Dr. Asim Raza
کسی بھی #ایمرجنسی کی صورت میں کوشش کریں کہ ہمیشہ سرکاری ہسپتال جائیں۔ سرکاری ہسپتال کا جونیئر ترین ڈاکٹر یا ہاؤس آفیسر یا پیرامیڈیکل سٹاف بھی ایمرجنسی صورت حال سے نمٹنے کی بہترین صلاحیت رکھتا ہے اور سینئر ڈاکٹر بھی اگر بالفرض موقع پر ایمرجنسی میں موجود نہیں تب بھی وہ ہمیشہ رابطے میں ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر فوری طور پر پہنچ بھی جاتے ہیں۔
میں خود اپنے سب دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی یہی مشورہ دیتا ہوں خواہ آپ جتنے بھی امیر ہوں ایمرجنسی ہمیشہ سرکاری ہسپتال میں اچھی مینیج ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ریسکیو 1122 بھی ہمیشہ مریض کو سرکاری ہسپتال لے کر جاتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل کے ہاتھوں میں صرف کوشش کرنا ہے صحت دینا یا زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔تو سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے سے بھی ویسے ہی ادب سے پیش آئیں جیسے آپ ہزاروں روپے دینے کے باوجود پرائیویٹ ہسپتال میں ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل عملے سے پیش آتے ہیں۔
24/7 آپکے لیے وہاں موجود ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل آپ کے لیے اور آپ کے پیاروں کے لیے اپنی نیندیں قربان کر کے وہاں موجود ہیں۔
لہٰذا آپ بھی ان سے محبت سے پیش آئیں میں لکھ کر دیتا ہوں بدلے میں آپکو شیرینی ہی ملے گی۔
میڈیا میڈیکل کے شعبے کو برا بنا کر پیش کرتا ہے جبکہ حقیقت اسکے برعکس ہے۔
جزاک اللہ خیر
اس آگہی کو آگے پھیلائیں، شعور پھیلانا بھی صدقہ ہے
Copied
Cardiac arrest.....
Public awareness message.
پاکستان میں میڈیکل ٹاؤٹ ازم ایک عام اور تشویشناک مسئلہ ہے، جہاں بعض افراد(کمیسٹ اور ڈرگسٹ،بعض ڈرائیور حضرات وغیرہ)یا اسپتال کا عملہ مریضوں کو سرکاری اسپتالوں سے نجی کلینکس، لیبارٹریز یا فارمیسیز کی طرف لے جاتے ہیں اور اس کے بدلے کمیشن حاصل کرتے ہیں۔ یہ عمل اکثر غریب، ان پڑھ یا دور دراز سے آنے والے مریضوں کو نشانہ بناتا ہے، جنہیں علم نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے۔ اس سے نہ صرف مریضوں پر مالی بوجھ پڑتا ہے بلکہ ان کا اعتماد نظامِ صحت پر سے اٹھ جاتا ہے۔ اکثر مریضوں کو غیر ضروری ٹیسٹ یا مہنگے علاج کے لیے مجبور کیا جاتا ہے، اور یہ عمل طبی اخلاقیات، قانون اور مریضوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ بدقسمتی سے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری اور بعض اندرونی افراد کی ملی بھگت کی وجہ سے یہ مسئلہ برقرار ہے، جسے روکنے کے لیے سخت اقدامات اور عوامی آگاہی کی اشد ضرورت ہے۔
12/12/2024
خیبرپختونخوا: ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ
گزشتہ دس ماہ کے دوران ایک ہزار اکتالیس مریضوں میں ایڈز کے وائرس کی نشاندہی ہوئی۔ متاثرہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ پشاورمیں ہے جبکہ دوسرے نمبر پر ضلع بنوں ہے، جہاں نو سو اناسی ایچ آئی وی پازیٹیو افراد پائے جاتے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
Special care should b takenn..
Alarming
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the practice
Telephone
Website
Address
Peshawar
25000
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |
| Saturday | 09:00 - 17:00 |