M.Junaid Akram
The Function of Leadership is to produce a more leaders not followers that's why I want to become a leader for those who want to become a leader :)
سلطنت عثمانیہ کے عظیم سلطان، عاشق رسول حضرت سلطان عبدالحمید خان رحمۃ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی نعت مبارک سنہری حروف سے حجرہ مبارک کی جالیوں کے اوپر درج تھی ، جس کے تقریباً سارے اشعار سعودی حکومت نے مٹا دئیے سوائے ان چند ایک کے جو زیر نظر تصاویر میں ہے ۔
حضرت سلطان کی مکمل نعت شریف ملاحظہ فرمائیں :
يا سيدي يا رسول الله خذ بيدى
مالي سواك ولا الوي على احد
اے میرے آقا اے اللہ کے رسول میرا ہاتھ تھام لیجئے
نہ آپ کے سوا میرا کوئی ہے اور نہ ہی میں آپ کے علاوہ کسی کی طرف مائل ہوتا ہوں۔
فانت نور الھدی في كل كائناة
و انت سراً الندى يا خير معتمد
آپ ہی ساری کائنات میں نور ہدایت ہیں اور آپ ہی ساری التجاؤں کا راز ہیں اور آپ ہی کی ذات سب سے زیادہ معتمد ہے۔
وانت حقاغيات الخلق أجمعهم
وانت هادي الورى للله ذي المدد
اور آپ بے شک ساری مخلوق کی مدد کرنے والے ہیں اور آپ سب سے بہتر رہنما اور اللہ کی جانب سے سب کے ہادی ہیں۔
يا من يقوم مقام الحمد منفرداً
للواحد الفرد لم يولد ولم يلد
اے وہ ذات جن کے لیے سب سے منفرد مقام محمود مقرر ہوا ، اس یکتا ذات کے ہاں کہ نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد۔
يا من تفجرت الانهار نابعة
من اصبعه فروى الجيش ذي العدد
اے وہ ذات کہ جن کی انگلیوں سے دریاؤں کے سے چشمے پھوٹ پڑے جن سے لشکر کے لشکر سیر ہو کر اپنی پیاس بُجھاتے تھے۔
اني اذا سامني ضيم یروعني
اقول يا سيد السادات يا سندي
جب بھی میر اظلم سے سامنا ہوا اور میں خوف زدہ ہوا تو میں یا سید السادات اور یاسندی پکارتا ہوں۔
كن لي شفيعاً الى الرحمن من زللي
وامنن علي بما لا كان في خلدى
آپ رب کی بارگاہ میں میری خطاؤں پر میری شفاعت فرمائیں
اور مجھ پر وہ احسان فرمائیں جو کہ میرے تصور سے بھی بالا ہو۔
وأنظر بعين الرضاء لي دائماً ابداً
واستر بفضلك تقصيري مدى الامد
اور آپ ہمیشہ مجھ پر نگاہ التفات رکھیں ، اور اپنے فضل و کرم سے ہمیشہ میری کوتاہیوں کی پردہ پوشی فرمائیں۔
واعطف على بعفواً منك يشملني
فانني عنك يا مولاى لم أحد.
اور مجھ پر ایسی نظر کرم فرمائیں کہ میری کوتاہیوں کو ڈھانپ لے
بے شک اے میرے آقا آپ کے سوا میرا کوئی نہیں۔
اني توسلت بالمختار أشرف من
رقى السماوات سر الواحد الأحد
بے شک میں نے ایسی مختار ہستی کا وسیلہ پکڑا ہے ، جو آسمانوں سے بھی بالا تر تشریف لے گئے اور اللہ واحد لاشریک کا راز ہیں۔
رب الجمال تعالى الله خالقه
فمثله في جميع الخلق لم اجد
حُسن کے رب نے آپ کی تخلیق کی
اور پوری کائنات میں آپ جیسا کوئی اور نہیں ہے۔
خير الخلائق المرسلين ذرى
ذخر الانام و هاديهم الي الرشد
آپ ساری مخلوق سے بہتر اور تمام رسولوں سے اعلیٰ مقام رکھتے ہیں
آپ پوری مخلوق کے ملجاء و ماوئی اور صراط مستقیم کی طرف ان کے راہنما ہیں۔
به التجئتُ لعل الله يغفر لى
هذا الذي هو في ذهني و معتقدى
انہی کے وسیلے سے میں نے التجاء کی ہے اور امید ہے کہ اللہ مجھے بخش دے گا یہی میرا عقیدہ اور ایمان ہے۔
فمدحة لم يزل دابي مدى عمري
وحبه عند رب العرش مستند
جب تک میری عمر ہے ہمیشہ ان کی تعریف ہی مرا طرز عمل ہے اور ان کی محبت ہی رب العرش کے ہاں قابل اعتماد سرمایہ ہے۔
عليه اذكى صلاة لم تنزل ابداً
مع السلام بلا حصر ولا عدد
ان پر ہمیشہ ہمیشہ بہترین درود ہو
جس کے ساتھ بے حد و شمار صلوۃ و سلام ہو۔
وعلى الآل والصحب اھل المجد قاطبة
بحر السماح واھل الجود والمدد
اور تمام آل اور اصحاب کرام پر جو بڑی فضیلت والے ہیں
اور جو سخاوت اور عفو اور مدد کا سمندر ہیں۔
✍🏻ارسلان احمد اصمعی قادری
11/2/26ء
ساغر صدیقی کہ والد نے ساغر کی پسند کو یہ کہ کر ٹھکرا دیا تھا کہ ہم خاندانی لوگ ھیں کسی تندور والے کی بیٹی کو اپنی بہو نہیں بنا سکتے غصہ میں اس لڑکی کہ گھر والوں نے لڑکی کی شادی پنجاب کہ ایک ضلع حافظ آباد میں کردی تھی جو کامیاب نہ ہوئی
لیکن ساغر اپنے گھر کی تمام آسائش و آرام
چھؤڑ چھاڑ کر لاھور رہنے لگا
جب اسکی محبوبہ کو پتا چلا ساغر داتا دربار ہے۔ تو وہ داتا صاحب آ گئی کافی تلاش کہ بعد آ خر تاش کھیلتے ھوئے ایک نشئیوں کہ جھڑمٹ میں ساغر مل ہی گیا
اس نے ساغر کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا اور یہ بھی بتایا کہ مجھے میرے خاونذ نے ھاتھ تک نہیں لگایا اور ہماری داستان محبت سن کر مجھے طلاق دیدی ھے اب اگر تم چاہو تو مجھے اپنا لو
ساغر نے کہا
*بندہ پرور کوئی خیرات نہیں
ھم وفاؤں کا صلہ مانگتے ھیں*
غربت، ڈپریشن، ٹینشن کی وجہ سے ساغر صدیقی کے آخری چند سال نشے میں گزرے اور وہ بھیک مانگ کر گزارہ کیا کرتے تھے گلیوں میں فٹ پاتھ پر سویا کرتے تھے لیکن اس وقت بھی انھوں نے شاعری لکھنا نہ چھوڑی۔
میری غربت نے میرے فن کا اڑا رکھا ہے مزاق۔۔
تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ہیں
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانےکس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
آؤ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ *ساغر* کو خدا یاد نہیں۔
*ساغر صدیقی ۔ ۔ ۔*
کہتے ہیں کہ جب جنرل ایوب خان صاحب پاکستان کے صدر تھے تو ان دنوں جنرل ایوب خان صاحب کو بھارت میں ایک مشاعرے میں مہمان خصوصی کے طور پر بلایا گیا جب مشاعرہ سٹارٹ ہوا تو ایک شاعر نے ایک درد بھری غزل سے اپنی شاعری کا آغاز کیا۔
جب وہ شاعر شاعری کر کے فارغ ہوا تو جنرل صاحب اس شاعر کو کہتے ہیں کہ محترم جو غزل آپ نے سٹارٹ میں پڑھی بہت درد بھری غزل تھی یقینا" کسی نے خون کے آنسووں سے لکھی ہو گی اور داد دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بہت پسند آئی ہے تو وہ شاعر بولے جناب عالی اس سے بڑی آپ کے لئے خوشخبری اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس غزل کا خالق، اس کو لکھنے والا لکھاری یعنی شاعر آپ کے ملک پاکستان کا ہے، جب جنرل صاحب نے یہ بات سنی تو آپ دھنگ رہ گے اتنا بڑا ہیرہ میرے ملک کے اندر اور مجھے پتہ ہی نہیں جب آپ نے اس شاعر سے اس غزل کے لکھاری یعنی شاعر کا نام پوچھا تو اس نے کہا جناب عالی اس درد بھرے شاعر کو ساغر صدیقی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
جب جنرل صاحب پاکستان واپس آئے اور ساغر صدیقی صاحب کا پتہ کیا تو کسی نے بتایا کہ جناب عالی وہ لاہور داتا صاحب کے قریب رہتے ہیں تو جنرل صاحب نے اسی وقت اپنے چند خاص آدمیوں پہ مشتمل وفد تحائف کے ساتھ لاہور بھیجا اور ان کو کہا کہ ساغر صدیقی صاحب کو بڑی عزت و تکریم کے ساتھ میرے پاس لاو اور کہنا کہ جنرل ایوب خان صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔
جب وہ بھیجا ہوا وفد لاہور پہنچا تو انہوں نے اپنا تعارف نہ کرواتے ہوئے داتا دربار کے سامنے کھڑے چند لوگوں سے شاعر ساغر صدیقی کی رہائش گاہ کے متعلق پوچھا تو ان کھڑے چند لوگوں نے طنزیہ لہجوں کے ساتھ ہنستے ہوئے کہا کہ کیسی رہائش؟؟ کون سا شاعر؟؟ ارے آپ اس چرسی اور بھنگی آدمی سے کیا توقع رکھتے ہیں اور پھر کھڑے ان چند لوگوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیکھیں سامنے پڑا ہے چرسیوں اور بھنگیوں کے جھرمٹ میں، جب وہ جنرل ایوب خان صاحب کا بھیجا ہوا وفد ساغر صدیقی صاحب کے پاس گیا اور ان کو جنرل صاحب کا پیغام دیا تو ساغر صدیقی صاحب کہنے لگے جاو ان سے کہہ دو کہ ساغر کی کسی کے ساتھ نہیں بنتی اسی لئے ساغر کسی سے نہیں ملتا (جب ساغر صدیقی نے یہ بات کہی تو بشمول ساغر نشے میں مست وہاں موجود ہر نشئی ایک زور دار قہقہے کے ساتھ کچھ دیر کے لئے زندگی کے دیے غموں کو بھول گیا) بہرحال بےپناہ اسرار (ترلوں) کے باوجود وہ وفد واپس چلا گیا اور سارے احوال و حالات سے جنرل صاحب کو آگاہ کیا۔
کہتے ہیں کہ جنرل ایوب خان صاحب پھر خود ساغر صدیقی صاحب سے ملنے کے لئے لاہور آئے اور جب ان کا سامنا ساغر صدیقی صاحب سے ہوا تو ساغر صدیقی صاحب کی حالت زار دیکھ کر جنرل صاحب کی آنکھوں سے آنسووں کی اک نہ رکنے والی جھڑی لگ گئ اور پھر انہوں نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے غم سے چور اور نشے میں مست ساغر صدیقی سے جب مصافحہ کرنا چاہا تو ساغر صدیقی صاحب نے یہ کہتے ہوئے ان سے ہاتھ پیچھے ہٹا لیا
کہ
جس عہد میں لٹ جائے غریبوں کی کمائی،،،
اس عہد کے سلطاں سے کوئی بھول ہوئی ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.