add posting

add posting

Share

Photos from add posting 's post 18/03/2026

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے ایک نیا خطرناک موڑ اختیار کر لیا ہے، جہاں اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم اب شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جبکہ امریکہ کی شمولیت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اسرائیلی حملوں کی تازہ لہر میں ایران کے اہم توانائی کے مرکز **ساؤتھ پارس گیس فیلڈ** کو نشانہ بنایا گیا، جو دنیا کا سب سے بڑا قدرتی گیس کا ذخیرہ سمجھا جاتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ حملہ امریکہ کی منظوری اور تعاون سے کیا گیا، جسے جنگ میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ([Wikipedia][1])

اس حملے کے نتیجے میں گیس کی پیداوار متاثر ہوئی، کئی ریفائنریاں بند ہو گئیں، اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔ ایران نے اس اقدام کو اپنی معیشت پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔ ([Wikipedia][1])

دوسری جانب، تہران نے تصدیق کی ہے کہ اس کے انٹیلیجنس وزیر **اسماعیل خطیب** اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ صرف ایک دن میں تیسرے بڑے ایرانی رہنما کی ہلاکت ہے، جس سے ایران کی سیکیورٹی قیادت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ ([The Guardian][2])

اس سے پہلے بھی اعلیٰ شخصیات جیسے علی لاریجانی اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی مارے جا چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل ایران کی قیادت کو براہِ راست نشانہ بنا رہا ہے۔ ([The Guardian][3])

ایران نے ان حملوں کے جواب میں اسرائیل اور خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس سے نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ عالمی تجارت، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔ ([The Guardian][3])

عالمی سطح پر بھی اس کشیدگی پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ روس نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے خودمختار ریاست کی قیادت کو نشانہ بنانے کے مترادف قرار دیا اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ([Reuters][4])

مجموعی طور پر صورتحال نہایت سنگین ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی تو یہ ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور امن پر پڑیں گے۔

17/03/2026

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی اہم شخصیات کو نشانہ بنا کر بڑی کارروائی کی ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع Israel Katz کے مطابق حالیہ فضائی حملوں میں ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار Ali Larijani اور بسیج فورس کے سربراہ Gholamreza Soleimani ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کے عسکری نیٹ ورک کو کمزور کرنے کے لیے کی گئی۔

دوسری جانب ایران کی طرف سے تاحال ان ہلاکتوں کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، جس کے باعث صورتحال مزید غیر یقینی کا شکار ہے۔ ماضی میں بھی ایسے دعوؤں پر فوری تصدیق میں تاخیر دیکھی گئی ہے، خاص طور پر جب معاملہ اعلیٰ سطحی قیادت کا ہو۔

یہ دعویٰ اس لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اگر Ali Larijani واقعی ہلاک ہوئے ہیں تو یہ ایران کی سیاسی و سکیورٹی قیادت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ اس سے قبل 28 فروری کو ہونے والے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei کی ہلاکت کی خبر بھی عالمی سطح پر شدید ردعمل کا باعث بنی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو خطے میں جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ ایران کی جانب سے ممکنہ ردعمل، خلیج میں کشیدگی، اور عالمی طاقتوں کی مداخلت اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

موجودہ صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے، خاص طور پر تیل کی سپلائی اور سمندری راستوں کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا ایران ان دعوؤں کی تصدیق کرتا ہے یا نہیں، اور اس کے بعد وہ کیا حکمتِ عملی اختیار کرتا ہے۔ فی الحال خطہ ایک انتہائی حساس اور غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے۔

17/03/2026

16/03/2026

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات اب دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ کشیدگی اور خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی صورتحال کے باعث عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

برطانیہ کے وزیر اعظم Keir Starmer آج عوام سے خطاب کرنے والے ہیں جس میں وہ ہیٹنگ آئل استعمال کرنے والے لوگوں کے لیے مالی مدد کے منصوبے پر بات کریں گے۔ جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے نے برطانیہ کے لاکھوں گھروں کے اخراجات بڑھا دیے ہیں، جس کی وجہ سے حکومت پر عوام کو ریلیف دینے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب امریکہ کے صدر Donald Trump نے خبردار کیا ہے کہ اگر اتحادی ممالک اہم آبی گزرگاہ Strait of Hormuz کو محفوظ بنانے میں مدد نہیں کرتے تو اس کے NATO کے مستقبل پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کئی ممالک کے ساتھ مل کر اس آبی راستے کی نگرانی اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک اس مشکل وقت میں تعاون نہیں کریں گے، امریکہ اسے یاد رکھے گا۔

ادھر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ Israel نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی Lebanon میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ Hezbollah کے خلاف محدود زمینی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو نہ صرف تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور تجارت پر بھی اس کے سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔

🌍 بدلتی عالمی صورتحال پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

15/03/2026

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث لبنان ایک بڑے انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ United Nations کے سیکریٹری جنرل Antonio Guterres نے لبنان میں متاثرہ شہریوں کی مدد کے لیے 308.3 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کی اپیل کر دی ہے۔

لبنان کے دارالحکومت Beirut کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ لبنانی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے یہاں آئے ہیں، مگر صرف الفاظ نہیں بلکہ عملی اقدامات کی بھی اشد ضرورت ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں اور Hezbollah کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک تقریباً 8 لاکھ 16 ہزار افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ خدشہ ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق بے گھر ہونے والے خاندانوں کو خوراک، پینے کے پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی فوری ضرورت ہے۔ عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس انسانی بحران میں لبنان کی مدد کے لیے فوری اقدامات کرے۔

Photos from add posting 's post 13/03/2026

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایک **میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ** اور مزید جنگی بحری جہاز خلیج کی جانب روانہ کیے جا رہے ہیں تاکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کارروائیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

امریکی وزیر دفاع **پیٹ ہیگستھ** نے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی درخواست پر ایک **ایمفیبیئس ریڈی گروپ** اور اس کے ساتھ منسلک میرین فورس کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔ عام طور پر اس طرح کے فوجی دستے میں کئی جنگی جہاز اور تقریباً **پانچ ہزار میرین اہلکار** شامل ہوتے ہیں، جن کا مقصد سمندر اور ساحلی علاقوں میں فوری فوجی کارروائی کی صلاحیت کو بڑھانا ہوتا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر **ڈونلڈ ٹرمپ** نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں فوری طور پر ایران میں حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کب ختم ہونی چاہیے، اس کا فیصلہ وہ اس وقت کریں گے جب انہیں “اپنی ہڈیوں میں محسوس ہوگا” کہ یہ وقت آ گیا ہے۔ ان کے اس بیان کو عالمی مبصرین نے جنگ کے مستقبل سے متعلق ایک مبہم اشارہ قرار دیا ہے۔

ادھر جنگ کے دوران ایک افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق **KC-135 ری فیولنگ طیارہ** مغربی عراق میں گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں اس میں سوار تمام **چھ عملے کے ارکان ہلاک** ہو گئے۔ اس حادثے نے امریکی فوجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

امریکی فوج کے مطابق **آپریشن ایپک فیوری** کے دوران اب تک **13 امریکی فوجی اہلکار** ہلاک ہو چکے ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی جھڑپوں اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں حملوں کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Multan