The Knowledge World
27/10/2022
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا جواب ایک ٹوئٹر سپیس میں جواب دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ایوان صدر میں ہوئی تھی جس میں صدر مملکت عارف علوی بھی بیچ میں تھے۔ انھوں نے کہا کہ 'میں نے یہ بات بتائی تھی کہ ایکسٹینشن کا سن رہے ہیں، اگر یہ آپ کو توسیع دے رہے ہیں تو پھر ہم دے دیتے ہیں'۔
انھوں نے کہا کہ ملک کے لیے یہ بات چیت کی تھی، میں نے بند کمروں کی ملاقاتوں سے کیا لینا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پانچ ماہ پہلے کہا تھا کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا۔ یہ سازش روک سکتے تھے لیکن نہیں روکی۔ انھوں نے کہا کہ ’میں کہیں ڈگی میں نہیں گیا تھا، ایوان صدر میں ملاقات ہوئی تھی‘۔
عمران خان نے کہا اسٹیبلشمنٹ کو امپائر کے طور پر بیچ میں ڈالا تھا۔ عمران خان نے ایک بار پھر کہا کہ اللہ نے انسان کو نیوٹرل ہونے کی اجازت ہی نہیں دی ہے۔ یہ قرآن میں لکھا ہوا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہمارے لوگوں کو ’اپروچ‘ کیا جا رہا ہے اور ہمارے ایک بندے کو ’چینج‘ کیا ہے۔
خیال رہے کہ ڈی جی انٹرسروسز انٹیلی جنس لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے عمران خان کا نام لیے بغیرانکشاف کیا کہ ’آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ان کی مدت ملازمت میں غیر معینہ مدت کی توسیع کی ’پرکشش پیشکش‘ دی گئی،مگر جنرل باجوہ نے یہ پیش کش ٹھکرادی، عجیب بات ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ سپہ سالار غدار ہے اور ان سے پس پردہ ملتے بھی ہیں.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the business
Website
Address
Mingora
19200