Daily Quran and Hadees

Daily Quran and Hadees

Share

16/05/2026

آیت کسے کہتے ہیں اور اسکی کیا اہمیت ہے۔۔۔۔؟؟

سورۃ البقرة
آیت نمبر 39

تفسیر:
آیات کا لفظ آیت کی جمع ہے۔ آیت کے اصل معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔
قرآن مجید میں یہ لفظ ان دلائل اور نشانیوں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جو آسمان وزمین اور آفاق ونفس کے ہر گوشے میں موجود ہیں اور جو خدا کی قدرت وحکمت اس کی توحید اور اس کے قانون جزاوسزا کی گواہی دے رہی ہیں۔
ان معجزات کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جو حضرات انبیا ؑ کے ذریعے سے ظاہر ہوئے ہیں یا جن کے لئے کفار مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
قرآن مجید کی ان آیتوں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جن سے قرآن کی سورتیں مرکب ہیں۔ قرآن مجید کی آیات کے لئے اس لفظ کا استعمال اس حقیقت پر دلیل ہے کہ ان کی حیثیت بے دلیل احکامات کی نہیں ہے بلکہ ان میں سے ہر آیت ایک دلیل وشہادت اور ایک حجت وبرہان کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔

تدبر قرآن
مفسر: مولانا امین احسن اصلاحی

Daily Quran and Hadees
#قرآنیات #قرآن

11/05/2026

ابلیس سجدے سے انکار میں اکیلا نہ تھا۔۔۔

سورۃ البقرة
آیت نمبر 34

تفسیر:
اِن الفاظ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ غالباً ابلیس سجدے سے انکار کرنے میں اکیلا نہ تھا، بلکہ جِنّوں کی ایک جماعت نافرمانی پر آمادہ ہوگئی تھی اور ابلیس کا نام صرف اس لیے لیا گیا کہ وہ ان کا سردار اور اس بغاوت میں پیش پیش تھا۔ لیکن اس آیت کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”وہ کافروں میں سے تھا“۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جِنّوں کی ایک جماعت پہلے سے ایسی موجود تھی جو سرکش و نافرمان تھی، اور ابلیس کا تعلق اسی جماعت سے تھا۔ قرآن میں بالعموم ”شیاطین“ کا لفظ انہی جِنّوں اور ان کی ذرّیّت (نسل) کے لیے استعمال ہوا ہے، اور جہاں شیاطین سے مراد انسان مراد لینے کے لیے کوئی قرینہ نہ ہو، وہاں یہی شیاطینِ جن مراد ہوتے ہیں۔

تفہیم القرآن
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی
#قرآنیات #قرآن

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Multan