Bano's Diary
وہی سفر وہی تارے وہی تھکن باقی
وہی ہے بجھتے چراغوں کا سلسلہ اب تک
🖤
آنند سروپ انجم
15/03/2025
فریب عہد محبت کی سادگی کی قسم
وہ جھوٹ بول کہ سچ کو بھی پیار آ جائے
🖤
فراق گورکھپوری
12/01/2025
ایک چہکار نے سناٹے کا توڑا پندار
ایک نو برگ ہنسا دشت کی ویرانی پر
عرفان صدیقی
29/11/2024
خواب بعض اوقات اس نعمت کی طرح محسوس ہوتے ہیں جس کا مل جانا انسان کے لئے بھری دوپہر میں کسی چھاؤں کی مانند ہوتا ہے۔۔۔ یا شاید شدید حبس میں بارش کی مانند۔۔۔
خصوصاً وہ خواب جہاں آپ اپنے پیاروں کو نظر بھر کے دیکھ لیتے ہیں۔۔۔ حالانکہ دیکھنے کے لئے ہمارے پاس ان گنت تصویریں ہیں لیکن ان تصویروں میں وہ ساکت کھڑے ہیں۔ سانس روکے، چہرے پر بھرپور مسکراہٹ لئے۔۔۔
"وہ مسکراہٹ جسے دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس گئیں۔۔۔"
ابا جی کی وفات کے بعد انہیں کئی مرتبہ خواب میں دیکھا، اور ہمیشہ صحیح سلامت۔۔۔ حالانکہ وہ سخت بیماری اور تکلیف میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔۔۔آج بھی دوپہر میں سوتے ہوئے ابا جی کو خواب میں دیکھا۔۔۔ صحت یاب تھے اور تو اور موبائل فون چلا رہے تھے۔۔۔ کسی دوست کے نام پیغام لکھ رہے تھے یا شائد اس دکھ کے نام جو ان کے جانے کے بعد ہماری زندگیوں سے چپک گیا ہے۔۔۔۔ دل کیا انہیں آواز دوں، پاس بیٹھ کر دل کی سنوں اور سناؤں لیکن شیشے کی ایک ان دیکھی دیوار بیچ میں حائل تھی۔۔۔ (آہ یہ فاصلے.... جو صدیوں کی مسافت پر محیط ہیں یا شاید قیامت کے دن تک۔۔۔) اور آواز گلے میں گھٹ کر رہ گئی۔۔۔
نفسیات کہتی ہے کہ خوابوں کا تعلق ہمارے لاشعور سے ہے۔۔۔ وہاں ٹھہری یادداشتیں ہمارے خوابوں کے ذریعے ہمیں تقویت پہنچاتی ہیں۔۔۔ جو چیزیں کھو چکی ہوں انہیں سامنے لا کر رکھ دیتی ہیں۔۔۔ پھر بھلے انہیں دیکھ کر ہم آہیں بھریں یا خود کو تسلی دیں۔۔۔
لیکن مجھے لگتا ہے کہ خوابوں کا تعلق ہمارے دل سے ہے۔۔۔ دل میں پنپتی یادوں سے۔۔۔ اسی لئے جب کبھی دل شدت سے اپنے پیاروں کو دیکھنا چاہے تب ہی وہ خواب میں آ جاتے ہیں۔۔۔(دل کو دل سے راہ جو ہوئی۔۔ہے نا 😊) اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہم ٹھیک ہیں تم بھی ٹھیک رہو۔۔۔
(لیکن وہاں ٹھیک رہنے والے یہ نہیں جانتے کہ ان کا جانا یہاں کتنا کچھ بگاڑ گیا ہے جو کبھی ٹھیک نہیں ہو گا۔۔۔ جن میں سرفہرست ہمارا دل ہے۔۔۔🥺)
یہ دل مزید تشنگی کا شکار ہو جاتا ہے کہ کاش ماضی کا پہیہ گھومے اور ہم اس چند پل اس دور میں واپس جا سکیں جہاں سانس لیتے ہنستے مسکراتے چہرے ہمارے آس پاس تھے۔۔۔ کاش کہ خواب زندہ و جاوید ہمیں ہمارے پیاروں سے ملا سکیں.....
کاش۔۔۔۔
22/11/2024
"چلو بارش میں بھیگتے ہیں۔۔۔" آسمان سے گرتے قطرے اس کے شوق کو جگا گئے تھے۔۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر منت بھرے لہجے میں بولی۔ لیکن وہ ٹس سے مس نا ہوا بلکہ مسکرا کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔۔۔ جہاں سارا جہان بھیگ گیا تھا۔۔سوائے ان دونوں کے۔۔۔
"ویسے یہ تم لڑکیوں کی بارش میں بھیگنے والی فینٹیسی عجیب ہے۔۔۔"
"کیوں تمہیں بارش میں بھیگنا نہیں پسند۔۔۔؟"
"اوں ہوں۔۔" اس نے سر کو دائیں بائیں جنبش دی۔۔
"بارش بھیگنے کے لئے نہیں ہوتی، اسے تو بس دور سے دیکھنا چاہئے۔۔ کچھ چیزیں دور سے دیکھنے پر زیادہ فیسینیٹ کرتی ہیں نا۔۔۔؟" اس نے اس جھلی کی طرف دیکھا، جو اس فیسینیشن کو دور سے ہی دیکھنے پر مجبور تھی۔۔(جو اس بارش سے زیادہ حسین منظر تھا۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ حسین مناظر بعض اوقات آنکھوں میں کرچیاں بن کر کبھ جاتے ہیں۔۔)
"اور بتاؤ نا تم بارش کو کیسے انجوائے کرنا چاہتے ہو۔۔۔؟"
"کھڑکی کے سامنے بیٹھنا، ایک کپ کڑک دار چائے، گرما گرم پکوڑے اور شاعری کی کتاب۔۔۔" اس کی مسکراہٹ یک دم تھمی تھی۔۔اس فینٹیسی میں وہ کہاں تھی۔۔۔؟؟ اپنے شوق اس کے لئے تیاگ دینے کے بعد بھی وہ اس کے زندگی کے کسی لمحے میں موجود نہیں تھی۔۔۔۔(یہ تلخ حقیقت چائے کے کڑوے گھونٹ سے بھی زیادہ کسیلی تھی۔۔۔)
بادل پھر سے گِھر آئے تھے۔۔ آسمان کا رنگ تاریکی اوڑھ چکا تھا اور یک بیک کئی قطرے زمین کی طرف سفر کرنے لگے۔۔
کھڑکی کے سامنے بیٹھی جھلی نے میز پر پڑی کڑک چائے اٹھائی اور سپ بھرا۔۔ ٹھنڈی چائے جذبات کی اوس بدمزہ کر چکی تھی۔۔۔ میز پر اوندھی پڑی شاعری کی کتاب پر جمی گرد نے حال کو بھی اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔(اور یہ گرفت بہت مضبوط تھی)۔۔ پکوڑوں کی پلیٹ پر ماضی کے ٹھنڈے لہجے غالب تھے۔۔۔
اس نے نظریں اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا، جہاں مطلع صاف تھا۔۔
"پھر وہ بھیگ کیسے رہی تھی۔۔۔؟ ؟
24/10/2024
It's sad but reality 🙁
14/10/2024
سوائے وہم کے.... 🖤
13/10/2024
"یہ دنیا ہے اور یہ کسی کے لئے مکمل نہیں ہے۔جو بھی ہو۔جیسی بھی ہو۔سب کو ادھوری ملتی ہے۔
چھڑے چھانٹ از زاہرہ جعفری
Click here to claim your Sponsored Listing.