Malaika Sheikh Writer
Assalamualaikum Dear Members!
Ab Kuch din kalia us page per post nhi hu gyi writer abi wapis nahi ayi thi us page ko ma ny sambhla huwa tha or ab Meri b shadi hai 🥹🥹🥹
23/03/2026
قسط نمبر 11
ازقلم ہاشمی ہاشمی
وہ دونوں اس وقت ہپستال کے ایمرجیسی روم کے باہر پریشان کھڑے تھے اس ہی وقت ڈاکٹر باہر آیا ھاٹ اٹیک ہو ہے حالت کافی خراب ہے آپ بس دعا کرے ڈاکٹر نے کہا اور چلا گیا
وارث نے نور کو دیکھا جو بے یقین سی کھڑی تھی کچھ وقت بعد نرس باہر آئ نور کون ہے نرس نے پوچھا جی میں نور نے کہا آپ اندر ائے وہ آپ سے بات کرنا چاہتا ہے لیکن خیال رہے گا ان کی طعبیت خراب ہے نرس نے کہا نور ہاں میں سر ہلاتی اندر چلی گئی
نور اندر ائی تو اس نے اپنے بابا کو دیکھا جو ایک ہی دن میں کمزور لگ رہے تھے نور کے دل میں کچھ ہوا
بابا کیسی طبعیت ہے آپ کی نور نے کہا اور ان کے سینے پر اپنا سر رکھا نور میرا بچا کہاں تھی تم عبداللہ صاحب کو بولے میں مسائلہ ہو رہا تھا
ان کی بات سن کر نور پریشان ہو اور پھر ساری بات بتائی( نکاح والی بھی )
نور بچا انتا سب ہو گیا عبداللہ صاحب نے افسوس سے کہا بابا میں ٹھیک ہو نور جانتی تھی وہ بات سن کر پریشان ہو گئے لیکن وہ جھوٹ بھی نہیں بول سکتی تھی
نور وہ بچا کہاں ہے عبداللہ صاحب نے وارث کا پوچھا بابا باہر ہی ہے نور نے پریشان ہوتے ہوے کہا اچھا تم جاو اور اس کو اندر بیجو عبداللہ صاحب نے کہا کیوں بابا نور نے پوچھا مجھے بات کرنی ہے بچے جاو عبداللہ صاحب نے کہا
نور باہر آئ مسٹر آفیسر بابا آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہے نور نے وارث سے کہا اس کی بات پر وارث نے سر ہاں میں ہلایا اور اندر ایا اسلام و علیکم انکل کیسی طبعیت ہے اب آپ کی وارث نے کہا اس کی بات پر عبداللہ صاحب نے گہرا سانس لیا نام کیا ہے تمہارا عبداللہ صاحب نے پوچھا وارث علی شاہ جواب ایا
نور باہر پریشان تھی بہت دیر ہو گئی لیکن وارث باہر نہیں آیا تو نور خود اندر ائی
بابا نور نے عبداللہ صاحب کو آواز دی نور بچے میرے پاس او عبداللہ صاحب نے کہا تو نور ان کے پاس ائی
نور ایک وعدہ کرو مجھے سے یہ نکاح جیسے بھی ہوا ہے یہ انسان شوہر ہے اب تمہارا وعدہ کرو تم اس نکاح کو نہبھو گئی عبداللہ صاحب نے کہا
بابا آپ ٹھیک ہوں جائے ہم پھر اس بارے میں بات کرے گئے نور کو عبداللہ صاحب کی بات برئی لگئی اس نے بات کو ٹالنا چاہا
نہیں نور وعدہ کرو یہ میری آخری خواہش ہے عبداللہ صاحب نے کہا
بابا کیسی باتے کر رہے ہے آپ نور تڑپ کر بولی
نور وعدہ کرو عبداللہ صاحب نے پھر کہا اور آخرکار نور کو ہار مانئی پڑئی ٹھیک ھے بابا نور نے کہا
وارث بچا ادھر او عبداللہ صاحب نے وارث کو بلایا جو کچھ دور کھڑا تھا اور ان کے پاس ایا عبداللہ
نے نور کا کا ھاتھ وارث کے ھاتھ میں دیے اور کہا میری بیٹی کا خیال رکھا اور آنکھیں بند کر لی نور کو انہوئی کا احساس ہوا بابا بابا ڈاکٹر ڈاکٹر ڈاکٹر
ڈاکٹر. اندر ایا آپ لوگوں باہر جائے ڈاکٹر نے کہا
کچھ وقت بعد ڈاکٹر باہر آیا ائی ایم سوری ڈاکٹر نے کہا اور نور کو لگ اب سانس نہیں آے گئی شاہ پریشان سا کبھی ڈاکٹر کو دیکھتا تو کبھی نور کو
اور اس ہی وقت نور بے ہوش ہو گئی
_____________________
توحید کرسی پر بے ہوش تھا جب بلال اندر ائے اور پانی اس پر ڈالا توحید نے آنکھیں کھولی خود کو ایک اندھیر کمرے میں پایا
کون ہو تم توحید نے پوچھا وہ اندھیر کی وجہ سے بلال کو دیکھا نہیں سکتا تھا
اچھا سوال ہے کون ہو میں بلال نے کہا اور توحید کے پاس ایا آزان تم توحید کو شاک لگ نہیں آزان نہیں کپیٹن بلال جواب ایا
میں نے تم پر بھروسہ کیا اور تم نے کیا کیا توحید نے اب صدمہ سے کہا
تمہیں کچھ بتانا چاھتے ہو تمہارا دس گودام کو میں نے آگ لگا دی ہے اور وہ لڑکیوں بھی اپنے اپنے گھر چلی گئی ہے بلاسٹ کے لیے تم نے جن کو کہا تھا وہ جنہم میں ہے اور سیاسی پارٹی کا سربراہ وہ ہی جنہم میں جاچوکا ہے اور اب تمہاری باری ہے بلال نے. کہا
اس کی بات پر اب توحید کو ڈدر لگ رہا تھا دیکھوں تمہیں کیا چاہے مجھے بتاو میں دو گا بس مجھے جانے دو توحید.نے کہا
اس کی بات. پر بلال مسکرایا مجھے تمہاری موت چاہے تم نے اس پاک زمیں کو گندہ کرنے کی کوشسش کی ہے اب تم جنہم میں جاو گئے
تم نے اس ھاتھ سے ورذی کو ھاتھ لگیا تھا بلال نے توحید کا ہاتھ موڈر تو اس کی چیخے نکالی ان آنکھیں سے میری ڈول پر نظر رکھی تھی بلال نے اس کی آنکھوں پر مکار مارا
ابھی اس کو وہ اور چارچر کرتا اس ہی وقت اس کا فون بجا شاہ کی کال تھی سو اس نے کال پک کی اگے جو خبر ملی سن کر بلال پریشان ہو
_______________________
دو دن گزرا گئے ان دو دنوں میں نور کی آنکھیں خشک نہیں ہوئی اور باہر بادل بھی برستے رہے دو دن سے شاہ اس کے پاس تھا آج وہ اس سے بات کرنے کا ارادہ رکھتا تھا
نور مجھے آپ سے بات کرنی ہے وارث اس کے روم میں موجود تھا جی نور بولی
نور. مجھے آپ کے بابا کا افسوس ہے لیکن اب آپ تیاری کر لے ہمیں آج گھر. جانا ہے وارث نے کہا
اس کی بات پر نور نے پریشان ہوتے وارث کو دیکھا
کیا کچھ نہیں تھا اس کی آنکھوں میں دکھ ،ردر ،غم ،تکلیف
میں آج یہاں رہنا چاہتی ہوں پلیز نور نے کہا وہ منع کرنا چاہتا تھا لیکن کچھ سوچ کر چپ کر گیا
ٹھیک ہے میں دوسرے روم میں ہو کچھ چاہے ہو گا تو بتا دینا وارث نے کہا اور چلا گیا
اللہ یہ سب کیا تھا مجھے اس شخص کو شوہر تسلم کرنا ہو گا اس کے گھر جانا ہو گا بابا یہ آپ نے مجھے کس آزمائش میں ڈال دیا ہے نور نے روتے ہوئے کہا
ساری رات وہ سوئی نہیں روتی رہی لیکن خود کو مبضوظ کیا جو بھی تھا اب اپنے بابا کا وعدہ پورا کرنا تھا
چلے وارث کی آواز پر ہوش میں ائی جی نور نے کہا اور وارث نے اس کا سامان لیا کر گاڑھی میں رکھا
نور صحن میں کھڑی ہوئی ایک نظر اس گھر کو دیکھا جو اس کے بابا ماں کا تھا
سب کچھ یاد ایا ماں کی مامتہ بابا کا پیار ایک آنسو نور کی آنکھیں سے گرا نور کا دل کر رہا تھا کہ وہ وارث سے کہ مجھے کہی نہیں جانا لیکن آہ اپنے بابا کا وعدہ
گاڑھی میں وارث نے اس سے بات کرنے کی کوشسش کی لیکن نور نے اس طرح ایکٹ کیا کہ کچھ سنا ہی نہ ہو
وارث اس کی غائب دماغی نوٹ کر رہا تھا اس لیے چپ رہو گیا
_____________________
لو بھئی نور کی رخصتی ہو گئی ہے😭😭 لیکن مجھے رخصتی والا کوئی گانا نہیں آتا😂😂 سو دوستوں بتائیں اپیی کیسے لگئی آپ کو
دعوں میں یاد رکھے گا اللہ حافظ 😇😇
قسط نمبر 12
ازقلم ہاشمی ہاشمی
💔💔 یہ اداس اداس سا پھرنا، یہ کسی سے نہ ملنا
یوں بے سبب نہیں، کچھ تو سانحہ ہوا ہے💔💔
گاڑھی ایک بنگلے کے سامنے رکی اور نور کی سوچوں کا تسلسل توڑا وارث باہر نکالا خاں بابا گاڑھی سے سامان نکالے اور میرے روم میں رکے دے وارث نے گھر کے ملازم سے کہا
جی شاہ صاحب خاں بابا نے کہا اس ہی وقت نور گاڑھی سے باہر آئ ایک نظر گھر کو دیکھا جو باہر سے بہت خوبصوت تھا چلے وارث نے نور کو کہا جو گھر کو گھورنے میں مصروف تھی
وہ دونوں لان میں ائے تو بلال ان کو ملا
بلال نے نور سے کہا welcome Home نور بلال کو دیکھا کر دل سے خوش ہوئی اور یہ خوش وہ سمجھنے سے قاصر تھی شکریہ بھائ نور نے کہا
وہ اب گھر کے اندر تھے نور یہ میرے ماما اور پاپا ہے وارث نے دعا بیگم اور احد صاحب کو دیکھا کر کہا
اسلام و علیکم نور نے ان سے اسلام لی احد صاحب نے نور کے سر پر ھاتھ رکھا اور دعا بیگم نے اس کو گلے سے لگیا اور اسلام کا جواب دیا
جبکہ حریم اور احمد چپ اپنے آنسو پیتے اپنی ڈول کو دیکھا رہے اور یہ میرے ماما پاپا اب بلال بولا نور نے ان سے بھی اسلام لیا دونوں نے نور کو گلے سے لگیا
اور نور پریشان ہو گئی یہ لمس کنتا آپنا تھا بلکل اپنے بابا ماں جیسا
اب سین یہ تھا کہ نور اور دعا بیگم اور حریم ایک صوفہ پر تھی اور ان کے سامنے وارث اور بلال بیٹھ تھے اور سائیڈ والے صوفہ پر احد صاحب اور احمد بیٹھے تھے
نور سے حریم اور دعا باتے کر رہی تھی اور نور ان کی باتوں کا جواب دے رہی تھی نور آپ کے بابا کا سن کر افسوس ہوا احد صاحب نے کہا ان کی بات پر نور کے چہرہ پر ایک رنگ گزرا تھا اس رنگ کو سب نے محصوص کیا
جی بس اللہ کا حکم نور کی آواز میں درد تھا نور آپ کو یہ چوٹ کیسے لگئی حریم نے فکر سے پوچھا اس کی بات پر وارث نے نور اور نور نے وارث کی طرف دیکھا دونوں کی نظریں ملی
چھوٹی ماں یہ گر گئی تھی وارث نے جلدی سے کہا اور نور چپ ہی رہی اب نور کی برداشت جواب دے رہی تھی ایک تو وہ ساری رات روتی رہی اور دوسرا. سر میں درد ہو رہا تھا اپر سے ان کی باتے ختم نہیں ہو رہی تھی اور وہ کچھ عجیب محسوس کر رہی تھی اس گھر میں کچھ ایسا جو اس کی سمجھ میں نہیں ارہا تھا اب گھنٹا ہو رہی تھی اس ماحول سے ، اور اس کی یہ بات وارث اور بلال نوٹ کر رہے تھے
آنٹی مجھے نماز پڑھنی ہے نور نے بہانہ بنیا نور نے حریم سے کہا پہلی بارا اس نے حریم کو مخاطب کیا تھا
اور حریم اس کے منہ سے آنٹی لفظ سن کر اس کے دل میں کچھ ہو حریم کا بس نہیں چل رہا تھا وہ نور سے کہتی میں تمہاری ماما ہو لیکن اپنے پر قابو پایا
چلو حریم نے کہا اور نور کو لیے کر چلی گئی
شاہ کیا سوچ رہا ہے بلال نے پوچھا کچھ نہیں یار وارث نے کہا ایک بات میں نے نوٹ کی ہے بلال نے مصنوئ سنجیدگئ سے کہا کیا وارث نے پوچھا
تم میری بہن کو گھور گھور کر دیکھ رہے تھے بلال نے مصنوئ غصہ سے کہا اس کی بات پر وارث نے بلال کو گھورا
کمینا انسان میری بیوی ہے وہ شاہ نے کہا اور بلال نے قہقہا لگایا اور شاہ بھی مسکرایا
________________
حریم نور کو وارث کے روم میں لائی یہ آپ کا روم ہے آپ نماز پڑھ لو بیٹا حریم نے کہا
اور نور پریشان سی وضو کرنے چلی تھی جب حریم نے رکا نور میں جانتی ہو یہ سب آپ کے لیے مشکل ہے لیکن کوشش کرو بس اسان ہو جائے گا وارث آپ کو خوش رکھے تھا حریم نے کہا اور نور کے سر پر بوسہ دیے اور چلی گئی آخر ماں تھی وہ اپنی بچی کی پریشانی محصوص کر سکتی تھی
اور نور پریشان سی اس کی بات پر غور کرنے لگئی آنٹی کو کیسے پتا میں پریشان ہو نور نے سوچا
یہ لوگ کچھ عجیب ہے کچھ اپنے اپنے سے لگتا میں کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہو اللہ مجھے صبر دے اور اس گھر میں رہنے کا حوصلہ بھی نور نے خود سے کہا اور نماز ادا کی
ابھی وہ فارغ ہوئی تھی پھر ایک نظر اس روم کو دیکھا کو کے حوبصورت تھا ہر چیز قمیتی تھی ایک چیز اس روم کی نور کو پسند ائی وہ تھی بلکنی جس سے آسمان نظر آتا تھا اور گھر کا لان بھی
اس ہی وقت روم کا درواذ کھولا اور ایک وجود اندر ایا اسلام و علیکم بھابھی میں حنسں آپ کا دیور اس کے اندز پر نور مسکرائ وہ سکول کے یونیفارم میں تھا اور حنسں کو اسلام کا جواب دیا
بھابھی آپ جانتی نہیں ہے میں کب سے آپ کا صبری سے انتظارا کر رہا تھا حنسں نے کہا
کب سے نور نے پوچھا بچپن سے حنسں نے کہا کیا مطلب نور نے پوچھا
شاہ بھائ وہ بلال بھائ آپس میں دوست ہے اور میرا گھر میں کوئی دوست نہیں ہے آپ میری دوست بنیے گئی حنسں نے پوچھا. اور اس کی مصعومت پر نور کو پیار ایا ہاں نور نے کہا اور اس کے سر پر ھاتھ رکھا اور حنسں نے یاہو کا نعرہ لگیا اور نور مسکرائ
اس ہی وقت شاہ اندر ایا نور کو مسکراتے دیکھ کر کچھ سکون ہوا حنسں بچے آپ کچھ کہا تھا وارث نے کہا
اووو بھائ میں بھول گیا حنسں نے سر پر ھاتھ مار بھابھی نیچے سب کھانے پر آپ کا انتظارا کر رہے ہے آپ جاو میں کپڑے بدل کر آتا ہو حنسں نے کہا اور چلا گیا
اس کی بات سن کر نور پریشان ہو گئی یعنی پھر سب کا سامنا کرنا ہو گا اس ہی وقت وارث وشروم سے باہر آیا
کیا نیچے جانا ضروری ہے نور نے وارث سے پوچھا ہاں کیوں کوئی مسلہ ہے وارث نے پوچھا جی یہاں کچھ عجیب ہے نور نے کہا اور وارث اس کی بات پر مسکرایا اور کوئی جواب نہیں دیا چلے وارث نے کہا نور نےگہرا سانس لیا اور نیچے آئ
____________________
۔ٹیبل پر سب نور کا انتظارا کر رہے تھے نور بیٹھی اور سب نے کھانا شروع کیا نور پریشان ہوئی اور اب سر چکرا سب اس کی پسند کا کھانا تھا
حریم نے وہ سب بنایا تھا جب وہ ماں بننے والی تھی اور یہ کھانے سب سے زیادہ کھاتی تھی
نور شروع کرو حریم نے کہا نور نے بریانی لی ابھی ایک چمچہ ہی لیا تھا اور نفی میں سر ہلایا اور اوپر کی طرف بھاگی
اس کے ری ایکشن پر سب پریشان ہوئی وہ سیرھوں سے گرتا ہوے دو بارا بچی تھی اور بلال اور احمد وارث بھاگ تھا
آپ لوگ باہر رہے میں دیکھتا ہو وارث نے کہا اور روم میں گیا
____________________
اسلام دوستوں 😍😍
رمضان کی آمد آمد ہے سو گھر کی صافیوں میں
میں مصروف ہو کچھ وقت نکال کر میں. نے یہ اپیی لکھی ہے سو اچھے اچھے کمنٹ کرے ❤❤
اور دعاوں میں یاد رکھے گا اللہ حافظ 😇😇
Click here to claim your Sponsored Listing.