Style shoes

Style shoes

Share

27/10/2025

یہ درود شریف “صَلوةً تُنَجِّينَا” کے نام سے مشہور ہے، جسے درودِ تنجینا یا درودِ نجات بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا مفہوم اور تفسیر درج ذیل ہے👇



🌿 ترجمہ (اردو میں):

اے اللہ! ہمارے سردار اور آقا محمد ﷺ پر، اور آپ ﷺ کی آل پر درود بھیج،
ایسا درود جو ہمیں ہر طرح کے خوف و خطرات اور آفتوں سے نجات دے،
اور ہمارے تمام حاجات (ضروریات و دعائیں) پوری کر دے،
اور ہمیں تمام گناہوں سے پاک کر دے،
اور ہمیں بلند ترین درجوں پر فائز کر دے،
اور ہمیں تمام بھلائیوں اور خیر کے اعلیٰ مقامات تک پہنچا دے —
دنیا کی زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔
بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔



🌸 تفسیر و فضیلت:
1. یہ درود ایک جامع دعا ہے جس میں دنیا و آخرت کی کامیابی، گناہوں کی مغفرت، مصیبتوں سے حفاظت اور درجات کی بلندی کی التجا کی گئی ہے۔
2. “تُنجِّينا” کا مطلب ہے: تو ہمیں نجات دے — یعنی خوف، آفات، مصیبتوں، اور گناہوں سے بچا۔
3. علماء کے نزدیک جو شخص اس درود کو اخلاص کے ساتھ کثرت سے پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی مشکلات آسان فرما دیتا ہے۔
4. بعض بزرگانِ دین نے فرمایا کہ جس نے اس درود کو مصیبت کے وقت پڑھا، اللہ نے اسے نجات عطا فرمائی۔



✨ پڑھنے کا طریقہ و وقت:
• روزانہ کم از کم ۳ یا ۱۱ بار پڑھنا بہت بابرکت ہے۔
• اگر کوئی مشکل، خوف یا بیماری لاحق ہو تو ۱۰۰ مرتبہ یا ۳۱۳ مرتبہ پڑھا جائے۔
• دل کی سکون، نجات، اور خیر کے حصول کے لیے صبح و شام پڑھنا افضل ہے

16/10/2025

تصویر میں سورۃ الشمس (آیت 9) کا حصہ لکھا ہے:

قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا
“یقیناً وہ شخص کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو (گناہوں سے) پاک کر لیا۔”

تفسیر و تشریح:

یہ آیت انسان کی روحانی کامیابی اور اصلاحِ نفس کا بنیادی اصول بیان کرتی ہے۔
1. ”قد أفلح“
یعنی “یقیناً کامیاب ہوا” — یہ کلمہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اصل کامیابی دنیاوی مال یا مرتبے میں نہیں، بلکہ روح کی پاکیزگی میں ہے۔
2. ”من زکاها“
“جس نے اپنے نفس کو پاک کیا” — یعنی جس نے اپنے دل، ارادے اور عمل کو گناہوں، حسد، تکبر، لالچ اور برائیوں سے صاف کیا۔
زکا کا مطلب ہے “پاک کرنا، بڑھانا اور سنوارنا”۔
پس جس شخص نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کر لیا، اللہ تعالیٰ اس کے دل میں نور، سکون اور فلاح عطا فرماتا ہے۔
3. روحانی مفہوم:
اسلام میں کامیابی کا معیار صرف عبادت نہیں بلکہ تزکیۂ نفس ہے — یعنی اپنے اندر کے میل (گناہ، نفرت، حسد) کو صاف کرنا۔
4. عملی پیغام:
• نماز، روزہ اور ذکر سے دل پاک ہوتا ہے۔
• گناہوں سے بچنا، سچ بولنا اور دوسروں سے حسنِ سلوک کرنا تزکیہ کی علامت ہے۔
• جس نے اپنے دل کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھال لیا، وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہوا۔

خلاصہ:
یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل کامیابی صرف اس کی ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے، برائیوں سے بچے، اور اپنے کردار کو ایمان و تقویٰ سے سنوارے # # # # # # # # # #

Want your business to be the top-listed Shop in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address

Peshawar