Legal Knowledge For All

Legal Knowledge For All

Share

08/03/2024

ایس آر او 350 مورخہ سات مارچ 2024
سیلز ٹیکس رولز میں درج زیل تبدیلیاں کی گئ ہیں
کسی بھی فرد اے او پی یا سنگل ممبر کمپنی ۔۔مینوفیکچرر کے علاؤہ
ان سب کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ
اپنی بیلینس شیٹ لازمی جمع کرواییں ورنہ انکا سیلز ٹیکس کا گوشوارہ جمع نہیں ہوسکے گا کمشنر کی منظوری کے بغیر

اگر بیلنس شیٹ جمع نہیں ہوگی تو IRIS میں رجسٹر بھی نہیں ہوسکے گا
رجسٹرڈ بندے کو ہر سال جولائی میں نادرا آی سہولت سے بایو میٹرک کروانی ہوگی
ظاہر کردہ سرمایہ سے پانچ گنا زیادہ سیلز ظاہر کرنے کی صورت میں کمشنر سے منظوری لینا ہوگی
اب اگر خریدار اپنے گوشوارہ میں خریداری کی انوایسز اسی ماہ میں ظاہر نہیں کرے گا تو فروحت کنندہ کی ریٹرن provisional سمجھی جایے گی جب تک کہ خریدار اپنی ریٹرن فایل نہیں کرتا

02/03/2024

بریکنگ نیوز

ایف بی آر نے ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ 2024 جاری

کر دی ہے

ایسے ٹیکس پیئرز جنہوں نے انکم ٹیکس ریٹرن

2023 مقرره تاریخ 31 اکتوبر 2023 تک جمع کروائی ہے وہ اس لسٹ میں شامل ہیں یعنی فائلر ایسے ٹیکس پیئرز جنہوں نے انکم ٹیکس ریٹرن 2023 مقرره تاریخ کے بعد جمع کروائی یا ابھی تک

جمع نہیں کروائی وہ نان فائلر ہیں آج ہی اپنا فائلر سٹیٹس چیک کریں

Type ATL space CNIC number without Dash send it to 9966

ملک فخر الطاف ماڑھا ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ٹیکس کنسلٹنٹ
03027317171
03336482141

22/11/2023

*انکم ٹیکس سے متعلق بنیادی معلومات*

تحریر: راجہ شجاعت علی عباسی

پاکستان میں ان دنوں معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، یہی وجہ ہے کہ ٹیکس وصولی اور ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے حوالے سے عوام کی بڑی تعداد پریشان دکھائی دے رہی ہے۔ دراصل انکم ٹیکس ریٹرن ایک ٹیکس فارم ہے جس میں مالی سال کے دوران کمائی گئی آمدن کی تفصیلات فراہم کرنا ہوتی ہیں۔ اس سے پہلے کہ اسکی بنیادی تفصیلات کو زیر بحث لایا جائے انکم کی تعریف دیکھ لیتے ہیں.

*انکم ٹیکس کی تعریف*

انکم ٹیکس ایک ٹیکس ایسا ٹیکس ہے کہ جو حکومتیں افراد پر عائد کرتی ہیں۔ انکم ٹیکس حکومتوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ ہوتا ہے جبکہ یہ انکم ٹیکس حکومتی ذمہ داریوں کی ادائیگی، عوامی خدمات کو فنڈ دینے اور شہریوں کے لیے سامان فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں.

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک انکم ٹیکس کے ذریعے سے ہی اپنی حکومتیں کامیابی کے ساتھ چلا رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں انکم ٹیکس پے کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں سوچا گیا اسی لیے یہاں انکم ٹیکس کی جگہ بلاواسطہ ٹکیسوں کی غریب عوام پر بھرمار ہے جسکی وجہ سے عوام ہمیشہ ظلم کی چکی میں پیستے ہیں. تاہم اب آئی ایم ایف کے دباو پر یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ انکم ٹیکس کو لازمی قرار دیا جائے جس کے لیے کچھ عرصے کے بعد سیکشن 114B انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت نان فائلرز پر سختی کرتے ہوئے انکی موبائل سمز, بجلی و گیس کنکشن کو منقطع کرنا اور شناختی کارڈز کی بلاکج کی جا سکتی ہے.

*فائلر بننا کوئی راکٹ سائنس نہیں*

بظاہر فائلر بننا بہت مشکل کام ہے تاہم اگر آپ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے استعمال کی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں تو آپ یہ ریٹرن کسی ماہر کی معاونت کے بغیر ہی جمع کروا سکتے ہیں۔

رجسٹریشن اور اپنے انکم ٹیکس گوشوارے کو بھرنے سے پہلے سب سے یہ سفارش کی جاتی ہے کہ ہر ایک شخص کو ان طریقہ ہائے کار کے بارے میں بنیادی سمجھ بوجھ حاصل کرنی چاہیے۔ بنیادی تصورات کا علم نہ صرف اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ کام آسانی سے انجام دیئے جائیں بلکہ مقررہ انداز میں بھی کیے جا سکیں گے.

*قابل ٹیکس آمدن*

قابل ٹیکس آمدن سے مراد عطیات نکالنے کے بعد ایسی کل آمدن ہے جس میں سے کٹوتیاں اور مخصوص قابل کٹوتی الاؤنس نکالے جاتے ہیں۔

*کل آمدن*

آمدن کی ہر ایک مد کے تحت کل آمدن قابل ادا ٹیکس آمدن کا مجموعہ ہوتاہے۔

*آمدن کی مد*

انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے تحت تمام آمدن کو آمدن کی مندرجہ ذیل پانچ مدوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

1. تنخواہ؛

2. جائیداد سے آمدن؛

3. کاروبار سے آمدن؛

4. حاصلِ سرمایہ /منافع سرمایہ؛ اور

5. دیگر ذرائع سے آمدن

*رہائشی*

افراد کی ایک ایسوسی ایشن ایک ٹیکس سال کے لیے رہائشی ہے اگر اس کے معاملات کا کنٹرول اور انتظام اس سال کے کسی بھی وقت کلی یا جزوی طور پر پاکستان میں کیا جاتا ہے؛

ایک کمپنی ٹیکس سال کے لیے رہائشی ہے اگر:
اسے پاکستان میں کسی بھی نافذالعمل قانون کے تحت یا اس کے ذریعے چلایا یا تشکیل دیا گیا ہے؛
اس کے معاملات کنٹرول اور انتظام سال میں کسی بھی وقت مکمل طور پر پاکستان میں انکارپوریٹ کیا گیا ہے. یا

یہ پاکستان کی صوبائی حکومت یا مقامی حکومت ہے۔

ایک فرد ایک ٹیکس سال کے لیے رہائشی ہے اگر وہ:
پاکستان میں ٹیکس سال میں 183 دن یا اس سے زائد عرصے تک، مجموعی مدت کے لیے موجود ہے، یا
ٹیکس سال میں ایک سو بیس دن یا اس سے زیادہ کی مجموعی مدت ، یا ٹیکس سال میں، اور ٹیکس سال سے پہلے کے چار سالوں میں پاکستان میں ایک مدت یا مدت کے لئے پاکستان میں موجود ہے مجموعی طور پر ، تین سو پینسٹھ دن یا اس سے زیادہ۔ یا
وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت کا ملازم یااہل کار ہے اور ٹیکس سال میں بیرون ملک تعینات کیا گیا ہے۔

*غیر رہائشی*

افراد کی ایسوسی ایشن، ایک کمپنی اور ایک شخص ٹیکس سال کے لیے غیر رہائشی ہے اگر وہ اس سال میں رہائشی نہیں رہے۔

*پاکستان میں ذرائع آمدن*

انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کی سیکشن 101 میں بیان کیا گیا ہےجس میں مختلف مدوں اور حالات کے تحت آمدن کی وضاحت کی جاتی ہے۔پاکستان میں بعض عمومی ذرائع آمدن درج ذیل ہیں: -

پاکستان میں کسی ملازمت سے موصول یا قابل موصول تنخواہ جہاں بھی ادا کی جاتی ہے؛

وفاقی حکومت ، صوبائی حکومت، یا مقامی حکومت کے ذریعے یا اس کی ایماء پر ادا شدہ تنخواہ، جہاں کہیں بھی ملازمت کی جاتی ہے؛

رہائشی کمپنی کی جانب سے ادا کردہ منافع؛

رہائشی شخص کی طرف سے ادا کردہ قرض پر منافع؛

جائیداد یا کرایہ کی آمدن جو پاکستان میں غیر منقولہ جائیداد کی لیز سے حاصل کردہ ہو؛

رہائشی یا غیر رہائشی کے مستقل قیام کی طرف سے اداکردہ یاواجب الادا پنشن یا سالانہ وظیفہ؛

*غیر ملکی ذرائع آمدن*

ایک ایسی آمدن جو پاکستان کے ذریعہ آمدن نہ ہو۔

*شخص*

• ایک فرد؛

• ایک کمپنی یا افراد کی ایسوسی ایشن جو پاکستان میں (یا کسی اور جگہ چلائی)بنائی جائے، تشکیل دی جائے، منظم یا قائم کی جائے؛یااس کے علاوہ کسی بھی جگہ ؛

• وفاقی حکومت، غیر ملکی حکومت، غیر ملکی حکومت یا سرکاری بین الاقوامی تنظیم کا سیاسی ذیلی ادارہ۔

*کمپنی*
• ایک کمپنی جس کی تعریف کمپنی آرڈنینس 1984(XLVIIبابت 1984۹میں بیان کی گئی ہے ۔

• کمپنیاں آرڈیننس، 1984 (XLVII بابت1984) میں بیان کردہ ایک کمپنی؛

• پاکستان میں کسی بھی قانون کے تحت قائم کردہ ایک تجارتی ادارہ؛

• ایک مضاربہ؛

• پاکستان سے باہر اس ملک کے نافذالعمل قانون کے ذریعے یا اس کے تحت قائم کردہ ایک کمپنی ؛

• ایک کمپنی کی تعریف کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے فنانس ایکٹ، 2013 کے ذریعے ایک ترمیم کی گئی ہے. انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے مطابق اب ایک کمپنی میں درج ذیل شامل ہے:

ایک کوآپریٹیوسوسائٹی، ایک فنانس سوسائٹی یا کوئی اور سوسائٹی؛

غیر منافع بخش تنظیم؛

ایک ٹرسٹ، ایک ادارہ یا لوگوں کی تنظیم جسے وقتی طورپر کسی بھی قانون کے تحت یا اس کے ذریعے قائم کیا گیا ہو یا تشکیل دیا گیا ہو۔

• ایک غیر ملکی ایسوسی ایشن، چاہے تشکیل دی گئی ہو یا نہیں، جس کے بورڈ نے عمومی یا خصوصی حکم کے ذریعے اس آرڈیننس کے مقاصد کے لیے ایک کمپنی بنانے کا اعلان کیا ہو؛

• صوبائی حکومت؛

• پاکستان میں مقامی حکومت؛

• ایک چھوٹی کمپنی

افراد کی ایسوسی ایشن
ایک فرم پر مشتمل ہے (ان افراد کے درمیان ایک تعلق ہوتاہے جو ایک کاروبار کے منافع کو شیئر کرنے پر اتفاق کرتےہیں جسے تمام لوگ یا ان میں سے کوئی ایک سب کے لیے کام چلاتا ہے)، ایک غیر منقسم ہندو خاندان
، کوئی فرضی عدالتی/قانونی شخص اور غیر ملکی قانون کے تحت قائم کردہ افراد کا ادارہ لیکن اس میں ایک کمپنی شامل نہیں ہوتی۔

*ٹیکس سال*

30جون کو ختم ہونے والے بارہ مہینوں کی مدت یعنی مالی سال ہے اور کیلنڈر سال کو ظاہر کرتا ہے جس میں مذکورہ تاریخ آتی ہے۔ مثال کے طور پر، 01 جولائی2017 سے 30 جون 2018 تک کے بارہ مہینوں کی مدت کے لیے ٹیکس سال کیلنڈر سال 2018 سے ظاہر کیا جائے گااور 01 جولائی 2018 سے 30 جون 2019 تک کے بارہ مہینوں کی مدت کو کیلنڈر سال 2019 سے ظاہر کیا جائے گا۔ اسے عام ٹیکس سال کہا جاتا ہے۔

*خصوصی ٹیکس سال*

اس سے مراد بارہ مہینوں کی کوئی بھی مدت ہے اور عام ٹیکس سال سے متعلق کیلنڈر سال سے ظاہر کیا جاتا ہے جس میں خصوصی ٹیکس سال کی اختتامی تاریخ آتی ہے۔ مثال کے طور پر 01جنوری2017 سے 31 دسمبر، 2017 تک بارہ مہینے کی مدت کے لیے ٹیکس سال کیلنڈر سال 2018 میں ظاہر کیا جائے گا اور 01 اکتوبر 2017 سے 30 ستمبر، 2018 تک بارہ مہینے کی مدت کو کیلنڈر سال 2019 میں ظاہر کیا جائے گا۔

Want your practice to be the top-listed Law Practice in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Office No. 10, Ist Floor, Golden Heights Plaza, Opposite High Court Multan Cantt
Multan