Naila Rathore- Poetess
12/12/2025
تمہارے خواب سے رستہ جدا ہے
دیا تھا زخم جو اب تک ہرا ہے
بھلی لگنے لگی ہے تیری فرقت
کہ تیرے ہجر کا اپنا مزا ہے
زمانہ پوچھتا ہے کون ہو تم
بتاؤ کیا کہیں اب کیا چھپا ہے
زباں بندی میں بھی ہے حشر برپا
وہ چپ رہ کر بھی سب کچھ کہہ گیا ہے
کسی کے واسطے گر کچھ نہیں میں
تو کیوں گھر گھر میں میرا تزکرہ ہے
ترے لہجے میں کیوں ہے زہر اتنا
نجانے کون نفرت بو گیا ہے
اسیران وفا ڈرتے نہیں ہیں
کہ جاں سے پیارا یہ عہد وفا ہے
جلاتا کون ہے یوں گھر کو اپنے
مرا دشمن بھی مجھ پر ہنس رہا ہے
یہ تخت و تاج ہیں اسکی امانت
مرا حاکم فقط میرا خدا ہے
جو پس منظر میں بھی رہ کر عیاں ہوں
مرے ایقان کا ہی یہ صلہ ہے
نائلہ راٹھور
Click here to claim your Sponsored Listing.