Zari Dunya
زرعی دنیا: جدید زراعت، بہترین فصلوں کی کاشت اور کسانوں کی تکنیکی رہنمائی کے لیے آپ کا قابلِ بھروسہ پلیٹ فارم۔ اس پیج پر فراہم کردہ معلومات کا مقصد خالصتاً کاشت کاروں کی معاونت ہے؛ اس کا کسی بھی قسم کی پبلک سیکٹر یا حکومتی بیانیے سے کوئی تعلق نہیں ہے!
30/04/2026
سونا ڈی اے پی کی قیمت 15 ہزار روپے سے اوپر چلی گئی ہے ۔۔۔ کسان بیچارہ کیا کرے، کہاں جائے:
اینگرو فرٹیلائزر کی جانب سے ڈی اے پی کھاد کی قیمت میں 350 روپے فی بوری کا حالیہ اضافہ کسانوں کے لیے معاشی بوجھ میں ایک ایسے وقت میں اضافہ ہے جب وہ پہلے ہی بجلی کے بھاری بلوں، بیجوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ڈیزل کے اخراجات کی وجہ سے دیوار سے لگے ہوئے ہیں۔ ڈی اے پی کی قیمت میں یہ اچانک اضافہ براہِ راست خریف کی فصلوں، خاص طور پر کپاس کی پیداواری لاگت کو متاثر کرے گا، جس سے فی ایکڑ خرچہ کسان کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ کپاس پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، مگر کھاد جیسی بنیادی ضرورت کا مہنگا ہونا کسانوں کو اس کے استعمال میں کمی پر مجبور کر سکتا ہے، جس کا منطقی نتیجہ فصل کی کم پیداوار اور معیار میں گراوٹ کی صورت میں نکلے گا۔ کسان پہلے ہی منڈیوں میں اپنی اجناس کے مناسب نرخ نہ ملنے کی وجہ سے شدید مایوسی کا شکار ہیں، اور ایسے میں پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ زراعت کو ایک نقصان دہ سودا بنا رہا ہے جو نہ صرف دیہی معیشت بلکہ قومی فوڈ سیکیورٹی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ کھاد ساز کمپنیوں کے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کروائیں اور کسانوں کو ریلیف فراہم کریں۔
28/04/2026
مئی تا جون شدید گرمی: کپاس کی کلیوں اور پیداوار کو لاحق خطرات اور بچاؤ کی حکمت عملی:
پاکستان میں کپاس کی اگیتی فصل جو فروری-مارچ یا پھر موسمی اپریل کے ابتدائی دنوں میں کاشت کی گئی ہے، وہ فصل مئی اور جون کے دوران کلیوں کی تشکیل اور پھول آنے کے اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہے یا ہوگی۔ محکمہ موسمیات کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مئی اور جون میں ملتان، بہاولپور، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان، سکھر، خیرپور، نواب شاہ، حیدرآباد، بدین، ٹنڈو اللہ یار، ٹنڈو آدم، جیکب آباد، شکارپور، لاڑکانہ، کوئٹہ کے نواحی زرعی علاقے، نصیرآباد، جعفرآباد اور صحبت پور میں درجہ حرارت معمول سے 2 سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے جبکہ بعض مقامات پر شدید گرمی کی لہر کے دوران درجہ حرارت ب52 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر ان پودوں کے لیے خطرناک ہے جو 30 سے 45 دن کی عمر میں کلیوں کی تشکیل کے مرحلے سے گزر رہے ہیں کیونکہ اس مرحلے میں پودا مستقبل کی پیداوار کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرتا ہے۔ شدید گرمی سے کلیوں کا گرنا، پولن کا کمزور ہونا، ناقص فرٹیلائزیشن اور چھوٹی ٹینڈیوں کا گرنا بڑھ جاتا ہے جس سے پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
اگیتی کپاس کے کاشتکاروں کو شدید گرمی کے دباؤ سے فصل کو محفوظ رکھنے کے لیے پانی کے وقفوں کو 5 سے 7 دن تک کم کر دینا چاہیے تاکہ مٹی کی نمی مسلسل برقرار رہے اور پودے کا اندرونی درجہ حرارت مستحکم رہے۔ کلیوں کی تشکیل سے پھول آنے تک کا مرحلہ کپاس کے لیے سب سے حساس ہوتا ہے اس دوران پانی کی کمی کلیوں کے گرنے کا باعث بنتی ہے۔ آبپاشی کا بہترین وقت مغرب سے ذرا پہلے شام یا صبح سویرے ہو جب زمین ٹھنڈی ہو۔ دوپہر کی تپش میں پانی لگانے سے جڑوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
شدید گرمی میں پودے کی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے پوٹاشیم نائٹریٹ کا پتوں پر سپرے ایک مؤثر ڈھال کا کام کرتا ہے جو کلیوں کے گرنے کو کم کرتا ہے اور گرمی کے دباؤ میں پودے کو مدد دیتا ہے۔ امائنو ایسڈز کا استعمال پودے کو ماحولیاتی دباؤ سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ہومک ایسڈ جڑوں کی گہرائی اور نمی جذب کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔ زنک اور بوران جیسے چھوٹے غذائی اجزاء کا پتوں پر سپرے چھوٹے ٹینڈوں کی مضبوطی اور ان کے ٹھہراؤ کے لیے مفید ہے۔ اس کے برعکس نائٹروجن یا یوریا کھاد کے زیادہ استعمال سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ پودے کو نرم اور لگژری بنا دیتا ہے جس سے وہ گرمی کے لیے زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔
جڑی بوٹیوں کو مکمل طور پر ختم کریں کیونکہ یہ پودے کا پانی اور غذائی اجزاء چھین کر دباؤ بڑھاتی ہیں۔ گرم اور خشک موسم میں تھرس اور سفید مکھی کے حملوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اس لیے باقاعدہ کیڑوں کی نگرانی کریں اور بروقت مناسب اقدامات کریں۔ تمام پتوں پر سپرے صرف ٹھنڈے اوقات میں یعنی صبح سویرے یا شام کے وقت کریں تاکہ پتوں کو جلن نہ ہو۔
اگیتی فصل میں گرمی کا اثر جلد پڑتا ہے اس لیے ابتدائی مراحل میں ہی پانی اور غذائی توازن برقرار رکھیں۔ اگر ممکن ہو تو نشوونما کنٹرول کرنے والے مناسب مادوں کا استعمال کر کے غیر ضروری پتوں کی نشوونما کو کنٹرول کریں تاکہ پودا پھل دینے کے مراحل پر زیادہ توجہ دے۔ مٹی کی نمی کی باقاعدہ نگرانی جاری رکھیں کیونکہ شدید گرمی میں پانی کے بخارات بننے کی شرح بہت بڑھ جاتی ہے۔
کاشتکاروں کو مشورہ ہے کہ وہ کپاس کی دیکھ بھال کے لیے محکمہ زراعت کے مقامی زرعی توسیعی افسران یا سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان سے رابطہ رکھیں اور ماہرین کی سفارشات پر ہی عمل کیا جائے۔ موسم کی تازہ ترین پیشگوئیوں پر نظر رکھیں۔ بروقت اور درست اقدامات سے اس سال بھی اچھی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
MULTAN-60000