Transgender Support & Information Program

Transgender Support & Information Program

Share

Our mission is to stop all kinds of gender based violence and provide a peaceful environment to TRANSGENDERS persons across the Province of KHYBER PAKHTUNKHWA where they could enjoy equal opportunities in Health education and employment.

10/06/2025

محکمہ سوشل ویلفیئر خیبر پختونخوا کا خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدام — ایک باوقار، محفوظ اور مساوی معاشرے کی جانب پائیدار پیش رفت!

محکمہ سوشل ویلفیئر، خصوصی تعلیم و خواتین بااختیاری، حکومت خیبر پختونخوا پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود اور ان کے آئینی و انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل متحرک ہے۔ خواجہ سراؤں کو درپیش معاشرتی ناانصافی، محرومی، سیکیورٹی اور فلاحی مسائل کے حل کے لیے محکمہ ٹھوس اور دیرپا اقدامات کر رہا ہے۔

اسی مقصد کے لیے ایک اہم اجلاس ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر پشاور میں منعقد ہوا، جس میں متعلقہ اداروں، سول سوسائٹی اور خواجہ سراؤں کی نمائندہ تنظیموں نے شرکت کی۔
ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر خیبر پختونخوا، جناب رفیق خان مہمند نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ سراؤں کے لیے جاری تمام حکومتی پروگرامز پر فوری اور مؤثر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اور وہ ذاتی طور پر اس بات کے لیے پُرعزم ہیں کہ خواجہ سراؤں کو تمام ضروری سہولیات ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے اپنی ٹیم کو ہدایت دی کہ فالو اپ کا مربوط نظام قائم کریں اور نئی اسکیموں کے آغاز میں تاخیر نہ کی جائے تاکہ اس کمیونٹی کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر، جناب قیوم خان نے اجلاس کے انتظامات میں فعال کردار ادا کیا اور شرکاء کو خواجہ سراؤں کی فلاح سے متعلق پہلے سے لیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے ضلعی سطح پر خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن، شکایات کے ازالے اور خدمات کی فراہمی کے لیے مربوط حکمت عملی پر زور دیا۔

محترمہ سلمیٰ ملک، فوکل پرسن برائے خواجہ سرا کمیونٹی نے اجلاس کے دوران جاری فلاحی منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے سے کیے گئے اقدامات پر مستقل فالو اپ اور مؤثر نگرانی ضروری ہے تاکہ ان پر عملی اور شفاف انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس کے دوران معروف سماجی رہنما جناب قمر نسیم نے زور دیا کہ خواجہ سراؤں کے لیے HIV سے متعلق ایک علیحدہ مخصوص پروگرام متعارف کروایا جائے، جس میں ان کے لیے ملازمت کا کوٹہ بھی شامل ہو، تاکہ انہیں صحت اور روزگار کے میدان میں باعزت مواقع میسر آئیں۔ انہوں نے خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک جامع پلان آف ایکشن بھی تجویز کیا۔ وہ بلو وینز (Blue Veins) تنظیم کی نمائندگی کر رہے تھے اور ان کے ہمراہ ان کی ٹیم بھی موجود تھی۔

محترمہ فرزانہ نے، جو خواجہ سرا کمیونٹی کی نمائندہ اور Trans Actionتنظیم سے وابستہ ہیں، اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کمیونٹی کو شدید سیکیورٹی خدشات، صحت سہولیات کی کمی اور بے روزگاری جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جن کا فوری اور مؤثر حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔۔ ان کے ہمراہ ان کی ٹیم بھی اجلاس میں شریک تھی.
محترمہ ماہی نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ سرا کمیونٹی کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا ناگزیر ہے جہاں انہیں کسی بھی قسم کے تشدد یا ہراسانی کا سامنا نہ ہو.
محترمہ اَرزُو نے منزل فاؤنڈیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے خواجہ سراؤں کے رجسٹریشن پر زور دیا .انہوں نے بتایا کہ خواجہ سراؤں کو رجسٹر کرنا حکومت کی ذمہ داری ہںے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو خواجہ سراؤں کے لئے کام کرنے والے اداروں کو ریسورسز مہیا کرنے چاہئے تا خواجہ سراؤں کے رجسٹریشن میں حکومت کا تعاون کر سکے۔ ان کے ہمراہ ان کی ٹیم بھی اجلاس میں شریک تھی۔
۔
اجلاس میں زیرِ غور آنے والے اہم نکات درج ذیل تھے:

1. خواجہ سراؤں سے متعلق سابقہ پالیسی کی نظرثانی اور فوری نوٹیفکیشن۔
2. سرکاری ملازمتوں میں خواجہ سراؤں کے لیے مختص کوٹے پر عملدرآمد۔
3. سرکاری ہسپتالوں میں مخصوص وارڈز اور صحت سہولیات کی فراہمی۔
4. سیکیورٹی کے مسائل کے حل کے لیے فوری رسپانس اور پولیس تعاون۔
5. محفوظ اور باعزت پبلک ٹرانسپورٹ اسکیموں کی تشکیل۔
6. خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کو آسان، خودکار اور باوقار بنانے کے اقدامات۔
7. ہنر مندی، تعلیم، روزگار اور معاشی خود مختاری کے لیے خصوصی پروگرامز اور اسکالرشپ اسکیمز۔
8. HIV پروگرامز میں خواجہ سراؤں کے لیے ایک علیحدہ مخصوص پروگرام اور ملازمت کا کوٹہ۔

محکمہ سوشل ویلفیئر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خواجہ سراؤں کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک، تشدد اور محرومی کو برداشت نہیں کرے گا، اور ایک مؤثر شکایتی ازالہ نظام (Complaint Redressal Mechanism) کے تحت فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

آخر میں خواجہ سراؤں کے نمائندوں نے محکمہ کے حکام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ محکمہ ان کے مسائل کو نہ صرف سنجیدگی سے لے رہا ہے بلکہ عملی طور پر ان کی بہبود کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ تعاون مستقبل میں مزید وسعت اختیار کرے گا اور انہیں معاشرے میں باوقار مقام حاصل ہوگا۔

محکمہ سوشل ویلفیئر، خصوصی تعلیم و خواتین بااختیاری، خیبر پختونخوا کا مشن ہے کہ ایک ایسا جامع اور مساوی معاشرہ تشکیل دیا جائے جہاں خواجہ سراؤں سمیت تمام اقلیتی طبقات کو برابری، تحفظ اور ترقی کے مساوی مواقع میسر ہوں۔

Joint efforts stressed to overcome transgender community’s challenges 10/05/2025

Transgender Persons Summit 2025 Receives Prominent Coverage in Leading National English Daily, Showcasing Khyber Pakhtunkhwa's Commitment to Inclusion and Empowerment.

Joint efforts stressed to overcome transgender community’s challenges Peshawar  -  A landmark Provincial Transgender Persons (Protection, Health, and Rights) Summit concluded with a strong call for collaborative efforts

Want your organization to be the top-listed Government Service in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Directorate Of Social Welfare, Special Education And Women Empowerment, Old Jamrud Road Opposite Of Islamia College, Peshawar Khyber Pakhtunkhwa
Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00