Akbar Law Associates

Akbar Law Associates

Share

Bookkeeping , Accounts Payable / Receivable, Payroll, Invoices, Accounts Reconciliation, Audit, Income Tax, Sales Tax, SECP Matters, Company & PEC Registration, Trade Mark, Accounting Software, Financial Reports, etc.

05/05/2026

پراپرٹی رینٹل انکم ٹیکس - سیکشن 155

゚viralシ

03/05/2026

21/04/2026

یہ کیس **STA No. 58/MB/2026 (M/s Batala Kissan Industries Pvt. Ltd. v. CIR, RTO Sahiwal)** اپیلیٹ ٹربیونل اِن لینڈ ریونیو، ملتان بینچ کا ایک اہم فیصلہ ہے جس میں بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا پہلی اپیل کے دوران، جب ٹیکس دہندہ نے قانون کے مطابق مطلوبہ رقم جمع کرا دی ہو، محکمہ زبردستی ریکوری کر سکتا ہے یا نہیں۔ ٹربیونل کے سامنے معاملہ اس لیے آیا کیونکہ CIR(A) نے اگرچہ یہ تسلیم کیا کہ ٹیکس دہندہ نے قانون کے مطابق ادائیگی کر دی ہے اور ریکوری نہیں ہونی چاہیے، لیکن اس کے باوجود صرف **7 دن کا محدود اسٹے** دے دیا، جسے ٹیکس دہندہ نے چیلنج کیا۔

حقائق کے مطابق، ٹیکس دہندہ کے خلاف ایک بڑا سیلز ٹیکس ڈیمانڈ آرڈر (Order-in-Original) پاس کیا گیا جس کے خلاف اس نے بروقت **سیکشن 45B کے تحت پہلی اپیل** دائر کر دی، جو ابھی زیر التواء تھی۔ اس دوران محکمہ نے ریکوری کے نوٹسز جاری کیے اور نہ صرف کمپنی بلکہ اس کے ڈائریکٹرز کے بینک اکاؤنٹس بھی اٹیچ کر دیے۔ اہم بات یہ تھی کہ ٹیکس دہندہ پہلے ہی **50 ملین روپے بطور احتجاج (under protest)** جمع کرا چکا تھا، جو کہ متنازعہ ٹیکس کے 10% سے زیادہ تھا، اس لیے اس نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے قانون کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے اور ریکوری غیر قانونی ہے۔

ٹربیونل نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد یہ قرار دیا کہ **سیکشن 48(1) کے پہلے پروویزو** کے مطابق اگر ٹیکس دہندہ اپیل دائر کر دے اور کم از کم 10% ٹیکس جمع کرا دے تو محکمہ اس دوران کوئی coercive recovery نہیں کر سکتا۔ یہ تحفظ خودکار (automatic) ہے اور اسے کسی افسر کی صوابدید (discretion) پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ مزید یہ کہ CIR(A) کی جانب سے 7 دن کا محدود اسٹے دینا ایک خود متضاد اور غیر قانونی عمل تھا کیونکہ جب وہ خود تسلیم کر رہا تھا کہ ریکوری نہیں ہونی چاہیے تو اسے مکمل تحفظ دینا چاہیے تھا، نہ کہ وقتی ریلیف۔

ٹربیونل نے یہ بھی قرار دیا کہ کمپنی اور اس کے ڈائریکٹرز کے بینک اکاؤنٹس کو اٹیچ کرنا نہ صرف قانون کے خلاف ہے بلکہ آئین پاکستان کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق، جیسے **منصفانہ ٹرائل (Article 10A)، کاروبار کی آزادی (Article 18) اور جائیداد کا تحفظ (Article 23)** کی بھی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے اس حوالے سے سپیریئر کورٹس کے متعدد فیصلوں پر بھی انحصار کیا جن میں یہ اصول طے ہو چکا ہے کہ جب تک ٹیکس کا معاملہ کم از کم ایک آزاد اپیلیٹ فورم سے نہ گزر جائے، اس وقت تک زبردستی ریکوری نہیں کی جا سکتی۔

آخر میں، ٹربیونل نے CIR(A) کا حکم **کالعدم قرار دے دیا**، تمام ریکوری کارروائیاں **معطل کر دیں**، محکمہ کو ہدایت دی کہ فوری طور پر **ریکوری نوٹسز واپس لے اور بینک اکاؤنٹس ڈی اٹیچ کرے**، اور CIR(A) کو حکم دیا کہ وہ زیر التواء اپیل کو **60 دن کے اندر فیصلہ کرے**۔ اس فیصلے کا بنیادی اصول (ratio) یہ ہے کہ جب ٹیکس دہندہ 10% ٹیکس ادا کر دیتا ہے تو اسے اپیل کے دوران مکمل قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے، اور محکمہ کسی بھی صورت میں اس تحفظ کو نظر انداز کرتے ہوئے ریکوری نہیں کر سکتا۔

Want your practice to be the top-listed Law Practice in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Office No. 17, Rehman Plaza, Opposite HBL, Bosan Road
Multan
60000