Kitab. Nagri
11/02/2026
زیر نظر کتاب:
انتصار الحق فی اکساد اباطیل معیار الحق
(جدید کمپوزنگ، ترجمہ، تخریج اور تسہیل کے ساتھ)
الحمدللہ! علمی و تحقیقی میدان میں ایک اہم اور نادر شاہکار
انتصار الحق فی اکساد اباطیل معیار الحق" منظرِ عام پر آ چکا ہے، جو کہ برصغیر کے عظیم محقق، محدث اور فقیہ علامہ مفتی ارشاد حسین رامپوری رحمۃ اللہ علیہ کی مبارک تصنیف ہے۔
یہ کتاب دراصل غیر مقلدین کے پیشوا نذیر حسین دہلوی کی کتاب "معیار الحق" کے علمی و تحقیقی جواب میں لکھی گئی ہے۔ نذیر حسین نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر الزامات اور بہتان تراشی کرتے ہوئے اپنی کتاب تحریر کی، جس کا مدلل اور علمی جواب
علامہ ارشاد حسین رامپوری رحمۃ اللہ علیہ نے اس شاہکار تصنیف کی صورت میں دیا۔
کتاب کے ابواب:
1.باب اول: مناقبِ امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ
اس باب میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے تابعی ہونے پر دلائل، آپ سے مروی روایات کی اسماء الرجال کے اصولوں پر تحقیق، نیز آپ کے فضائل و مناقب پر آئمہ محدثین اور فقہاء کے اقوال کو مفصل انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
2.باب دوم: تقلید آئمہ اربعہ کا اثبات
اس باب میں تقلید کی شرعی حیثیت، تعریف، اس کی اہمیت و ضرورت، نیز آئمہ کرام کے اقوال کی روشنی میں تقلید کے دلائل پیش کیے گئے ہیں۔
3. باب سوم: فقہِ حنفی پر اعتراضات کا علمی جائزہ
اس باب میں حنفی فقہ پر کیے گئے اعتراضات کے تفصیلی اور مضبوط جوابات فراہم کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی سینکڑوں احادیث مبارکہ کو جمع کر کے مسلکِ حنفی کی حقانیت کو مدلل انداز میں ثابت کیا گیا ہے۔
کتاب کی خصوصیات:
- کل صفحات: 722
- کاغذ: اعلیٰ معیار کا آف وائٹ پرنٹر پیپر
- جدید کمپوزنگ، تخریج، ترجمہ اور تسہیل کے ساتھ
- محدود تعداد میں دستیاب
قیمت: صرف 1995 روپے
(ڈاک خرچ سمیت)
کتاب حاصل کرنے کے لیے فوراً رابطہ فرمائیں:
03327591332
06/11/2025
زیر نظر کتاب جمہرۃ انساب العرب:
قیمت 1395 بمعہ ڈیلوری کیش آن ڈیلوری🚛
علامہ ابن حزم اندلسی
ترجمہ: ڈاکٹر مفتی محمد بلال
تعارف وتبصرہ: محمد فھد حارث
پانچویں صدی ہجری کے اندلسی عالم علامہ ابن حزم ظاہری (متوفی ۴۵۶ ہجری) کی معرکۃ الآراء کتاب "جمہرۃ انساب العرب" کا پہلی مرتبہ اردو ترجمہ۔
علامہ محمد بن علی بن احمد بن سعید ابن حزم ظاہری الاندلسی (۳۸۴ ھ ۔ ۴۵۶ھ)کی جمہرۃ انساب العرب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کتاب نبیﷺ کے ہر اس صحابی اور واقعہ سیرت میں ذکر کردہ بیشتر افراد کے نسب کو بیان کرتی ہے جن کا ذکر سرسری طور پر نبی ﷺ کے کسی بھی واقعہ میں ہو۔
مثال کے طور پر علامہ ابن حزم انصار کے ذکر میں عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ کی اولاد کی سرخی کے تحت براء بن معرور بن صخر بن خنساء بن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ بیعت عقبہ میں شریک تھے اور نقیب ہوئے۔ یہ وہ پہلے شخص ہیں جنہیں قبلہ رخ دفن کیا گیا۔ ان کے بیٹے بشر بن براء وہ ہیں جنہوں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ زہر آلود بکری کا گوشت کھایا تھا اور اسی زہر آلود گوشت کے اثرات کی وجہ سے ان کی وفات ہوئی تھی۔
اسی طرح عربی متن کے صفحہ ۳۴۶ پر بنو سعد بن مرۃ بن مالک بن أوس کے ذیل میں سیدنا حُباب بن زید بن تیم کا ذکر کرتے ہیں اور ساتھ بتاتے ہیں کہ ان کی سگی چچازاد لڑکی؛ ام علی بنت خالد بن تیم بن أمیہ تھی، جس کے گھر اذان کی وحی اتری تھی۔ بعینہٖ صفحہ ۳۵۲ پر بنو نجار کے براء بن اوس بن خالد کا ذکرکرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ آپ رسول اللہ ﷺ کے صاحب زادے؛ ابراہیم کے رضاعی والد ہیں، اس لیے کہ ان کی اہلیہ؛ ام بردہ نے رسول اللہ ﷺ کے صاحب زادے ابراہیم کو دودھ پلایا تھا۔
صفحہ ۳۵۵ پر علامہ ابن حزم رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ ابن سلول کہلاتا تھا، سلول اس کی دادی کا نام تھا جس کی طرف یہ منسوب ہے، اس کے خاندان کی رہائش بنی نجار اور بنی ساعدہ کے مکانات کے درمیان تھی، عبد اللہ بن أبی کے بیٹے؛ عبد اللہ بن عبد اللہ، بدری اور فضلاء صحابہ کرام میں سے تھے، جنگ یمامہ میں سیدنا عبد اللہ بن عبد اللہ شہید ہوئے۔ صفحہ ۲۰۰ پر تیم بن عبد مناۃ بن أُدّ کی اولاد کے ذکر میں لکھتے ہیں کہ قطام بن شِجنۃ بن عدی بن عامر بن عوف بن ثعلبہ بن سعد بن ذہل، یہ وہ عورت ہے جس سے عبد الرحمن بن ملجم نے نکاح کیا تھا اور اس عورت کا مہر ؛ سیدنا علی کو قتل کرنا طے ہوا تھا، یہ عورت؛ خارجیہ تھی، اس کا باپ؛ شِجنۃ تھا، اور اس کابھائی؛ أَخضَر بن شِجنۃ تھا، قطام کے باپ اور بھائی دونوں جنگ نہروان میں مارے گئے تھے۔
گویا جیسے کتب اصول فقہ میں اصول بیان کرکے بطور مثال عام زندگی کی مثالوں سےعملی تطبیق پیش کی جاتی ہے، بعینہ علامہ ابن حزم کسی بھی صحابی یا دورِ نبویﷺ میں موجود شخص کے نسب کا تذکرہ کرنے کے بعد پوری کوشش کرتے ہیں کہ بطور مثال سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس صحابی یا شخص کا کوئی واقعہ بھی نقل کردیں۔
اس قسم کی نادر معلومات کتبِ انساب میں صرف علامہ ابن حزم کی جمہرۃ انساب العرب میں ہی ملتی ہے۔ اور یقیناً یہ ایسی کتاب ہے جو اسلامی تاریخ کی کئی "خالی جگہوں نہ صرف پٗر کرتی ہے" بلکہ مصادر تاریخ میں درج نہ ہونے والی بہت سی معلومات بھی بہم پہنچاتی ہے۔ میرے ناقص علم کی حد تک انساب پر اس سے زیادہ مفصل، مکمل اور جامع کتاب کوئی دوسری نہیں۔
اور حیرت و استعجاب اس بات پر ہے کہ اس قدر وقیع و علمی کتاب ابھی تک ترجمہ ہونے کی سعادت سے محروم تھی۔اللہ خوش رکھے ڈاکٹر مفتی محمد ابراہیم بلال بربری حفظہ اللہ کو انہوں نے اس کتاب کا ترجمہ پاک وہند میں پہلی مرتبہ کیا اور آج یہ کتاب ترجمہ ہوکر آپ حضرات کے ہاتھوں میں موجود ہے۔
قیمت 1395 بمعہ ڈیلوری کیش آن ڈیلوری 🚛🚛
ابھی پورے پاکستان بھرمیں کسی بھی جگہ سے گھر بیٹھے آرڈر کرنے کے لیے BOOKNOW کے بٹن پر کلک کریں اور نیچے دیے گئے فارم میں اپنا نام شہر تحصیل و ضلع درج کریں
یہاں ڈائریکٹ ہمارے واٹس ایپ نمبر پر ایڈریس سینڈ کریں
📞0332 7591332
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Lahore
54000