Maimoonalism
28/03/2026
جدھر دیکھا خسارہ تھا
محبت بھی خسارہ تھا
یہ نفرت بھی خسارہ تھا
تیرا انا خسارہ تھا
تیرا جانا خسارہ ہے
یہ سانسیں بھی خسارہ ہیں
یہ آنکھیں خواب آنسو بھی
یہ رشتے نام چاہت بھی
خسارے پہ خسارہ ہے
تمھارے ساتھ کی خواہش
تمھارے ہاتھ کی حدت
تمھارے نام کی حجت
خسارہ ہے خسارہ ہے
خسارے سے نکلنا تھا
تمہیں اپنا بنایا تھا
تمہیں سب کچھ بتایا تھا
بتایا تھا اکیلے ہیں
بہت مایوس رہتے ہیں
مگر تم نے سنبھالا کب
اتارا بوجھ گردن سے
خسارہ کر دیا میرا
ادھورا کردیا سارا
میمونہ شیرازی