Raees Muhammad
20/03/2026
قیدیان کے لیے 100 دن کی سزا میں معافی کا اعلان
15/03/2026
حکم نامہ
بتاریخ پشاور: 04 مارچ، 2026
نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی (NJPMC) کے فیصلے کی روشنی میں، سائلین کی بائیومیٹرک تصدیق کے نفاذ کے لیے تاکہ شناخت کی چوری (روپ بدلنے) کو روکا جا سکے، شفافیت کو تقویت ملے اور عدالتی کارروائیوں کی ساکھ کو یقینی بنایا جا سکے، معزز چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں سائلین کی لازمی بائیومیٹرک تصدیق کے لیے درج ذیل ہدایات فوری طور پر جاری کی ہیں:
یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ عدالتی کارروائیوں میں حصہ لینے والے درج ذیل زمروں کے افراد کے لیے بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی:
i. کسی بھی نوعیت کے کیسز بشمول درخواستیں دائر کرنے والے سائلین۔
ii. تحریری بیانات، تحریری جوابات یا کوئی دوسرا جواب جمع کروانے والے مدعا علیہان/جواب دہندگان۔
iii. عدالتوں میں ضمانتی مچلکے جمع کروانے والے ضامن۔
بائیومیٹرک تصدیق نادرا ای-سہولت (NADRA e-Sahulat) مراکز کے ذریعے بھی کی جا سکتی ہے۔
ہر بائیومیٹرک تصدیق کے لیے 200 روپے نادرا فیس وصول کی جائے گی۔
پشاور ہائی کورٹ ہر سائل کے لیے ایک منفرد ٹریکنگ آئی ڈی (Tracking ID) تیار کرے گی جو بائیومیٹرک تصدیق کے مقصد کے لیے ان کے شناختی کارڈ (CNIC) سے منسلک ہوگی۔
سائلین کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ پشاور ہائی کورٹ کے دفتر/عدالت یا کسی بھی ای-سہولت فرنچائز نیٹ ورک کے ذریعے جاری کردہ ٹریکنگ آئی ڈی متعلقہ افسر یا فرنچائز مالک کو پیش کر کے اپنی بائیومیٹرک تصدیق کروائیں۔ افسر/فرنچائز مالک ای-سہولت ایپلی کیشن میں ٹریکنگ آئی ڈی درج کرے گا اور مقررہ مقامات پر نادرا ای-سہولت آئی ڈیز کا استعمال کرتے ہوئے بائیومیٹرک تصدیق کرے گا۔
ایسے کیسز جن میں ایک سے زیادہ مدعی یا مدعا علیہان شامل ہوں، ان کی بائیومیٹرک تصدیق ان کے مقرر کردہ وکیل (Attorney) کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔
متبادل کے طور پر، متعلقہ عدالت اپنی صوابدید پر کم از کم دو یا تین نمائندہ مدعیان/مدعا علیہان کو اس شرط کو پورا کرنے کے لیے بائیومیٹرک تصدیق کی ہدایت دے سکتی ہے۔
ان ہدایات کا اطلاق پشاور ہائی کورٹ کے پرنسپل سیٹ، اس کے بنچوں اور صوبہ خیبر پختونخوا کی تمام ضلعی اور تحصیل عدالتوں پر ہوگا۔
تمام متعلقہ جوڈیشل افسران، عدالتی عملہ، وکلاء اور سائلین کو ان ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
13/03/2026
آرڈر 9 رول 13 سی۔پی۔سی، آرٹیکل 164 اور سیکشن 5 لمیٹیشن ایکٹ کی روشنی میں “مناسب وجہ (Sufficient Cause)”:
آرڈر 9 رول 13 ضابطہ دیوانی (CPC) کے مطابق اگر کسی مقدمے میں عدالت مدعا علیہ کی غیر حاضری کی وجہ سے یک طرفہ فیصلہ (Ex-parte Decree) صادر کر دے تو مدعا علیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عدالت میں درخواست دے کر اس فیصلے کو منسوخ کرانے کی استدعا کرے۔
لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ مدعا علیہ عدالت کو مطمئن کرے کہ:
1۔ یا تو اسے سمن درست طریقے سے موصول نہیں ہوئے تھے،
2۔ یا پھر وہ کسی مناسب اور معقول وجہ (Sufficient Cause) کی بنا پر مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش نہیں ہو سکا۔
اگر عدالت اس وضاحت سے مطمئن ہو جائے تو وہ مناسب شرائط کے ساتھ (جیسے اخراجات یا دیگر شرائط) یک طرفہ ڈگری کو منسوخ کر سکتی ہے۔
تاہم آرڈر 9 رول 13 کے ساتھ موجود وضاحت (Proviso) کے مطابق اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ مدعا علیہ کو مقدمے کی تاریخ کا بروقت علم تھا اور اس کے باوجود وہ عدالت میں حاضر نہیں ہوا تو صرف سمن کی ترسیل میں کسی معمولی بے ضابطگی کی بنیاد پر یک طرفہ ڈگری منسوخ نہیں کی جائے گی۔
یہاں “مناسب وجہ” کی کوئی حتمی یا سخت تعریف قانون میں موجود نہیں ہے۔ اس کا تعین ہر مقدمے کے مخصوص حالات اور حقائق کو دیکھ کر عدالت اپنی دانش، فہم اور صوابدید کے مطابق کرتی ہے۔
صرف یہ کہہ دینا کہ وکیل مقرر کر دیا تھا کافی نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ مقدمہ لڑنے کی ذمہ داری صرف وکیل پر نہیں بلکہ فریق پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مقدمے کی پیش رفت کے بارے میں باقاعدہ معلومات لیتا رہے۔ اگر وکیل اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے تو عموماً اس کی غفلت کا نقصان اسی فریق کو برداشت کرنا پڑتا ہے جس نے اسے مقرر کیا تھا۔
🟢 لمیٹیشن ایکٹ (Limitation Act) کے تحت مدت:
آرٹیکل 164، Limitation Act کے مطابق یک طرفہ ڈگری کو منسوخ کرانے کے لیے 30 دن کے اندر درخواست دائر کرنا ضروری ہے۔
▪️اگر سمن درست طور پر موصول ہوئے تھے تو مدت کا آغاز فیصلے کی تاریخ سے ہوگا۔
▪️اگر سمن درست طور پر موصول نہیں ہوئے تھے تو مدت کا آغاز اس تاریخ سے ہوگا. جب درخواست گزار کو فیصلے کا علم ہوا۔
سن 1980 کی ترمیم کے بعد سیکشن 5 Limitation Act بھی اس معاملے میں قابل اطلاق ہے، جس کے تحت اگر درخواست تاخیر سے دائر ہو تو عدالت تاخیر کو معاف کر سکتی ہے، بشرطیکہ درخواست گزار ہر دن کی تاخیر کی معقول اور قابلِ قبول وضاحت پیش کرے۔
قانونِ میعاد (Limitation Law) کا مقصد یہ ہے کہ مقدمات کو غیر ضروری تاخیر سے بچایا جائے۔ اگر کوئی فریق مقررہ مدت میں کارروائی نہ کرے اور اس کے پاس تاخیر کی معقول وجہ بھی نہ ہو تو دوسرے فریق کو حاصل ہونے والا قانونی حق برقرار رہتا ہے۔
عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کے بارے میں سرکاری اداروں کی ذمہ داری سرکاری اداروں پر یہ قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات کی مستعدی اور سنجیدگی سے پیروی کریں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو یہ ان کی ذمہ داری کی خلاف ورزی تصور ہوتی ہے۔
زیرِ بحث مقدمے میں ریکارڈ سے واضح تھا کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) کی طرف سے سنگین غفلت اور لاپرواہی برتی گئی۔ متعدد مواقع ملنے اور وکلاء کی تبدیلی کے باوجود نہ تو تحریری جواب (Written Statement) جمع کروایا گیا اور نہ ہی یک طرفہ قرار دیے جانے کے بعد مدعی کے گواہوں پر جرح کے لیے وکیل عدالت میں پیش ہوا۔ اس طرزِ عمل نے مدعی کے مقدمے کو مضبوط کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ صرف وکیل مقرر کر دینا فریق کو اس کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں کرتا۔ وکیل کی غفلت کو عموماً موکل کی غفلت تصور کیا جاتا ہے کیونکہ وکیل اور موکل کا تعلق اصولاً ایجنٹ اور پرنسپل کا ہوتا ہے۔ اگر وکیل عدالت میں پیش نہ ہو تو عدالت اس پر براہِ راست قابو نہیں رکھتی، لیکن اس کے نتائج فریق کو ہی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ہر فریق پر لازم ہے کہ وہ اپنے مقدمے کی باقاعدہ پیروی کرے اور اس کی پیش رفت سے باخبر رہے۔
جب کسی مقدمے میں یک طرفہ فیصلہ ہو جاتا ہے تو کامیاب فریق کے حق میں ایک قیمتی قانونی حق پیدا ہو جاتا ہے، جسے محض وکیل کی عام سی غفلت کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر وکیل کی غفلت کو ہمیشہ معقول وجہ مان لیا جائے تو یہ طریقہ مقدمات کو بلاوجہ طول دینے کا آسان ذریعہ بن جائے گا۔
البتہ اگر وکیل کی غیر حاضری کسی ناقابلِ اختیار صورتحال مثلاً وکیل کی وفات، شدید بیماری یا کسی غیر معمولی مجبوری (Force Majeure) کی وجہ سے ہو تو عدالت انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مداخلت کر سکتی ہے۔
📚 حوالہ: C.P.L.A. 2284/2025
فیصلہ از مسٹر جسٹس محمد علی مظہر
مورخہ 23 جنوری 2026
Capital Development Authority (CDA) v. Dr. Sheikh Muhammad Shoaib Shafi
11/03/2026
وفاقی شرعی عدالت، چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس اور ماتحت عدلیہ میں بھی چار روز عدالتیں کام کریں گی اور تین دن چھٹی ہوگی۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ہنگامی اجلا س میں فیصلہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the practice
Telephone
Website
Address
Peshawar
25000
11/03/2026