Awaz-e-Nau

Awaz-e-Nau

Share

Awaz-e-Nau is a progressive platform for youth politics, social justice, feminism, class consciousness, and human rights.We question power, challenge patriarchy, and speak for those pushed to the margins.

23/01/2026

ایک طرف دہشت گردی کا ناسور ہے جس نے عوام سے امن، سکون اور زندگی کا حق چھین رکھا ہے، اور دوسری طرف حکومت کی غلط، غیر سنجیدہ اور زمینی حقائق سے کٹی ہوئی پالیسیاں ہیں جن کا خمیازہ عام عوام بھگت رہے ہیں۔ خاص طور پر پشتون، بالخصوص جنوبی اضلاع کے عوام، مسلسل خوار و زار ہیں—نہ جان محفوظ ہے، نہ عزت، نہ روزگار اور نہ ہی مستقبل کی کوئی ضمانت۔
دہشت گردی کے نام پر کیے جانے والے اقدامات نے امن لانے کے بجائے عام شہریوں کی زندگیاں مزید اجیرن بنا دی ہیں۔ کبھی آپریشن، کبھی نقل مکانی، کبھی چیک پوسٹوں کی اذیت اور کبھی بے روزگاری—یہ سب اس خطے کے لوگوں کی روزمرہ حقیقت بن چکا ہے۔ جو لوگ دہشت گردی کے سب سے زیادہ متاثرہ رہے، وہی آج سب سے زیادہ مشکوک ٹھہرائے جا رہے ہیں۔
جنوبی اضلاع کے پشتون عوام نے ہر دور میں قربانیاں دیں، مگر بدلے میں انہیں صرف وعدے، خاموشی اور نظراندازی ملی۔ ترقی کے دعوے کیے گئے، مگر اسکول، اسپتال، روزگار اور بنیادی سہولیات آج بھی ناپید ہیں۔ جب ریاست عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے اور پالیسیاں عوام کے مسائل کم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کریں، تو یہ محض بدانتظامی نہیں بلکہ ایک سنگین ناانصافی بن جاتی ہے۔
امن بندوق سے نہیں، انصاف سے آتا ہے۔ دہشت گردی کا حل اجتماعی سزا، جبری نقل مکانی اور غلط پالیسیوں میں نہیں بلکہ عوام کو اعتماد میں لینے، ان کے مسائل سننے اور انسانی بنیادوں پر فیصلے کرنے میں ہے۔ اگر آج بھی پشتون عوام کے دکھوں کو نظرانداز کیا گیا تو یہ بحران صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک خطرناک سوال بن کر ابھرے گا۔

21/01/2026

یہ واقعہ محض ایک پیٹرول پمپ کو آگ لگانے کا نہیں، بلکہ امید، تعلیم اور فلاح کے چراغ کو بجھانے کی کوشش ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں وانا ویلفیئر ایسوسی ایشن کے پیٹرول پمپ کو نذرِ آتش کرنا انتہائی افسوسناک، قابلِ مذمت اور دل دہلا دینے والا فعل ہے۔ یہ پمپ کسی فرد یا کاروبار کی ذاتی کمائی کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ وزیرستان کے یتیم بچوں کی تعلیم، ان کے مستقبل اور ان کے خوابوں کا سہارا تھا۔ جو ہاتھ یتیم کے سر پر ہونا چاہیے تھا، اسی سر سے چھت چھیننے کی کوشش کی گئی ہے۔
وانا ویلفیئر ایسوسی ایشن جیسی فلاحی تنظیمیں اس خطے میں ریاستی خلا کو پُر کر رہی ہیں۔ جہاں بدامنی، غربت اور بے روزگاری نے عوام کو دیوار سے لگا رکھا ہے، وہاں یہ ادارے تعلیم، صحت اور سماجی بہتری کی آخری امید بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں فلاحی منصوبوں کو نشانہ بنانا دراصل پورے معاشرے کے مستقبل پر حملہ ہے۔
اگر ایسے واقعات کو روکا نہ گیا تو نہ صرف فلاحی ادارے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوں گے بلکہ انتشار، جہالت اور محرومی کو مزید تقویت ملے گی۔ اس کے نتائج صرف وزیرستان نہیں، پورا معاشرہ بھگتے گا۔
ریاستی اداروں، ضلعی انتظامیہ اور ذمہ دار حلقوں پر لازم ہے کہ وہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کریں، مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں ۔ کیونکہ یتیم کے حق پر خاموشی، خود ایک بڑا جرم ہے۔
ہم وانا ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ آگ سے عمارتیں جل سکتی ہیں،
لیکن تعلیم، شعور اور خدمت کے جذبے کو نہیں جلایا جا سکتا۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Peshawar