F.Fitness
23/05/2026
Fit raho ! Khush raho ! 😎
12/04/2026
چہرہ چُھپی پوسٹ
آج ایک بچے کو وہیل چیئر پر نماز پڑھنے آتے دیکھا۔
تھوڑا حیرانی ہوئی۔ پھر پتا لگا کہ وہ ہر نماز باجماعت پڑھنے آتا ہے! جیسے ہی نماز کا وقت ہوتا ہے تو وہ فوراً وقت پر نماز پڑھنے پہنچ جاتا ہے۔
ساتھ ہی اس چیز نے میرے دل و دماغ میں ایک سوچ ڈال دی کہ
"ہمارے پاس کیا عذر ہے نماز نہ پڑھنے کا؟"
ہمت بھی ہوتی ہے، طاقت ہے، صحت بھی ہے لیکن ہم کبھی سستی کا شکار ہو جاتے ہیں، کبھی کوئی بہانہ اور کبھی کچھ۔
20 سال نماز کو عادتاً ادا کر کے ٹکریں مارنے کے بعد اندازہ ہوا کہ نماز تو پڑھی ہی نہیں، صرف ٹکریں مارتے رہے۔
میرا لکھنے کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ شاید کوئی لفظ، کوئی سوچ کسی کے ذہن میں کوئی بات ڈال دے اور اس کو اس راہ پر تھوڑا سا لے آئے تو شاید لکھنے کا مقصد پورا ہو جائے۔
علم سیکھا لیکن کبھی پھیلایا نہیں تھا۔ اب سیکھا ہے تو پھیلانا واجب بھی ہے!
اللہ ہمیں بھی اس بچے جیسی استقامت اور ہمت دے۔
آمین
04/04/2026
جس دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تو اسی شام وہ چار پانچ لوگ اسلام قبول کروانے لے آئے اور عرض کیا:
یا رسول اللہ ﷺ! یہ میری آج کی کمائی ہے۔
ابھی انہوں نے اسلام کو نہ مکمل سیکھا تھا اور نہ ہی پوری طرح سمجھا تھا، لیکن کوشش شروع کر دی تھی۔
میں بھی صرف ایک چھوٹی سی کوشش ہی کر رہا ہوں۔
بہت سخت اور بہت مشکل دور شروع ہو چکا ہے۔
جہاں نیکی پر قائم رہنا بہت مشکل اور برائی پر چلنا بہت آسان ہوتا جا رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آسانی ہماری دین کے راستے پر ہی ہے اور اسی پر چلنے میں عافیت ہے۔
لیکن لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ ہم بہت سی بنیادی چیزوں سے، جو ہماری آخرت کی بنیاد ہیں، بہت دور ہوتے جا رہے ہیں۔
بات یہ نہیں ہے کہ میں کوئی مولوی ہوں یا بہت ہی نیک آدمی ہوں، لیکن کئی سالوں کے بعد جب کچھ حقیقتیں معلوم ہوئیں تو خود کو گمراہی کے راستے میں پایا۔
پھر جب سیکھنا شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ غلطیاں بھی بہت کی ہیں۔
پھر سمجھ آیا کہ کن کن چیزوں کو مذاق سمجھا تھا اور ان کے اثرات کیا ہیں۔
جیسے:
بے بنیاد اندازے لگانا،
اگلے کی نیت پر سو فیصد یقین کے ساتھ تجزیہ کرنا،
طعنے دینا،
فضول وقت برباد کرنا،
گھنٹوں سوشل میڈیا پر گزار دینا،
چیزوں میں توازن نہ رکھنا،
معاملات کو بے یقینی پر چلانا،
شرک جیسے گناہ نظر آنا،
غصہ،
تلخ کلامی،
اور معاملات کو جذباتی پن میں الٹ پلٹ کر دینا۔
جب ان باتوں کا احساس ہوا اور انہیں درست کرنے لگے تو یہ ایسے معاملات تھے جیسے کسی نے کیلوں والا ہتھوڑا کمر میں گھسا دیا ہو، اور اب جب وہ نکالا جا رہا ہو تو ایک بار تو چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔
پھر کئی ایسے معاملات بھی نظر آئے کہ یہاں تک اندازہ لگانے لگے کہ کون نیک ہے اور کون نیک نہیں، کون جھوٹی قسم کھا رہا ہے۔
یعنی معاملات بھی اندازوں میں آنے لگے اور ہم خود کو بادشاہ بنا کر کھڑے ہو گئے کہ لو جی، ہم تو دلوں کی نیتیں بھی بھانپ لیتے ہیں۔
حالانکہ ہم صرف اللہ سے مدد مانگ کر ایک اندازہ لگا کر چل سکتے ہیں اور اس میں بھی اخلاق خراب کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
تو میرے پیارے لوگو، آپ بھی کوشش کریں کہ آج سے ہی ہجرت کر لیں۔
اپنے آپ کو دیکھیں کہ آپ کن سوچوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
کہیں آپ گمراہی میں تو نہیں جا رہے؟
کہیں آپ اخلاق کے دائرے سے ہٹ تو نہیں رہے؟
کہیں آپ راستہ بھٹک تو نہیں گئے؟
کیونکہ جب قدرت جھنجھوڑتی ہے تو ایک بار طبیعت ضرور صاف ہو جاتی ہے۔
بدگمانی سے اور بے یقینی سے نکلیں۔
اللہ بہت غفور ہے،
بہت رحیم ہے۔
سب اچھا ہوگا۔
بس اللہ کا دامن، نماز اور صبر نہ چھوڑیں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Multan
0000