OneDot

OneDot

Share

04/06/2025

پانی کا عظیم ذخیرہ جو زمین کی 700 کلومیٹر گہرائی میں crystal کی شکل ایک بڑی چٹان میں قید ہے:

ایک حیران کن سائنسی تحقیق میں یہ راز سامنے آیا ہے کہ پانی جسے ہم صدیوں سے زندگی کا منبع سمجھتے ہیں، درحقیقت زمین کے اندر سینکڑوں کلومیٹر نیچے ایک خاص قسم کی چٹان Ringwoodite کے اندر کریسٹل کی شکل میں قید ہوتا ہے۔

یہ پانی مائع کی صورت میں نہیں، بلکہ چٹان کی ساخت میں جذب ہو کر ایک خفیہ ذخیرے کی مانند چھپا ہوتا ہے۔

یہ دریافت زلزلوں کے جھٹکوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے کی، جب انہوں نے محسوس کیا کہ زمین کے اندر پھیلنے والی لہریں کچھ مخصوص مقامات سے گزر کر رفتار بدلتی ہیں۔

اس فرق نے انکشاف کیا کہ وہاں کوئی ایسا عنصر موجود ہے جو نمی رکھتا ہے،اور وہ عنصر تھا چھپا ہوا پانی۔

ہم یہ سمجھتے آئے ہیں کہ زمین پر پانی شاید کسی دور افتادہ دمدار ستارے (comet) کے ذریعے آیا، جو برف کی شکل میں زمین سے ٹکرایا اور سمندر بنے۔

لیکن اب سائنس کہتی ہے کہ پانی زمین کے اندر ہی پیدا ہوتا ہے جیسے ایک بیج سے درخت اگتا ہے، ویسے ہی زمین کی تہوں سے پانی پھوٹتا ہے۔

یہ پانی لاکھوں سالوں تک زمین کی گہرائیوں میں چھپا رہتا ہے۔ جب کوئی آتش فشاں پھٹتا ہے، یا پلیٹیں ٹکراتی ہیں، تو یہ بخارات کی صورت اوپر آتا ہے، بادل بنتے ہیں، بارش برستی ہے، ندیاں بہتی ہیں، اور پانی زمین پر پھیلتا ہے۔یہ ایک دائرہ ہے، شاید یہی "جنم" ہے۔

کریسٹل (بلوراتی یعنی بنٹے کی شکل) ساخت میں موجود پانی مخصوص حالات میں واپس مائع شکل میں آ سکتا ہے اور یہی بات زیرِ زمین پانی کے ذخائر کے حوالے سے سائنسی طور پر اہم سمجھی جاتی ہے۔

رِنگ وُڈائٹ (Ringwoodite) ایک معدنی چٹان ہے جو زمین کی گہرائی میں 700 کلومیٹر نیچے کے علاقے میں پائی جاتی ہے۔ یہ ایک خاص قسم کا اولیوین (olivine) ہے، جس میں پانی آئنوں کی صورت میں اس کے کرسٹل اسٹرکچر کے اندر بند ہوتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے چمکتے پتھر کی شکل کا پانی کا یہ ذخیرہ زمین پہ موجود سمندروں کے پانی سے زیادہ ہے۔

یہ پانی مائع نہیں ہوتا، بلکہ OH⁻ (ہائیڈروکسیل) یا H₂O مالیکیول کی شکل میں چٹان کے اندرونی ڈھانچے میں جذب ہوتا ہے۔

یہ پانی جو بظاہر پتھر میں قید ہوتا ہے درجہ حرارت بڑھے (مثلاً آتش فشانی عمل کے دوران) کرسٹل کی ساخت سے نکل کر مائع یا بخارات میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

اسی لیے سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ زمین کے اندر موجود یہ "پوشیدہ پانی" آتش فشاں اور پلیٹ ٹیکٹونکس کے عمل میں باہر نکلتا رہتا ہے اور ممکن ہے زمین کے سمندروں کا کچھ پانی بھی اسی ذریعہ سے آیا ہو۔

اس دریافت نے زمین پر پانی کی موجودگی کے روایتی نظریات کو چیلنج کیا ہے یعنی یہ ممکن ہے کہ زمین پر پانی خلا سے شہاب ثاقب یا دمدار ستاروں کے ذریعے نہ آیا ہو بلکہ زمین کے گہرائیوں میں ہی تشکیل پایا ہو۔

یہ دریافت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ زمین کے نیچے ابھی بہت سے راز پوشیدہ ہیں اور ہم اب بھی اپنے ہی سیارے کو مکمل طور پر نہیں سمجھ پائے۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Lahore
54000