Ziaullah Zia
10/06/2024
تحریر:ضیاءاللہ ضیا
ہر وہ چیز جس پر ہماری سوچ مرکوز رہتی ہم اسے نہیں بھلا پاتے ہم اپنی یادوں کو اس صورت میں بھلا سکتے ہیں اگر ہم اپنی قوت ارادی کو اپنی سوچ بالا تر کر لیں مگر یہ روحانیت کا بہت بڑا تجربہ ہے اگر ہماری قوت ارادی مضبوط اور ہر چیز سے بالا تر رہے تو ہم ہر کام کو شروع کرنے سے پہلے نتائج کو دیکھ سکتے ہیں
خوشی کیا ہے؟
ضیاء اللہ ضیاء:خوشی بس ایک جذبہ ہے یہ ہمارے سوچنے انداز سے وابسطہ ہے ہم خیرو شر کی دونوں صورتوں میں خوشی پا سکتے ہیں اگر وہ ہماری سوچ سے مطابقت رکھتی ہیں
اور آپ، پیارے قارئین، آپ کے خیال میں خوشی کیا ہے؟غم کیا ہے؟
ضیاء اللہ ضیاء:غم ہمارے خواب اور زندگی کے منصوبوں کے پورا نہ ہونے کی صورت میں ھمارے جسم میں رونما ہونے والی وہ تبدیلی ہےجو درد کے احساس کو جنم دے اور سوچنے کی صلاحیت پہ اثر انداز ہو اس احساس سے یہاں تک کہ دماغی توازن بھی کھو سکتا ہے یہ کیفیت اس وقت تک رہتی ہے جب تک نئے خواب اور منصوبے زندگی میں شامل نہ ہوں اس کے بعد اس کی شدت کم ہو جاتی ہے آپ لوگ بھی اس بارے میں خیال پیش کریں ۔
تحریر: ضیاء اللہ ضیاء
سوچ کی طاقت
کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ ہم اپنی سوچ سے اپنے مسائل کو حل کر سکتے ہیں ہاں ھم سوچ کو اپنے دائرہ اختیار میں لا کر اپنی بیماریوں کے علاج کےلیے استعمال کر سکتے ہیں ہماری سوچ ہماری طبیعت اور قوت مدافعت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے فرض کریں کہ آپ یہ سوچنا شروع کریں کہ آپ کا سر درد کر رہا ہے تو کچھ دیر میں آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کےسر میں درد ہے اور یہ حقیقت میں ہونے لگتا ہے اس طرح اگر ایک بیمار شخص جو اکیلا ہو وہ بیماری کی شدت کو زیادہ محسوس کرتاہے اس کے برعکس ایک ایسا بیمار شخص جس کے پاس تیمار دار ہو وہ خود کو کم کمزور اور بیمار محسوس کرتاہے اس کی سب سے بڑی وجہ سوچ کا مرکز تبدیل ہونا ہے جبکہ اکیلے شخص کی سوچ ہر وقت اپنی بیماری کی طرف مرکوز رہتی ہے اور وہ خود کو زیادہ کمزور محسوس کرنے لگتا ہے جس سے قوت مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے اور بیماری زیادہ اثر انداز ہونے لگتی ہے اگر ہم اپنی سوچ کا رجحان بیماری کی طرف کم کر لیں تو ہم جلد از جلد مکمل صحت مند ہو سکتے ہیں سوچ کی طاقت سے مطلق تجربات ہوچکے جس سے یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ سوچ ہماری طبیعت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے ایک شخص جس کو عدالت سے موت سزا سنائی گئی تھی اس کو سزا سے ایک دن پہلے بتایا گیا کہ کل فلاں وقت پہ آپ کو حشیش زہر کا ٹیکا لگایا جائےگا کہ تجھے سزا موت سنائی گئی ہے اور اس کے بعد اس کو الگ کمرے میں بند کر دیا گیا دوسرے دن اسے مقرر کردہ وقت پر پانی سے بھرا ایک ٹیکا لگایا گیا جس کے چند منٹ بعد اس کی موت واقع ہو گئی جب اس کا خون ٹیسٹ کےلیے دیا گیا تو اس کے خون میں حشیش زہر کی تشخیص ہوئی اس کی وجہ اس کا پورا دن یہ سوچنا تھا کہ میں اس زہر سے مروں گا ھم اپنی زندگی میں اپنی سوچ سے مثبت اور منفی اثرات پیدا کر سکتے ہیں
Click here to claim your Sponsored Listing.