Tech Wits
35 Life skills increase your value in personal and professional life. Let's Learn these skills.
https://www.facebook.com/AzadChaiwala/videos/4702231816499534/
07/03/2021
امازون ہول سیل بزنس ماڈل
عموما چالس سال کی عمر کے لوگ جن پہ جاب کا بہت زیادہ پریشر نہیں ہوتا وہ کوئی بزنس کرنے کی سوچتے ہیں۔ میرے ایک دوست نے پوچھا تو میں نے تفصیلا پوسٹ لکھ دی۔ چالیس سال کے لوگوں کے لیے یہ بزنس ماڈل شیر کر رہا ہوں۔ساری تفصیل کے ساتھ۔ کم یا زیادہ عمر کے لوگ بھی کر سکتے ہیں یہ کام۔
--------------------------------------
چالیس سال کی عمر کے لوگوں کے لیے بزنس ماڈل
-----------------------------+--------
ہمارے ایسے دوست جن کے پاس تھوڑی بہت سیونگ ہے ( چار ہزار سے دس ہزار ڈالر تک) تو آپ لوگ امازون ہول سیل بزنس ماڈل کریں۔ یہ ڈراپ شپنگ سے تھوڑا مختلف ماڈل ہے اور بہترین بزنس ہے آپکی عمر کے لوگوں کے لیے۔
ڈراپ شپنگ میں لوگ ایک ریٹیلر سے پکڑ کر کسٹمر کو سیل کر دیتے ہیں۔ اس میں آپکے اکاونٹ بلاک ہو جاتے ہیں۔ ای بے پہ زیادہ تر ڈراپ شپنگ چلتی ہے۔ اسکا اکاؤنٹ آسانی سے بن جاتا ہے اس لیے کچھ لوگ یہ کام کرتے ہیں۔ یہ ماڈل آپکا بہت ٹائم مانگتا ہے۔ ہول سیل نسبتا آسان اور بہت کم ٹائم لیتا ہے۔
اس میں مندرجہ زیل مراحل آتے ہی ۔
1: اس میں اپ یو ایس میں ایک کمپنی رجسٹر کرتے ہیں جو تین سو سے سات سو ڈالر میں رجسٹر ہو جاتی ہے۔
یو کے میں زیادہ سستی ہو جاتی ہے۔ لیکن یو کے امازون مارکیٹ نسبتا چھوٹی ہے ہول سیل کے لیے۔ اس لیے امریکہ میں کمپنی رجسٹر کروائیں۔ فائیور آپ ورک پہ لوگ آپکو یہ سروس دے رہے ہیں۔
آپ خود بھی یہ کام کر سکتے ہیں اگر آپکو فیزیکلی ایڈریس مل جائے تو۔
2:: ہول سیل ویب سائیٹ بنوائیں۔ یہ پچاس سے سو ڈالر میں بن جائے گی۔ فائیور سے اس سے سستی بھی شاید بن جائے۔
3:: ایک سم خریدیں امریکہ یا انگلنڈ کی۔ جہاں ہول سیل کرنا یے۔ ورچئل نمبر مل جاتے ہیں یو ایس کے۔ سکائپ بھی یہ سہولت دیتا ہے۔ بہت ساری سروسز موجود ہیں۔
4:: ایک وی اے ہائر کریں اسکو سو دو سو ڈالر مہینہ تنخواہ دینی پڑے گی۔ وہ روزانہ تین چار گھنٹے کام کرے گا۔ پرافٹ میں اسکو تیس چالیس فیصد دینا ہو گا اسکی تفصیل آگے بیان کی گئی ہے۔
5:: وی اے پروڈکٹ ریسرچ کرے گا۔ اور برانڈز کو کال کرے گا۔ اسکی انگلش اچھی ہونا ضروری ہے۔ یہ کام اچھا تعلیم یافتہ ہی کر سکتا یے۔ عموما سولہ پڑھے ڈگری یافتہ وی اے مل جاتے ہیں آپ ورک، فائہور پہ جنکی انگلش اچھی ہوتی ہے اور وہ اس کام کو سمجھتے ہیں۔
ڈگری یافتہ وی اے اس لیے ضروری ہیں کہ وہ امازون کی طرف سے لائی گئی پابندیوں کو سمجھتے ہیں۔ امازون پہ سکن پہ استعمال ہونے والی اشیا، کھانے پینے والی یاس اس طرح کی دوسری اشیا کو سیل کرنے کے لیے برانڈ کا ایف ڈی اے اپروو ہونا ضروری ہے۔ وہ لوگ ایف ڈی اے کی ریکوائرمنٹس پڑھ کے اس کے پیچھے موجود سائنس کو سمجھ جاتے ہیں ، تعلیم انکو یہاں فایدہ دیتی ہے اور وہ ان سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے برانڈ سے بات چیت کرتے ہیں۔ اور برانڈ اپروول کے بعد امازون کو پڑھی لکھی سائینٹفک لاجک دے کے گیٹڈ کیٹگری انگیٹ کرواتے ہیں اپنے لیے۔
وی اے برانڈ کو کال کر کے ان سے امازون پہ سیل کرنے کی پرمیشن لے گا۔ بہت سے برانڈز فیزیکلی تو کسی سٹور پہ سیل کرنے کی اجازت دیتے ہیں امازون پہ نہین۔ اسکی وجوہات ہیں جنکو میں سکپ کر رہا ہوں۔ اشارتاً پرائز وار۔ کسی کو ڈگ ڈیپ کرنا ہے تو کافی ہے اشارہ۔
6:: برانڈ آپکو پرمیشن دیں گے ۔ بہت سے برانڈز دے دیتے ہیں۔ بہت سے انکار کر دیتے ہیں ۔ لاکھوں برانڈز ہیں ۔ یہ پراسس چلتا رہتا ہے جب تک آپکو چند ایسے سپلائرز نہ مل جائیں جو بہت اچھے مارجنز دیں۔
7:: آپ اس برانڈ سے سو دو سو پیس منگوا کر امازون پہ سیل کرتے ہیں انکی لسٹنگ پہ ٹیسٹ کرنے کے لیے۔ سیل مل جاتی ہے۔ انکی لسٹنگ پہ بائے باکس روٹیٹ ہوتا ہے ۔مطلب ہر کسی کو سیل ملتی ہے۔ ان برانڈز کی روزانہ کی امازون سیل لاکھوں میں ہوتی ہے جن میں اپکا بھی حصہ ہوتا ہے سیلز کا۔
8:: اوپر والے سٹیپ میں اپکا وی سے تیس فیصد انوسمنٹ کرے گا انونٹوری خریدنے میں جب آپ برانڈ سے خریدیں گے۔ اس سے پہلے کے خرچے آپ خود کریں گے۔ کمپنی، ویب سائہٹ، سم وغیرہ کے۔ اور آپ اس وی اے کو مہینے کا سو، دو سو ڈالر تنخواہ بھی دیں گے۔ اور پرافٹ پچاس فیصد شئر کریں گے۔
9؛: پاکستان میں بیٹھے آپ گوروں کو چیزیں بیچیں گے۔ اور انہی کے مل سے سورس کریں گے۔ اس ماڈل میں پروڈکٹ کو چائنا سے سورس نہیں کرنا ہوتا۔
یہ کام چالیس سال کی عمر کے لوگ سیکھ بھی آرام سے سکتے ہیں اور ٹیکنیکل کام کے لیے وی اے ہائر کر لیں۔ اسکا سارا پروسیجر لکھ دیا یے۔ وی اے آپکو فائیور یا آپ ورک پہ مل جائے گا اس ریٹ پہ پڑھا لکھا ڈگری یافتہ سکلڈ وی اے۔
اس ماڈل کو جتنا گڑ اتنا میٹھا کے حساب سے سکیل اپ بھی کر سکتے ہیں۔ مطلب جو آئٹم جلدی نکلتے ہیں انکی انونٹوری زیادہ منگوائیں اور اچھے مارجنز مل جائیں گے برانڈ سے۔ عموما دس سے بیس فیصد بچت ہوتی ہے اس ماڈل میں۔ برانڈڈ پروڈکٹس ہونے کی وجہ سے سیلز انتہائی زیادہ ہوتی ہین۔ اس میں وہ کیٹیگریز بھی آ جاتی نہیں جو عام سیلر سیل نہیں کر سکتے۔ مخصوص برانڈز کو پرمیشن ہوتی ہے سیل کرنے کی۔ اور آپ ان برانڈز سے رابطہ کر کے پرمیشن لیتے ہیں۔
تو یہ تھا امازون ہول سیل بزنس ماڈل۔
Bilal Ahmad Khan
21/02/2021
میرا ایک جاننے والا بیرون ملک سے پیسے کما کر آیا تھا اور اب پاکستان میں کاروبار کرنا چاھتا تھا
میرے سے سوال کیا کہ اس وقت پاکستان میں کس کاروبار کا رجحان ہے جو یقیناً کامیاب ھو
فوراً سے پہلے اسے کہا کہ اس وقت پاکستان میں سب سے بڑا سکوپ ایمانداری اور نفاست سے کیے گئے کام میں ہے
فی زمانہ اچھی ، معیاری ، نفیس اور معقول ریٹ والی چیزوں کی زبردست شارٹیج ہے ، جس بھی شعبے میں محنت کے ساتھ یہ کام شروع کر دئیے جائیں گے تو وہ کام دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے گا
پاکستان میں گاھک کو شعور آ رہا ہے ، اب لوگ رقم بچانےسے زیادہ کوالٹی کا خیال رکھتے ہیں ، مسئلہ زیادہ تر مڈل مین یعنی دکاندار کا ہوتا ہے جو زیادہ منافع کے لالچ میں گھٹیا چیز بیچنے کو ترجیح دیتا ہے
دوسرا رجحان کھانے پینے کی چیزوں میں صفائی ستھرائی اور اچھی پریزنٹیشن کے ساتھ معقول ریٹ کے ساتھ کسی بھی چیز کا کاروبار کر لیا جائے تو وہ بہت کامیاب ہو گا حتیٰ کہ یہی کام اگر ڑیڑھی ( جدید کارٹ ) پر بھی کر لیے جائیں تو بہت مناسب بچت ھو سکتی ہے
پاکستان میں سب سے زیادہ تعداد اوسط درجے یعنی مڈل کلاس لوگوں کی ہے ، بڑے ہوٹلوں کی عیاشی یہ لوگ سالانہ یا اگر اپر مڈل کلاس ھو تو ماہانہ طور پر کرتے ہیں ورنہ عام طور پر فوڈ سٹریٹ کے کھانوں کا ہی عام رواج ھوتا ہے
اگر لاہور کی بات کروں تو گلی محلوں ، فوڈ سٹریٹ اور ڑیڑھی وغیرہ پر صفائی کا معیار بہت گندا ھوتا ہے ، ان میں سے بعض لوگ ایسے بھی ھوتے ہیں کہ ان کی روزانہ بچت ھزاروں روپے میں ھوتی ہے لیکن صفائی پھر بھی ندارد !
ان شعبوں میں اگر جدت لائی جائے اور صفائی ستھرائی رکھی جائے تو صرف صفائی کا معیار ہی بہت بڑا پبلسٹی ٹول بن سکتا ہے
توصیف ملک
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Address
Punjab
531000