Sharp Eye

Sharp Eye

Share

Sharp Eye was founded by renowned journalist, columnist, poet and Chief Editor Dr. Mian Muhammad Azhar Amin Godizt in 1999 with the aim to provide true news to all types of media in different languages.

Photos from Sharp Eye 's post 17/05/2026

17 May 2026
ACCOUNTABILITY OF JUDICIARY – Episode 1- Dr. Godizt
عدلیہ کا احتساب ۔ قسط نمبر1 ڈاکٹر گاڈاِزٹ
آج کے بڑے نامزد مجرم سابق سیشن جج لاہور نسیم احم ورک، سول جج رانا محمد جعفر اور سول جج حق نواز
قارئین و محافظِ قانون! میرے صحافتی اداروں سے تو 36 سال سے تمام اداروں کا احتساب خبروں اور میرے کالمز کی شکل میں ہو ہی رہا ہے۔ لیکن اب میں باقاعدہ ایک سلسلہ "عدلیہ کا احتساب" کے عنوان سے شروع کررہا ہوں جس میں عدالتوں میں چلنے والے مقدمات میں ججوں، کرائے کے غنڈوں (المعروف وکلاء) ، پولیس ایجنسیوں سمیت دیگر اداروں کی چالاکیاں مکاریاں اختیارات کا غلط استعمال جھوٹ فراڈ جعلسازیاں زیر بحث آئے گا۔ جس مقدمہ میں بھی مجھے ظلم بے انصافی کی انتہاء اس طرز کی نظر آئے گی کہ جج نے دو جمع دو کو پانچ کردیا تو ایسے مجرم جج کو نامزد بھی کروں گا۔ میرے کالمز اور خبریں پہلے ہی دنیا کے ہر اہم فورم بشمول تمام دنیا کے میڈیا اور تمام پاکستانی اداروں کو بھی پہنچتا ہے لہزا متعلقہ ادارے از خود اب میرے اس نئے سلسلے " عدلیہ کا احتساب" کی ہر قسط کو بطور کمپلینٹ اندراج کریں وگرنہ ان اداروں بشمول صوبائی و وفاقی وزارتِ قانون (سیکرٹریز وغیرہ)، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن ، نیب ، ایوان صدر، ایوان وزیراعظم، قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کے متعلقہ قانونی فورمز، ہائی کورٹ و سپریم کورٹ اور جوڈیشل کمیشن وغیرہ کے متعلقہ ذمہ داران بھی شامل اور معاون مجرم کے طور پر نامزد ہوں گے۔ آج میں ایک ایسے مقدمے کی کمپلینٹ دوں گا جو ایک ہفتہ یا زیادہ سے زیادہ ایک ماہ چلنا چاہیے تھا۔ اگر ایسا مقدمہ بھی سالہا سال چلے تو یہ ناقابل تردید ثبوت ہے کہ عدلیہ نام کا ادارہ دراصل بلڈی سویلینز کو ایجنسیوں اور سرکاری اداروں کے لیے یرغمال بنائے رکھ کر بلیک میل کرنے کا ایک گندا دھندا ہے۔ سول کورٹ میں چلنے والے اس مقدمہ پر آنے سے پہلے میں اپنے کالم " آخری وارننگ" کی پہلی قسط کا ایک پیرا یہاں شامل کررہا ہوں۔ " ۔ قارئین! ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شہباز احمد کھگا کے سامنے یہ مقدمہ گیا تھا کہ مسٹر اے 2010 میں فوت ہو گیا اور اس کی پراپرٹی لوکل کمیشن، رجسٹری محرر، پٹواری اور پرائیویٹ افراد بشمول پراپرٹی ڈیلر نے جعلی رجسٹری مرحوم کو 2022 میں زندہ ظاہر کرکے رجسٹر کرالی ہے۔ اینٹی کرپشن لاہور کے انکوائری آفیسر ڈی ڈی لاہور نے تیس لاکھ روپیہ لے کر فائیل داخل دفتر کردی اور ڈائریکٹر لاہور اور ڈی جی سہیل ظفر چٹھہ نے بھی داخل دفتر کردی جس کے بعد مدعی نے سیشن کورٹ 22 اے بی کا مقدمہ کیا جواے ایس جے شہباز احمد کھگا کے پاس لگا انہیں بتایا گیا کہ 2010 میں مرنے والا مسٹر اے 2022 میں قبر سے نکلا اور پٹواری کے پاس دستخط و نشان انگوٹھا لگا کر فرد بیع لی پھر لوکل کمیشن نے مُردے سے رجسٹری محرر کی موجودگی میں دستخط اور نشان انگوٹھے لے کر واپس قبر میں بھیج دیا ۔ اس مقدمہ پر جج صاحب نے ایف آئی آر درج کرنے کا کلیئر حکم دیا جس کے بعد اینٹی کرپشن افسران نے مدعی کے ساتھ اتنا ظلم کیا حتی کہ پولیس کو دباو ڈالا کہ اسے کسی مقدمے میں جیل بھیجو اور ان حالات میں مدعی کا سارے سوشل میڈیا پر بیان آیا کہ میں خود کُشی کرلوں گا تو شراب کا گلاس پیتے ہوئے سہیل ظفر چٹھہ نے زور دار قہقہ لگایا کہ جا مر تیرے جیسے بلڈی سیولینز روز مرتے ہیں ہم ہی خدا ہیں ایسٹیبلشمنٹ ہی خدا ہوتی ہے۔ اگر وہ خدا ہوتا جو سن اور دیکھ اور سب کرسکتا ہے تو کیا وہ ہم پرعزاب نہ لاتا وہ تو نبیوں پر وقت کی ایسٹیبلشمنٹس کے مظالم حتی کہ قتل کرنے پر بھی کبھی نظر نہ آیا اور نہ ہی آل محمد کے ذبح ہونے پر نظر آیا لہزا ایسٹیبلشمنٹ ہی خدا ہوتی ہے۔۔۔ قارئین! اس کے بعد مدعی نے توہینِ عدالت کا مقدمہ دائر کیا تواس میں جناب اے ایس جے شہباز احمد کھگا نے انتہائی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈی جی اینٹی کرپشن کو حکم دیا کہ وہ ڈائریکٹر اور ڈی ڈٰی لاہور پر پرچہ درج کرے (اس پر میں ڈاکٹر گاڈاِزٹ کھگا صاحب کی جرات ایمانداری پر سلام پیش کرتا ہوں) اس حکم کو بھی لپیٹ کر سہیل ظفر چٹھہ نے مدعی کے لیے اس سے ملاقات کرنے والوں کو کہا کہ حکم کی یہ بتی بنا دی ہے جاکر جج کی ڈیش میں دے دو۔۔۔ قارئین! اس کے بعد مدعی اور اس کی مدد کرنے والے تھک ہار کر خاموش ہو گئے۔ اب دو سال بعد اتفاق سے میری ملاقات موجودہ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور احسن بھٹی سے ہوئی جہاں میں اپنے ایک مقدمہ میں گیا ہوا تھا اور مجھے اس مرحوم والے مقدمہ کے یتیم مدعی کی ایک بیوہ خالہ (محلےدار) نے بتایا کہ ان کے یتیم بھانجے والے کیس کی فائیل نکلوا کر ملزمان سے نئے ڈائریکٹر کے لیے دس لاکھ روپیہ مانگا جارہا ہے۔ قارئین! جب میں اپنی ایک درخواست کے لیے احسن کے پاس گیا تو میں نے ان سے کہا کہ فلاں فائیل آپ کی ٹیبل پر دو ماہ سے واپس طلب ہو کر کیوں پڑی ہے وہ تو داخل دفتر تھی تو انہوں نے کہا مجھے علم نہیں میں عملہ سے پوچھتا ہوں تو عملہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا تو میں نے کہا کہ عملہ سے مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ اب اس کیس میں آپ کی دیہاڑی لگنی ہے ورنہ مجھے بتائیں کہ 2010 میں مرنے والے نے 2022 میں رجسٹری کیسے کرائی تو وہ یہ بات سُن کر اُچھل پڑے اور فائیل منگوا کر پڑھی اور عملہ پر برس پڑے اور پھر اپنے ڈٰی جی کی دُشمنی مول لے کراب کچھ عرصہ قبل پرچہ درج کرلیا ہے۔ میں احسن چٹھہ کی جرات کو بھی سلام کرتا ہوں چاہے وہ میرے اس کیس سے بھی زیادہ مضبوط ترین درخواستوں پر کور کمانڈر لاہور اور ڈٰی جیز اینڈ سیکٹر ہیڈز آئی ایس آئی و ایم آئی کی ڈائریکٹ دھمکیوں کے باعث پرچے درج نہیں کر پا رہے اور دیگر متعدد محکموں کے افسران اور ججوں کی طرح انصاف نہیں دے پارہے۔۔۔ " قارئین و محافظِ قانون! درج بالا تفصیلات سے افسر شاہی ، فوج ایجنسیوں کی درندگیوں اور سنگین جرائم اور عوام کے اداروں کو اپنے باپ کی ذاتی جاگیر کی طرح استعمال کرنے کے ناقابلِ تردید ثبوت پڑھ لیے ہیں۔ اس میں آپ نے ایک ایڈیشنل سیشن جج کی انصاف دلانے کی کوشش کوافسرشاہی کےتہس نہس کرنے کے ثبوت بھی دیکھے۔اب میں اس جرم کےایک اہم ترین حصہ کی طرف آتا ہوں جس سے عدلیہ کا کردار مزید کُھل کر سامنے آئے گا اور ثابت ہو گا کہ وکیل نامی حرامی جانتے بوجھتےکریمنلز کو بچانے کے لیے کیسے اپنی بارز نامی گینگز اور غنڈا گردیوں کا استعمال کرکے سالہا سال تک مظلوم سچے سائیلین کو تباہ و برباد کرتا ہے یعنی ایسا کیس جو کسی وکیل کو لینا ہی نہیں چاہیے ایسے کیسوں میں بھی یہ سالا بھڑوا اپنی پوری قوت حق دار سے بے انصافی کرانے میں لگاتا ہے۔ کیس یہ ہے کہ اسی 2010 میں وفات پا جانے والے کی بیوہ اور یتیموں وغیرہ نے لاہور سول کورٹ میں سول سوٹ برائے کینسلیشن جعلی رجسٹری دائر کی جو چار سال سے پہلی اسٹیج پر ہی چل رہ ہے اور اس کیس میں موجودہ نئے جج سے قبل تک رہنے والے دو سول ججز کو عبرت کا نشان بنا دینا چاہیے۔ مقدمہ یہ ہے کہ مدعیہ نے لکھا کہ جج صاحب میرا خاوند 2010 میں وفات پا گیا اور مجرموں نے میرے خاوند کو 2022 میں زندہ ظاہر کرکے کوئی فرضی جعلی خاوند کھڑا کر کے میرے ڈیڑھ کروڑ روپے کی کمرشل پراپرٹی کی جعلی رجسٹری تیار کی جس پر میرے خاوند کے جعلی دستخط اور نشان انگوٹھے لگائے پٹواری سے بھی مُردے نے زندہ ہوکر فرد برائے بیع لی، لوکل کمیشن (وکیل) کے سامنے مُردے نے 2022 میں زندہ ہو کر دستخط اور نشان انگوٹھے لگائے۔ اس مقدمہ میں فوری طور پر رجسٹری منسوخ کرنے کی بجائے جب دو سال تک جج لمبی لمبی تاریخیں دیتے رہے تو مدعیہ نے اپنے وکیل کو کہا کہ کسی نے بتایا ہے کہ Early Hearing کی پیٹیشن ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو کی جاسکتی ہے تو مجبوراً وکیل نے یہ دائر کردی اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور نے جلد فیصلہ کرنے کا حکم دیا حالانکہ ایسے کیس میں جج کو روزانہ سماعت کا حکم دینا چاہیے تھا۔ لیکن ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور نسیم احمد ورک نے بھی گلے سے اُتارا لہزا یہ جج بھی مجرم ہے۔ یہ حکم جب مدعیہ نے سول جج حق نواز کو دیا تو وہ اور غصہ میں آگیا اور اس کے بعد ایک ماہ سے بھی زائد لمبی پیشی دے دی اور یہی سلسلہ چل رہا تھا کہ ایک ماہ قبل سول جج حق نواز تبدیل ہو گیا اور نیا سول جج محمد جمشید ہے۔ مدعیہ اس مقدمہ نمبر 190190122 کی تاریخ 30اپریل 2026 پر خود گئی تو ریڈر نے کہا کہ اب عید کے بعد کی ڈیٹ ہو گی تو مدعیہ زبردستی نئے جج محمد جمشید کے چیمبر میں گئی اور دھائی دی کہ جج صاحب 2010 میں مرنے والے کو 2022 میں زندہ کرکے جعلی رجسٹری کرنے کا مقدمہ چار سال سے چل رہا ہے اور اس دوران اینٹی کرپشن نے مجھے بلیک میل کرنے کے لیے میرے بیٹوں سے پولیس گردی کرائی اور بہت کچھ کیا جارہا ہے کہ ہم گِر جائیں، بیٹھ جائیں۔ جج نے فائیل منگوائی اور پڑھ کر انتہائی غصہ میں ریڈر کو کہا کہ اس کیس میں ابھی تک اخبار اشتہار کیوں نہیں ہوا اور سیشن جج کی ڈائریکشن کے بعد بھی اتنی لمبی تاریخیں کیوں ڈالی جارہی ہیں تو جج کو ریڈر نے اشارہ کیا کہ بعد میں بتاوں گا۔ تاہم نئے سول جج محمد جمشید نے چھوٹی تاریخیں دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ میں اب سوال کرتا ہوں کہ ایسے مقدمات میں بھی اگر یہ کچھ ہونا ہے تو پھر اس سارے نظامِ عدل کو جلا دینا چاہیے۔ اس مقدمہ میں میری نظر میں میں بٖڑے دو مجرم سول جج رانا محمد جعفر اورسول جج حق نواز بنتے ہیں۔ جنہوں نے 4 سال اس مقدمہ میں جرائم کیے۔ رانا محمد جعفر کو 2022 تا 2024 مسلسل مدعیوں نے منت سماجت کی کہ جناب اس مقدمہ کو جلد ختم کریں تو ہر مرتبہ اس کا رویہ انتہائی مجرمانہ رہا اور اس کے خلاف مدعیوں نے کمپلینٹ بھی کی تھی۔ ان دونوں ججوں کو بتانا پڑے گا کہ اینٹی کرپشن افسران اور مجرموں کو بچانے کے لیے اس مقدمہ کو لٹکائے رکھنا اور خراب کرنا کس کا حکم تھا۔ اسی طرح اس وقت کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور نسیم حمد ورک کو بھی بتانا پڑے گا کہ جب اس کے سامنے مقدمے کی تفصیلات آگئیں کہ انتہائی خوفناک حقائق ہیں تو اس نے سخت ترین حکم روزانہ سماعت کا کیوں نہیں کیا۔۔۔ یہاں میں اپنی کتاب "صحافت سے شاعری تک" کی ایک نظؐم عدلیہ کنجریہ پیش کررہا ہوں۔ اگلی اقساط میں جن ججوں کے سنگین جرائم سامنے آئیں گے ان میں نتاشہ نسیم سپرا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جو جج کی کھال میں عسکری جج کے نام سے مشہور ہے بھی شامل ہے۔

عدلیہ یا کنجریہ
(شاعر،صحافی،کالم نگار: ڈاکٹر گاڈازٹ / میاں محمد اظہر امین )
کتاب: صحافت سے شاعری تک
کیا جو دُنیا نے سروے آئی حقیقت سامنے
ہیں پاکستانی مُنصفوں کے آخری درجے

چِیخ رہے تھے جو بات ہم20 سال سے
ہوئی آشکار یہ حقیقت رپورٹ2020سے

مظلوم نکلے جب مانگنے عدل و انصاف
ملیں ہر طرف لُٹیرے کرنے باقی برباد

ملے پولیس خبیث ملے وکیل ابلیس
قائم کوٹھوں میں ملے کنجریہ عدلیہ

سائل اور مسﺅل لُٹ گئے مظلوم
لینے گئے تھے انصاف ہوگئے محصور

تھا مظلوم کا جو کُچھ بچا ،لُوٹ لیا نظامِ عدل نے
جلا دو سب، ہو جہاں ظلم انصاف کے بدل میں
Book available free at www.files.fm/miansoft
نوٹ : کالم بعنوان "ڈاکٹر گاڈاِزٹ کا بڑا اعلان" میں نامزد مجرم (ملٹری ایسٹیبلشمنٹ) میری ہر قسط میں نامزد مجرم جج کے ساتھ نامزد مجرم ہے۔

Photos from Sharp Eye 's post 15/05/2026

Today’s Column by Dr. Godizt … 15 May 2026
LAST WARNING (Episode 2)----آخری وارننگ (قسط 2)
ججز کے خلاف جہاد ناگزیر ہوچکا ہے
وکیل نامی کرائے کے غنڈوں کا عدالتوں پر قبضہ ختم کیے بغیر عدل و انصاف ممکن نہیں
کرپٹ سرکاری سور درندے چوکیدار کے خلاف آنے والی درخواست پر ہنگامی طور پر انکوائری کرنا اور تب تک او ایس ڈی بنانا لازم
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور طارق خورشید خواجہ کو سُپاری آئی ایس آئی نے ڈائریکٹ دی یا چیف جسٹس عالیہ نیلم کے ذریعے دی۔۔ اے ایس جے محمد وارث جاوید کو سیکٹر ہیڈ خود کیوں بلیک میل کررہا ہے اور میرے استغاثہ کے مجرموں کو طلب کرنے سے کیوں روک رہا ہے۔
قارئین! پہلی قسط کی شہ سرخیاں لکھ کر آگے چلوں گا۔ پہلی سُرخی تھی کہ پاکستانی عدلیہ ہر جرم میں شریک مجرم ہے۔ سہیل ظفر چٹھہ کو جی ایچ کیو نے قتلوں کے لیے کیسے قابو کیا۔ کرپٹ سرکاری سور درندے چوکیدار ہر قسم کی چوری درندگی غداری اسی کرپٹ نظام کے سر پر کرتے ہی۔۔۔۔ قارئین! میں 26 سال سے ایسٹیبلشمنٹ کی دہشت گردی کا مقابلہ تنہاء کررہا ہوں میرا خیال تھا کہ میرے ساتھ جو جرم ہو گا وہ عدالت لے کر جاوں گا پھر متعلقہ محکمہ کے مجرم سرکاری کرپٹ درندے سور کو سزا دلواں گا۔ پاکستان تو کیا دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا سول شخص جس نے وکالت کا کورس بھی نہ کیا ہو وہ دِکھا دیں جس نے خود مقدمات لکھنے سے لے کر عدالتوں میں دائر کرنے اور پھر آخر تک لڑے ہوں بلکہ چند روز پہلے ایک جج نے کہا کہ آپ کا وکالت کا تجربہ تو میرے سے بھی دو سال زیادہ ہو گیا ہے انہوں نے کہا کہ وہ 24 سال قبل وکیل بنے تھے اور میں 26 سال سے عدالتوں میں دھکے کھا رہا ہوں۔۔۔۔ 2006 تک وکیلوں کے ساتھ انصاف لینے جاتا رہا اور جب معلوم ہوا کہ اپنے ساتھ لگا وکیل بھی مخالف کا ایجنٹ ہوتا ہے اور اپنے وکیلوں کے سنگین جرائم سامنے آئے تب 2006 سے اکیلا اصالتاً میدان میں اترا تو ایجنسیوں اور پولیس نے اپنے ٹاوٹ وکیلوں سے عدالتوں میں اپنا آئنی حق لینے سے روکنے کے لیے مسلسل حملے کرائے اور جب میں نہ رکا تو پھر ججوں کو ننگا ہوکر از خود دہشت گردیاں، بے انصافیاں ، مظالم کرنے پڑے۔ اس طرح میرے سامنے سارا جعلی نظامِ عدل ننگا ہو گیا۔ اب یہ پوزیشن سامنے آئی کہ 99 فیصد تو جج ہی سرکاری کرپٹ سور کو بچانے کے لیے از خود ہر جرم کرتا ہے اور اگر ایک فیصد جج کسی سچے مظلوم پر ترس کھا کر اور اُس پر مظالم کی انتہاء دیکھ کر کوئی حکم دیتے ہیں تو متعلقہ محکمہ کے درندے آفیسرز اس حکم کو جج کے باقاعدہ مُنہ پر مارتا ہے اور یہ الفاظ سرکاری سور کہتے ہیں کہ بیورو کریسی کی مہربانی سے ان ججوں کو چوہدریں ملی ہوئی ہیں۔ لاکھوں روپیہ ماہانہ کی عیاشیاں کررہے ہیں، ہر طرح سے بیورو کرسی کے مرحونِ منت ہیں۔ پولیس ہی ان کی حفاظت کرتی ہے پروٹوکول دیتی ہے، ہر عدالت پر پولیس کا بزریعہ نائب کورٹ قبضہ ہے جو جج کو آنکھیں دکھا کر پولیس آفیسر کا حکم بتاتا ہے۔۔ تو ان کی جرات کیسے ہو کہ افسر شاہی، پولیس ، فوج کی لوٹ مار پر کوئی ایکشن لیں۔ قارئین! سول کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک ہر قسم کی عدالت میں پچھلے 26 سال میں دو ڈھائی سو سے زائد مقدمے اصآلتاً دائرکیے ہیں اور وہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ عدلیہ کنجریہ ہے، غدار ہے، کرپٹ ہے۔ کیونکہ میرے کیس دو جمع دو چار تھے اور جج پانچ لکھ کر میری زندگی مسلسل تباہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ میرے معاملے میں آئی ایس آئی نامی دہشت گرد تنظیم کا لاہور کا اڈا مستقل سرگرم رہتا ہے اور ہر کام خراب کرنے کے لیے مکمل شیطان ثابت ہوا ہے۔ 12 اکتوبر 1999 کی فوجی دہشت گردی / غداری کے بعد کے تمام سیکٹر ہیڈز لاہور اور سی اوز ( وہ سی اوز کے عہدے جن پر 2019 میں کرنل عاطف اور کرنل راشد تعنیات تھے جو مجھے گھر غوا کرنے آئے تھے) کو گرفتار کرکے اصل تفتیش کی جائے تو ثابت ہو گا کہ میرے ساتھ ہر جرم کے پیچھے پولیس اور ججوں کی بیک پر یہی حرامی کوٹھے کی پیدائشیں تھیں اور آج تک ہیں۔ کیونکہ جب میں نے 1999 کی فوج کی غداری کے خلاف جہاد شروع کیا تو مجھے صحآفت سے مستقل آوٹ کرنے کا فیصلہ غدار ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں ہوا جس پر عملدرآمد آج تک کرنے والوں میں سر فہرست، ہر قسم کا جرم کرنے والی دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ہے۔ قارئین! ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور طارق خورشید خواجہ نے تعیناتی کے پہلے روز سے ہی اب تک جتنے سنگین جرائم کیے ہیں انہیں بتانا ہو گا کہ ڈٰی ایس جے ورک صاحب نے جب مزید زیادتی کرنے سے انکار کیا تو انہیں آئی ایس آئی نے ڈائریکٹ ذمہ داری دی تھی یا چیف جسٹس عالیہ نیلم کے ذریعے دی تھی۔ انہوں نے ڈی ایس جے لاہور لگنے کے لیے کس جگہ پھر میرے ساتھ جرائم کرنے کی حامی بھری تھی اور سُپاری اُٹھائی تھی۔ کیا متعدد اے ایس جیز بشمول ندیم چوہدری ، نوید اختر، محمد وارث جاوید، محمد عاشق، شیخ عرفان اور جے ایم یوسف سلیم ، جے ایم عمران خان لودھی وغیرہ کو میرے مجرموں کو بچانے کے لیے سنگین جرائم کرنے کا حکم ڈی ایس جے لاہور طارق خواجہ نے دیا تھا یا یہ بھی دونوں میں سے کسی ایک جگہ سے ڈائریکٹ احکامات لے رہے تھے۔ اے ایس جے محمد وارث جاوید کو سیکٹر ہیڈ خود کیوں بلیک میل کررہا ہے اور میرے استغاثہ کے مجرموں کو طلب کرنے سے کیوں روک رہا ہے۔ میرے استغاثہ میں نہ صرف دستاویزی ناقابل تردید ثبوت ہیں بلکہ وقوعہ جات کے عینی شاہدیں کی شہادتیں بھی ریکارڈ ہوچکی ہیں۔ ثابت ہوا کہ اس ملک میں کرپٹ سرکاری سور، فوجی یا کرپٹ جج کے احتساب کا کوئی نظام نہیں ہے۔ اس لیے جو مجاہد خود سزائیں دے رہے ہیں وہی اللہ کے خاص بندے ہیں یہ کرپٹ سب شیطان کی اولادیں ہیں۔۔۔ غدار فوج غدار پولیس غدار ایجنسیوں غدار ججوں غدار وکیلوں کو جہنم واصل کرنے والے بلڈی سویلینز شہیدوں غازیوں کو میرا خراج تحسین ہے۔ قارئین! پہلی قسط میں پولیس ، اینٹی کرپشن ، ایف آئی اے اور کچھ ججوں کے سنگین جرائم کے ثبوت دیئے تھے اب اسی کالم "آخری وارننگ" کی اگلی اقساط میں ان سب کے مزید جرائم کے ثبوت دینے کا سلسلہ شروع کررہا ہوں۔۔۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address

Sharp Eye Headquarter, Qurtaba Chowk
Lahore
54000