خان مندوخیل کی نویں برسی کا جلسۂ عام کوئٹہ کے لیاقت پارک میں پارٹی چیئرمین اور قومی اسمبلی کے رکن خوشحال خان کاکڑ کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ جلسے سے سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا، سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، مرکزی سیکرٹری اللہ نور خان اور صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ندا سنگر نے انجام دیے اور تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت مولوی فضل کریم نے حاصل کی۔

چیئرمین خوشحال خان نے ارواشاد عبدالرحیم خان مندوخیل کو ان کی عظیم قومی، سیاسی، ادبی اور صحافتی خدمات پر پشتون افغان کے غیور ملت اور تمام جمہوری قوتوں کی نمائندگی سے زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عبدالرحیم مندوخیل نابغۂ دوران شخصیت کے مالک اور بلند پایہ کے سیاسی اور قومی رہنما تھے۔ ان کی خدمات سیاست تک محدود نہیں تھیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں ان کی خدمات تاریخی مقام رکھتی ہیں۔ جناب عبدالرحیم مندوخیل نے پشتون قومی سیاسی تحریک کو جدید عصر کے علمی و سائنسی نظریات پر منظم کرکے پشتون افغان قومی سیاست کی درست سمت کا تعین کیا۔ انہوں نے پشتونخوا وطن کی جمہوری قومی سیاسی قوتوں کو قومی وطنی پارٹی میں متحد و منظم کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ پشتونخوا میپ اور پشتونخوا مزدور کسان پارٹی کی وحدت پر مبنی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا قیام ان کا ایک تاریخی کارنامہ تھا۔ مرحوم رہنما نے پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی محکوم قوموں کے اتحاد پونم کی تشکیل میں رہنما کردار ادا کیا اور ملکی سطح پر ایم آر ڈی اور دیگر جمہوری محاذوں میں بنیادی کردار ادا کیا۔ وہ بلند پایہ کے پارلیمنٹیرین تھے۔ انہوں نے محکوم قوموں اور ملک کے تمام عوام کے حق میں اٹھارویں آئینی ترمیم میں پُرافتخار کردار ادا کیا۔ ان کی تاریخی تصانیف اور ان کے تخلیق کردہ سیاسی، علمی اور نظریاتی لٹریچر قومی سیاسی تحریک کا قیمتی اثاثہ ہے۔ پشتونخوا نیپ اور قومی تحریک ان کے افکار اور تعلیمات کو قومی نجات کی جدوجہد میں مشعلِ راہ بنا کر ان کے ارمانوں کی تکمیل کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں پشتون افغان ملت کو بدترین صورتِ حال کا سامنا ہے۔ استعماری ریاستی اداروں نے پشتونوں کو اس ملک میں تمام بنیادی انسانی حقوق و اختیارات سے یکسر محروم کیا ہے اور ملک پر غیر اعلانیہ مارشل لا مسلط کرکے تمام محکوم اقوام بالخصوص پشتونوں کو جبر و استحصال کا نشانہ بنایا ہے۔ گزشتہ پچاس سالوں کے دوران پشتونخوا وطن اور افغانستان پر بدترین دہشت گردی کی ایسی حالت مسلط کی گئی ہے کہ پشتونخوا وطن کا کوئی شہر، گاؤں، مسجد، حجرہ، سکول، ہسپتال اور کوئی طبقہ و پیشہ محفوظ نہیں رہا۔ ہمارے وطن میں روزگار کے تمام امکانات تباہ کیے گئے ہیں اور کروڑوں پشتونوں کو اپنے تاریخی علاقوں سے بے دخل کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ افغانستان کی تباہی و بربادی کے بعد ڈیورنڈ لائن پر تمام تجارتی راستوں کو بند کرکے پشتونوں کی معاشی قتلِ عام کا سلسلہ بے رحمی سے جاری ہے، حالانکہ دیگر اقوام کو تجارت کے تمام حقوق حاصل ہیں۔ ستم بالاۓ ستم یہ ہے کہ پشتونوں کو ملک کے دیگر صوبوں میں محنت مزدوری و جائز کاروبار کرنے کا حق بھی حاصل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان پر مقدس دینِ اسلام کے نام پر طالبان کا افغان دشمن رجیم مسلط کیا گیا ہے جس کو تمام افغان عوام نے مسترد کیا ہے۔ ہم نے افغانستان میں مداخلت و جارحیت کی ہر استعماری پالیسی کے خلاف ہر وقت آواز اٹھائی ہے۔ استعمار گروں نے کل جس کو مجاہد بنایا تھا، آج دہشت گردی کے نام پر افغانستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ جاری رکھی ہے۔ ہمارے حکمران ریاست کے خلاف جنگ کو اسلام مخالف قرار دیتے ہیں جبکہ افغانستان کی ریاست کے خلاف جارحیت کی ہر جنگ کو جائز قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے قومی جذبے کے تحت امریکہ کی سپر طاقت کو قومی طاقت سے ناکام بنایا۔ ایران کی ریاستی صلاحیت اور میزائلوں نے ایران کا دفاع کیا ہے جبکہ افغانستان میں قومی اداروں اور قومی افواج کو ختم کرکے افغان عوام کو ایک بے بس قوم بنا دیا گیا ہے۔ افغانستان کی ملی استقلال، ملی حاکمیت اور سلامتی کے دفاع کے لیے لازم ہے کہ طالب رجیم افغانستان میں لویہ جرگہ کے ذریعے تمام ریاستی اداروں کو بحال کرکے افغان عوام کی نمائندہ جمہوری حکومت کا قیام عمل میں لائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں افغان کڈوال عوام کے خلاف ملکی اور عالمی قوانین کے برخلاف بدترین غیر انسانی برتاؤ جاری رکھا گیا ہے اور پشتونخوا وطن کے تمام عوام کو افغان کڈوال تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ اور پنجاب میں ہر پشتون پر روزگار کے دروازے بند کیے گئے ہیں۔ ملک میں پشتون ٹرانسپورٹروں کے خلاف جابرانہ اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ جن تجارتی اشیا کی اسمگلنگ کے نام پر کروڑوں کی مالیت کے ٹرکوں اور بسوں کو ضبط کیا گیا ہے، ان تمام اشیا کی تجارت کا حق سندھ و پنجاب کو حاصل ہے۔ پشتون ہر قسم کے تجارتی سامان کا ٹیکس ادا کرنے کے باوجود اجازت نہیں رکھتے جبکہ دیگر اقوام کو ٹیکس ادا کیے بغیر تجارت کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن کے معدنیات سے مالامال پہاڑوں اور زرخیز زمینوں کے ہزاروں مربع میل علاقوں کو غیروں کے نام الاٹ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پشتون دشمن اقدام کا کوئی قانونی اور آئینی جواز نہیں۔ پشتونخوا نیپ اپنے محبوب وطن کے قدرتی ذخائر کی الاٹمنٹ پر خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔ اس سلسلے میں عید کے چوتھے دن برشور میں عوام کا ایک نمائندہ جلسۂ عام منعقد ہوگا اور اس کے بعد صوبے کی تمام جمہوری سیاسی پارٹیوں اور عوامی نمائندوں کے ساتھ باہمی مشاورت سے آئندہ کے لائحۂ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا -

Photos from Muhammad Essa Roshan 's post 09/05/2026

کوټه: د پښتونخوا نیښنل عوامي پارټۍ د جنوبي پښتونخوا صوبایي کمېټې غونډه د صوبایي صدر نصرالله خان زیرې په صدارت کښې راونه ده .

د غونډې دروند مېلمه د پښتونخوا نیپ چیرمین او د قامي اسمبلۍ غړي خوشال خان کاکړ دې ، د غونډې په صداراتې مجلس کښې د پارټۍ سینیر ډیپټی چیرمین او پخواني سینیټر رضا محمد رضا، د پارټۍ سینیر سیکریټرې سید قادر آغا ایډوکیټ ،مرکزې سیکریټرې اطلاعات محمد عېسئ خان روشان ، مرکزي سیکریټریز چیرمین الله نور خان ،محترمه صاحبه بړېڅې، ډاکټر بایزېد روشان ، صوبایي نائب صدر عبدالقیوم ایډوکیټ ،صوبای ډپټې سیکریټرې محترمه عارفه صدېق صاحبه او صوبای ایګزېکټیو نور غړې شتون لرې ، په غونډه کښې صوبایي کمېټې درانه غړې په ګڼ شمېر ګډون لرې -

Photos from Muhammad Essa Roshan 's post 06/05/2026

تاریخ : 2026-05-04
ہندو باغ (پ ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ پارٹی نہ صرف اپنے ملی و قومی اہداف کے حصول کے لیے بھرپور اور مسلسل جدوجہد جاری رکھے گی بلکہ پشتون قومی ثقافت، اعلیٰ روایات، اقدار اور پشتون وطن کے تاریخی میلوں اور روایتی کھیلوں کو بھی بھرپور انداز میں زندہ و تابندہ بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی و جمہوری جدوجہد کو پشتون قومی ثقافت اور اعلیٰ انسانی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے ہر قسم کی انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خلاف جدوجہد کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ قوم کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرتے ہوئے منزلِ مقصود حاصل کی جا سکے۔ یہ بات انہوں نے کان مہترزئی کے خوبصورت اور تاریخی مقام پر منعقدہ “ملی شہید سور گل کند میلہ” کی شاندار اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس عظیم الشان اور تاریخی میلے کا افتتاح پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، سینئر رہنما سید قادر آغا ایڈووکیٹ، مرکزی سیکریٹری اطلاعات عزیزی روشان، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے ،مرکزی سیکریٹری اللہ نور خان ، صوبای سیکریٹری فقیر خوشحال کاسی اور پارٹی کے دیگر رھنماوں نے مشترکہ طور پر کیا، جبکہ اس موقع پر پارٹی کے دیگر مرکزی، صوبائی اور ضلعی قائدین بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے اپنے تفصیلی خطاب میں کہا کہ ایک طویل عرصے سے پشتونخوا وطن پر مصنوعی انتہا پسندی اور دہشت گردی مسلط کی گئی ہے، جبکہ ملک کے حکمرانوں کی جانب سے پشتون افغان ملت کے لباس، زبان، ثقافت اور طرزِ زندگی کو دانستہ طور پر دہشت گردی سے جوڑ کر عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پشتون افغان ملت کے قومی وجود، شناخت اور اعلیٰ انسانی، اسلامی اور پشتنی ثقافتی اقدار کو مسلسل نقصان پہنچایا گیا، جو کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پشتون افغان ملت اپنی ہزاروں سالہ تاریخ میں کبھی بھی انتہا پسندی، دہشت گردی یا فرقہ واریت سے وابستہ نہیں رہی، بلکہ یہ قوم ہمیشہ اعلیٰ انسانی روایات، باہمی احترام، برداشت اور جمہوری اقدار کی علمبردار رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا یہ عظیم الشان اور تاریخی میلہ اسی حقیقت کا واضح اور عملی ثبوت ہے، جس کی بنیاد ایک قومی ہیرو (ملی شہید) نے دو دہائیوں قبل رکھی تھی اور اس تاریخی مقام کا انتخاب بھی خود کیا تھا۔ انہوں نے میلے میں ہر علاقے، ہر طبقے اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے عوام کی بھرپور اور والہانہ شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پشتون قوم اپنی ثقافت، روایات اور قومی شناخت سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درجنوں روایتی کھیلوں میں نوجوانوں کی شرکت اور جوش و خروش اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ نئی نسل اپنی ثقافتی جڑوں سے مضبوطی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس امر کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا کہ میلے کے تمام انتظامات عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت مکمل کیے، جو کہ اجتماعی شعور، باہمی تعاون اور قومی یکجہتی کی ایک بہترین مثال ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت پشتون افغان ملت شدید مشکلات، قومی محکومی، قومی وحدت کی کمزوری اور سیاسی، معاشی و ثقافتی اختیارات سے محرومی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل سے نجات کے لیے منظم، مسلسل اور قربانیوں سے بھرپور سیاسی جدوجہد ناگزیر ہے۔ وسائل سے مالا مال سرزمین کے باوجود عوام کا غربت، بے روزگاری، بھوک اور کسمپرسی کا شکار ہونا ایک المیہ ہے، جس کا خاتمہ صرف ایک مضبوط اور منظم سیاسی تحریک کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ایک مضبوط، نظریاتی اور عوامی حمایت یافتہ جماعت کی اشد ضرورت ہے، اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اس قومی ذمہ داری کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے پشتونخوا وطن کے تمام باشعور اور غیور عوام سے اپیل کی کہ وہ پارٹی کو مزید مضبوط، فعال اور منظم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ قومی حقوق کے حصول کی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔ انہوں نے خواتین کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے ہر شعبے میں خواتین کو ان کے جائز حقوق دینا اور ان کے کردار کو تسلیم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پشتون ماؤں اور بہنوں نے ہر دور میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، اور زرغونہ انا اور ملالی جیسی عظیم شخصیات آج بھی اسی سرزمین سے جنم لے سکتی ہیں۔ آخر میں پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے میلے کے کامیاب انعقاد پر منتظمین، مختلف ٹیموں کے کھلاڑیوں، انعام حاصل کرنے والوں اور شریک تمام عوام کو دلی مبارکباد پیش کی اور ان کی کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے ضلعی و تحصیل انتظامیہ اور پولیس کے افسران و اہلکاروں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے میلے کے پرامن انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Quetta?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Pknap Central Office
Quetta
87300