Azmat Akbar

Azmat Akbar

Share

Azmat Akbar, a youth activist, a professional businessman,a brave traveler, a warm hearted social worker, a trainer, an explorer and a passionate tourist being a travel guide himself.

07/04/2026

دنیا میں انسانوں نے بندر گاہیں بنائیں اور ایک الله نے بنائی !
جی ہاں ، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گودار "نیچرل ڈیپ سی " بندرگاہ جسے یقینی طور پر الله پاک کی بنائی بندرگاہ کہا جاسکتا ہے .
پاکستان گودار بندرگاہ ، جو صرف ایک شہر نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی طاقت کا دروازہ بن سکتی ہے. ایک ایسا تحفہ جو قدرت نے خود پاکستان کو عطا کیا ہے۔
گوادر کوئی عام بندرگاہ نہیں…
یہ ایک قدرتی Deep Sea Port ہے، جہاں سمندر کی گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ دنیا کا بڑے سے بڑے کارگو جہاز آسانی سے ٹھیک بندرگاہ کے اوپر بغیر چھوٹی کشتیوں کی مدد کے لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔

دنیا میں ایسی بندرگاہیں انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ گوادر کو “21ویں صدی کا تجارتی ہب” کہا جا رہا ہے۔

اگر گوادر مکمل طور پر فعال ہو جائے تو:
پاکستان کو اربوں ڈالر کی ٹرانزٹ آمدنی حاصل ہو سکتی ہے
لاکھوں نئی نوکریاں پیدا ہوں گی
بلوچستان کی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا
پاکستان عالمی تجارت کا مرکزی راستہ (Hub) بن سکتا ہے
یعنی گوادر صرف بندرگاہ نہیں… پاکستان کی معیشت کا انجن بن سکتا ہے۔

آج دبئی مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن اگر گوادر مکمل فعال ہو گیا تو:
ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درمیان نیا شارٹ روٹ بن جائے گا تجارت کا بڑا حصہ گوادر کی طرف منتقل ہو سکتا ہے .دبئی کی بندرگاہی برتری کو چیلنج ملے گا . اسی لیے کچھ ماہرین گوادر کو “Future Dubai Challenger” کہتے ہیں۔

گوادر کی اصل طاقت اس کی جغرافیائی اہمیت ہے:
چین کیلئے: تیل اور سامان کی ترسیل کا راستہ ہزاروں کلومیٹر کم ہو جاتا ہے، مالاکا اسٹریٹ پر انحصار کم ہو جاتا ہے
روس کیلئے: گرم پانیوں تک رسائی کا خواب پورا ہو سکتا ہے ، عالمی تجارت میں نیا راستہ ملتا ہے

گوادر پاکستان کیلئے ایک Game Changer بن سکتا ہے اگر:
انفراسٹرکچر مکمل کیا جائے
سیکیورٹی مضبوط رکھی جائے
صنعتیں اور فیکٹریاں قائم کی جائیں
نوجوانوں کو ہنر اور روزگار دیا جائے
تب گوادر پاکستان کو ایک ترقی یافتہ معیشت کی طرف لے جا سکتا ہے۔

جہاں فائدہ ہو… وہاں مخالفت بھی ہوتی ہے۔ گوادر کے خلاف مختلف خدشات اور رکاوٹیں سامنے آئیں:
سیکیورٹی کے مسائل پیدا کرنے کی کوششیں
ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر
عالمی سطح پر پروپیگنڈا
اندرونی اختلافات کو ہوا دینا
کیونکہ ایک مضبوط گوادر… خطے کی طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔

گوادر صرف ایک بندرگاہ نہیں…
یہ پاکستان کا مستقبل، امید اور خودمختاری کی علامت ہے۔

اگر ہم نے اسے صحیح طریقے سے استعمال کیا…تو شاید آنے والے وقت میں دنیا کہے:
راہِ تجارت اب گوادر سے گزرتی ہے!
آپکو کیا لگتا ہے کون ہے جو اس کو بننے نہیں دے گا ؟ اپنی قیمتی رائے سے آگاہ ضرور کریں .

29/03/2026

خلیج جنگ کا ایک ماہ مکمل: نفع نقصان کا میزانیہ
ضیاء چترالی
28 فروری کو شروع ہونے والی ایران کے خلاف جنگ اب محض ایک فوجی تصادم نہیں رہی بلکہ ایک ہمہ جہتی عالمی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ایک ماہ کے اندر اس کے اثرات نے واضح کر دیا ہے کہ یہ تنازع صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت، توانائی، خوراک اور نقل و حمل کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے اخبار لوتان اور فرانس کے معروف جریدے Le Monde کے تجزیوں کے مطابق، یہ جنگ اب ایک عالمی جھٹکے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جہاں ایک طرف عسکری کارروائیاں مسلسل پھیل رہی ہیں، وہیں دوسری جانب اس کے معاشی اور سماجی اثرات “رابحین اور خاسرین” (فائدہ اٹھانے والے اور نقصان اٹھانے والے) کی ایک نئی عالمی تقسیم سامنے لا رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ اس جنگ کا سب سے بڑا متاثرہ خطہ بن کر سامنے آیا ہے۔ ایران اور لبنان جیسے ممالک، جو پہلے ہی معاشی اور سیاسی بحرانوں میں گھرے ہوئے تھے، اب مزید تباہی کا شکار ہو رہے ہیں۔ خلیجی ریاستوں خصوصاً دبئی اور ابوظہبی کی معاشی رفتار بھی سست پڑ گئی ہے۔ توانائی کے بنیادی ڈھانچے (انفرا اسٹرکچر) کو شدید نقصان پہنچا ہے اور خلیج میں بحری آمدو رفت تقریباً معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ یوں یہ خطہ اس وقت سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والوں میں شامل ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق، اس جنگ کے اثرات نہایت گہرے اور طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث پیداوار (پروڈکشن) اور برآمدات (ایکسپورٹس) میں کمی آ رہی ہے، جس سے عالمی اقتصادی ترقی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ اگرچہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایران طویل مدت میں کسی حد تک سنبھل سکتا ہے، لیکن قلیل مدت میں اسے شدید معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جنگ کے اثرات میدانِ جنگ سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں۔ عالمی نقل و حمل (ٹرانسپورٹ) کا شعبہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ایندھن (فیول) کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، یہاں تک کہ بعض صورتوں میں ایندھن کی قیمتیں خام تیل سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھی ہیں۔ بحری جہازوں اور طیاروں کے ایندھن کی قلت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور کئی فضائی کمپنیوں نے ایندھن کی محدود فراہمی (راشننگ) کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ایشیائی ممالک اس ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کر رہے ہیں۔
عالمی شپنگ (سامان کی بحری ترسیل) کے شعبے میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔ دنیا کی بڑی شپنگ کمپنی Maersk نے بحری ایندھن کی کمی پر خدشات ظاہر کیے ہیں، جبکہ انشورنس (بیمہ) کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر عالمی سپلائی چین (رسد کے نظام) اور تجارت پر پڑ رہا ہے۔
امریکہ کی صورتحال اس جنگ میں خاصی پیچیدہ ہے۔ ایک طرف تیل کی بڑھتی قیمتوں سے توانائی کمپنیاں منافع کما رہی ہیں اور حکومت کی آمدنی (ریونیو) میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن دوسری طرف عام شہری مہنگائی (افراطِ زر) اور بڑھتے اخراجات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر امریکی عوام اس جنگ میں نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہوں گے۔
دوسری جانب، کچھ غیر متوقع فائدہ اٹھانے والے بھی سامنے آئے ہیں۔ تیل کے تاجر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ (ویری ایشن) سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اسی طرح خلیج سے باہر تیل پیدا کرنے والے ممالک، خاص طور پر روس اس صورتحال سے نمایاں فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی برآمدات کو بڑھایا ہے اور عالمی سطح پر ان کی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔
چین کی صورتحال نسبتاً متوازن مگر پیچیدہ ہے۔ وہ خلیجی تیل پر انحصار کرتا ہے، لیکن توانائی کے متبادل ذرائع اور بجلی کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے کسی حد تک اس بحران کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ تاہم اس جنگ نے عالمی ترجیحات کو بدل دیا ہے، اب ماحولیاتی تبدیلی (کلائمٹ چینج) کے بجائے توانائی کا تحفظ (انرجی سیکورٹی) زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
قابلِ تجدید توانائی (رینیوایبل انرجی) کو بھی اس بحران میں جزوی فائدہ ہوا ہے۔ کئی ممالک اب شمسی توانائی (سولر انرجی) جیسے مقامی ذرائع کی طرف تیزی سے بڑھنے پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم سپلائی چین میں رکاوٹیں اس عمل کو سست بھی کر رہی ہی اور کچھ ممالک عارضی طور پر کوئلے جیسے روایتی ذرائع کی طرف واپس جا رہے ہیں۔
اس جنگ کے سب سے خطرناک اثرات غریب ممالک پر پڑ رہے ہیں، خاص طور پر افریقہ اور جنوبی ایشیا میں۔ توانائی بحران کے ساتھ ساتھ خوراک کا بحران بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ کھاد کی قیمتوں میں اضافہ اور رسد میں رکاوٹوں کے باعث زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے، جس سے بنیادی غذائی اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ عالمی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ اگر جنگ جاری رہی تو اناج، گوشت اور دودھ کی پیداوار میں کمی آ سکتی ہے۔
انسانی سطح پر صورتحال نہایت تشویش ناک ہے۔ ہزاروں افراد ہلاک، و زخمی اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایران کے اندر بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے، جبکہ لبنان میں حالات مزید خراب ہو گئے ہیں، خاص طور پر جب مقامی ملیشیا بھی اس تنازع میں شامل ہو گئی۔
اقتصادی طور پر سب سے بڑا جھٹکا آبنائے ہرمز کی بندش سے لگا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس اہم گزرگاہ کی بندش نے عالمی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے، جہازوں کی آمدورفت کم ہو گئی ہے اور تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں، جس کا اثر دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں پر پڑا ہے۔
جنگ کے ماحولیاتی اثرات بھی سنگین ہیں۔ توانائی کے مراکز پر حملوں کے باعث آلودگی (پولیوشن) میں اضافہ ہوا ہے، جو لاکھوں افراد کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، جبکہ طویل المدتی ماحولیاتی نقصانات کا خدشہ بھی برقرار ہے۔
سیاسی سطح پر صورتحال انتہائی غیر یقینی ہے۔ اگرچہ پس پردہ مذاکرات جاری ہیں، مگر عالمی طاقتوں کے درمیان حکمتِ عملی میں اختلافات موجود ہیں۔ اسی دوران لبنان اور یمن میں محاذ کھلنے سے تنازع مزید پیچیدہ ہو گیا ہے اور اس کے جلد خاتمے کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔
ماہرین کے بقول یہ جنگ ایک تلخ حقیقت کو واضح کرتی ہے: آج کی دنیا میں کوئی بھی تنازع صرف مقامی نہیں رہتا بلکہ فوری طور پر عالمی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس جنگ میں نقصان اٹھانے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، ریاستیں، معیشتیں اور عام لوگ، جبکہ فائدہ اٹھانے والے چند مخصوص حلقے ہیں۔ مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب تک یہ جنگ جاری رہے گی، دنیا غیر یقینی، دباؤ اور عدم استحکام کی کیفیت میں مبتلا رہے گی۔

26/03/2026

ایرانی مزاحمت کے پیمانے سے پاکستان کا قد ناپا جارہا ہے

ایران شاندار مزاحمت کر رہا ہے اور یہ مزاحمت دو پہلوؤں سے بےحد اہم ہے. ایک تو ایران کا اپنا وجود اس تیز و تند مزاحمت پہ انحصار کرتا ہے، دوسرا اس سے پاکستان اور ترکی جیسے ممالک کی طاقت کا بھی کسی نہ کسی درجے میں ادراک ہوتا ہے. جب چھوٹے میاں اتنے تگڑے ، لوہے کے چنے ، آہنی پتلے، کوہ صفت اور آتش تمثال ہیں تو بڑے میاں تو پھر بڑے میاں ہیں. سبحان اللہ.

ہم نے ترکی اور پاکستان کا نام بلاوجہ نہیں لیا، بلکہ جب بھی عالمِ اسلام کو روندنے کے تذکرے چھڑے، ترکی اور پاکستان کے نام بھی بد خواہوں کی نوکِ زباں پہ لازمی آئے. گزشتہ دنوں سابق اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے خطے میں ابھرنے والے ایک نئے محور کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان اور ترکی کو اس کے اہم ستونوں کے طور پر یاد کیا تھا. بہ نظرِ عمیق دیکھا جائے تو ایران کی امریکا سے براہ راست کیا دشمنی تھی جو باہم چھری کٹاری ہوگئے. یہ تو تل ابیبی ڈارلنگ کے پیچھے واشنگٹنی مُنی بدنام ہوئی جارہی ہے. یہ خونیں محبوبہ کل کلاں استنبول یا اسلام آباد کی جانب بھی آنکھیں میچتے ہوئے اشارہ کرسکتی ہے.

اسباب کے درجے میں ایران کا سب بڑا سہارا اس کے میزائلوں کی نوکیں ہیں، جن کے بل بوتے پر دشمنوں کا وجود چھلنی کیا جارہا ہے. لطف کی بات کہ پاکستان اور ایران نے ایک ہی زمانے میں میزائل ٹیکنالوجی کی جانب توجہ مبذول کی. اسی کی دہائی تھی، جب تہران کو میدان میں صدام کا سامنا کرنا پڑا. صدام نے روسی ساختہ سکڈ میزائلوں سے تہران کو حیران، پریشان اور لاجواب کر دیا تھا. چنانچہ جنگ کے بعد تہران کی اولین توجہ اس کمی کو دور کرنے کی جانب گئی. سو اس نے منہ طرف چین اور شمالی کوریا کر لیا. یہی زمانہ تھا جب پاکستان نے بھی ان آتشیں تیروں سے اپنا ترکش سجانے کا فیصلہ کیا. حیرت انگیز طور پر اس کا رخ بھی بیجنگ اور پیانگ یانگ کی جانب تھا.

پاکستان نے 1989 حتف ون کا تجربہ کیا. اس میزائل کی رینج محض سو کلومیٹر تھی. مگر اسلام آباد دم بھر کے لیے بھی نہ رکا اور بلیسٹک میزائلوں کی دنیا میں غوری، غزنوی، ابدالی اور شاہین جیسے شاہکار تراش لیے. 2015 میں شاہین تھری کا جب تجربہ کیا گیا تو تل ابیب کی پیشانی فکرمندی کی شکنوں سے بھر گئی. کیونکہ تل ابیب، حیفا اور عسقلان 2750 کلومیٹر تک مار کر سکنے والے اس میزائل کی نوک کی پہنچ میں تھے.

پاکستانی آزروں نے2017 میں MIRV ٹیکنالوجی سے مالامال ابابیل تراش ڈالا. اس میزائل کی خاص بات یہ تھی کہ یہ ایک ہی ہلے میں متعدد اہداف کو نشانہ بنا سکتا تھا.

پاکستان نے صرف بلیسٹک میزائلوں پہ ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ کروز میزائل ٹیکنالوجی سے بھی اپنے بازوؤں کو مضبوط کیا. 2005 بابر کروز میزائل کا تجربہ کیا. پھر رعد، پھر فتح. یوں چل سو چل.

ممکن ہے کہ ایران کے پاس میزائلوں کے ذخائر نسبتاً زیادہ ہوں کہ وہ فضائیہ کی کمی بھی ہلاکت خیز میزائلوں سے پوری کر رہا ہے، مگر MIRV ٹیکنالوجی اور ایٹمی وارہیڈ ہمراہ لے جا سکنے کی وجہ سے پاکستانی میزائل پروگرام زیادہ تیکھا اور ہوش ربا ہے.

یہاں یہ اہم ترین سوال سر اٹھاتا ہے کہ پاکستان نے تین ہزار کلومیٹر دور ہدف تک تو آج سے دس سال قبل رسائی حاصل کر لی تھی. کیا اس کے بعد پاکستان مطمئن ہو کر بیٹھ گیا ہوگا کہ اسرائیل زد میں آچکا، بس بہت ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں. چند دن قبل امریکا کے گلی کوچوں میں شور اٹھا تھا کہ پاکستان بین البراعظمی میزائل بنا رہا ہے، جو بوقتِ ضرورت ٹیکساس، کیلی فورنیا اور نیویارک سے بھی گرم جوش معانقہ کرسکتا ہے. قرائن کہتے ہیں کہ یہ شور بہت زیادہ درست نہ سہی ،مگر اتنا غلط بھی نہ ہوگا.

نواز کمال

23/03/2026

حوثی باغی بحیرۂ احمر (Red Sea) کے کنارے بیٹھے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب اپنا تیل اب واحد متبادل راستے یعنی ینبع (Yanbu) پائپ لائن کے ذریعے بحیرۂ احمر تک منتقل کر رہا ہے یہ راستہ سینکڑوں میل طویل حوثیوں کے زیرِ کنٹرول ساحلی علاقوں کے ساتھ ساتھ گزرتا ہے اور باب المندب (Bab al-Mandeb) کی تنگ گزرگاہ سے ہو کر نکلتا ہے وہی chokepoint جسے حوثیوں نے غزہ جنگ کے دوران پہلے بھی بند کر دیا تھا

ایک سینئر حوثی عہدیدار نے اس ہفتے کہا ہماری انگلی ٹرگر پر ہے۔ یمن کا اس جنگ میں شامل ہونا صرف وقت کی بات ہے ایران نے آبنائے ہرمز (Hormuz) کے ذریعے سامنے کا دروازہ بند کر دیا ہے اور پیچھے کا دروازہ براہِ راست ایران کے سب سے طاقتور اتحادی کے سامنے سے گزرتا ہے اگر تہران حکم دے دے تو حوثی بحیرۂ احمر کو بھی بند کر سکتے ہیں اور پھر مشرقِ وسطیٰ کا تیل دنیا کے کسی بھی کونے تک پہنچانے کا کوئی راستہ باقی نہیں بچے گا

اسی لیے سعودی عرب خاموشی سے سفارتی کوششیں کر رہا ہے تاکہ حوثیوں کو اس جنگ سے دور رکھا جا سکے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل بھی یمن کو اشتعال دلانے سے گریز کر رہے ہیں سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق ایران جان بوجھ کر حوثیوں کو ابھی محفوظ رکھے ہوئے ہے یا تو آخری مرحلے میں دباؤ بڑھانے کے لیے، یا مستقبل کی مذاکراتی چال کے طور پر اس جنگ کا سب سے خطرناک ہتھیار بم یا میزائل نہیں بلکہ تہران سے صنعا (Sanaa) کی جانے والی ایک فون کال ہے جو ابھی تک نہیں کی گئی۔

fans

22/03/2026

یہ وہ بچہ ہے جو سال 2000 میں اسکول سے چھپ کر نکلتا اور صہیونی فوجیوں سے جا ٹکراتا۔ یہاں تک کہ اسکول نے اس کے ولی کو بلایا۔ جب اس کی ماں کو پتا چلا تو اُس نے ڈانٹا اور سزا بھی دی، کیونکہ وہ اپنے بیٹے کی جان سے ڈرتی تھی۔

لیکن وہ بچہ روزانہ اسرائیلی فوجیوں کے خلاف پتھراؤ کرنے جاتا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ ٹینک کے سامنے کھڑا ہوکر رقص کرتا اور نعرہ لگاتا:
"لو کسروا عظامي مش زاحف، لو هدوا البيت مش خايف!"
(اگر وہ میری ہڈیاں توڑ بھی دیں، میں پیچھے نہیں ہٹوں گا… اگر میرا گھر گرا بھی دیں، مجھے خوف نہیں ہوگا!)

اس کا کزن شادِی شہید ہوگیا تو گھر والوں نے مزید ڈر کے مارے اسے قید کر لیا۔ لیکن وہ گھر کی پانی کی پائپ لائن سے رینگ کر نکلتا اور پھر پتھر مارنے پہنچ جاتا۔ کئی بار اُس کی ماں لڑائی کے بیچوں بیچ جا کر اسے واپس لے آتی۔

ایک دن اُس نے خواب دیکھا کہ شہید شادِی اُس سے کہہ رہا ہے: “آؤ، میرا بدلہ لو۔”
اسی دن اُس کی ماں نے بھی خواب میں شادِی کو دیکھا جو اُس سے کہہ رہا تھا: “اسے میرے پاس آنے دو۔”
ماں کو یقین ہوگیا کہ یہ ربانی پیغام ہے، اور کہ اُس کا بیٹا اب شہید ہوگا۔

ایک فرانسیسی فوٹوگرافر "لورو" نے اُس کی ایک مشہور تصویر بنائی، جس میں وہ پیٹھ کے بل کھڑا ہوکر ایک میرکاوا ٹینک پر پتھر پھینک رہا ہے۔ یہ تصویر پوری دنیا میں وائرل ہوگئی۔ اور صرف 10 دن بعد — 8 نومبر 2000 کو — جب وہ ایک پتھر اٹھانے کے لیے جھکا، اسرائیلی فوج کی ایک مہلک گولی اُس کی گردن کے ایک طرف سے لگی اور دوسری طرف سے نکل گئی۔ ایک لمحے میں اس کی کہانی ختم ہوگئی۔

یہ وہ بچہ تھا جس نے ٹینک کا مقابلہ پتھر سے کیا۔
یہ بچہ، انغام عودة کا بیٹا تھا، جس کی ماں اپنے بیٹے کی شہادت کے بعد چھ سال تک اُس کا بستہ لے کر اسکول جاتی اور طلبہ میں اُسے تلاش کرتی رہتی…

یہ بچہ محض ایک بچہ نہیں تھا، یہ پورا ایک وطن تھا!

یہ بچہ وہ ہے جس نے گایا تھا:
"اگر وہ پانی روک دیں تو کوئی بات نہیں،
اگر وہ گھر گرا دیں تو مجھے خوف نہیں،
اگر وہ میری ہڈیاں توڑ دیں تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گا،
میں اپنی ہڈیاں سمیٹ کر وطن کے لیے غلیل اور پتھر بناؤں گا!"

یہ تصویر ہے شہیدِ اسطورہ (لیجنڈ) "فارس عودة" کی۔
فلسطین ہمارے دل میں زندہ ہے۔ ☝🏼🇵🇸❤️

عربی تحریر سے مترجم 🔏

20/03/2026

اہل اسلام کو عید مبارک ہو

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address

UG 350 Deans Trade Canter Peshawar
Peshawar
25000