Jhand Garan News
پیپلز پارٹی کی کشمیر دشمن تاریخ اور اٹھائیسویں ترمیم کی سازش!
اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے نام پر آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی سازش محض ایک قانونی چال نہیں بلکہ یہ ان خطوں کی شناخت، خودمختاری اور وجود پر براہِ راست حملہ ہےجن حکمرانوں کے اپنے چار صوبے سنبھل نہیں رہے بلوچستان جل رہا ہے، کے پی خون میں نہایا ہے، سندھ پیاسا ہے، پنجاب قرضوں میں ڈوبا ہے وہ ہمارے متنازع خطوں پر قبضے کے خواب دیکھ رہے ہیں میں سوچ رہا ہوں ان میں یہ جرأت کہاں سے آئی؟
لیکن یہ پہلی بار نہیں ہوا پیپلز پارٹی کا کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ غداری کا رشتہ دہائیوں پرانا ہے۔
1974 میں ذوالفقار علی بھٹو نے "آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین ایکٹ 1974" آزاد کشمیر پر زبردستی مسلط کیا۔ اس آئین کے ذریعے آزاد کشمیر کی مکمل خودمختاری ختم کر کے اسلام آباد کا شکنجہ کسا گیا اسمبلی تو بنائی لیکن اصل اختیارات آزاد جموں و کشمیر کونسل کو دیے جو اسلام آباد میں بیٹھتی تھی اور جس کا سربراہ خود پاکستان کا وزیراعظم تھا یعنی کشمیر کے عوام کو نمائندگی کا ڈھونگ دیا گیا اور اصل اقتدار اسلام آباد کے ہاتھ میں رکھا گیا۔
یہ آئین آج بھی آزاد کشمیر کی گردن کا طوق بنا ہوا ہے اور اب اٹھائیسویں ترمیم کے ذریعے اس طوق کو مزید تنگ کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔بہت سے ذرائع چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی سے آزاد کشمیر میں حکومت بنوانے کے بدلے اٹھائیسویں ترمیم کی حمایت کروائی جا رہی ہے اور کرسی کی خاطر آزاد کشمیر کی حکومت سودے بازی کا ذریعہ بنے گی۔ آج سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان کا وزیراعلیٰ اور آزاد کشمیر کا وزیراعظم بھی پیپلز پارٹی کا ہے اور یہی پارٹی ان خطوں کے عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی تیاری کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 47 (1948) میں واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ جموں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف اور صرف استصوابِ رائے کے ذریعے یہاں کے عوام کریں گے یعنی کوئی پارلیمنٹ کوئی ترمیم ہمارا فیصلہ نہی کر سکتی۔
قرارداد نمبر 80 (1950) اور نمبر 122 (1957) نے ہر قسم کی یکطرفہ آئینی تبدیلی کو کھلے الفاظ میں ناقابلِ قبول قرار دیا۔
continue in next post
بولا:
“آج ہماری قسمت بدل گئی! بادشاہ نے ہیرے، اشرفیاں اور جوہرات دینے کا اعلان کیا ہے!”
گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پوری رات وہ مستقبل کے منصوبے بناتے رہے۔
اگلی صبح سنگر نہا دھو کر اچھے کپڑے پہن کر محل پہنچا اور ادب سے بولا:
“حضور! کل رات آپ نے جو انعامات عطا فرمائے تھے، میں انہیں لینے حاضر ہوا ہوں۔”
بادشاہ نے حیرانی سے کہا:
“کونسے انعامات؟”
سنگر نے عرض کیا:
“حضور! آپ نے خود فرمایا تھا کہ اشرفیاں، ہیرے اور جوہرات دیے جائیں۔”
بادشاہ مسکرایا اور بولا:
“اے فنکار! تم نے ہمیں اپنے گانے سے خوش کیا، اور ہم نے تمہیں اپنے وعدوں سے خوش کر دیا۔ اب لینے دینے کی بات کہاں سے آ گئی؟”
“یہی قصہ آج کی سیاست پر بھی پورا فٹ بیٹھتا ہے۔
بادشاہ کی طرح یہاں بھی پہلے وعدوں کی محفل سجتی ہے… کبھی ترقیاتی پیکج، کبھی نوکریوں کے اعلانات،کبھی ہسپتالوں کے اعلانات،کبھی اسکول اپ گریڈیشن، اور کبھی بڑے بڑے منصوبوں کے خواب۔
عوام خوش ہو کر ووٹ پر مہر لگا دیتی ہے، جیسے گانے والا بادشاہ کو خوش کر رہا تھا۔ایسے ہی یہ سیاستدان کرتے ہیں
28/04/2026
جھنڈ گراں پائین و بالا وارڈ 3 کا عوامی سروے. .
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے وارڈ نمبر 3 جنڈ گراں والے سب ٹھیک ٹھاک ہوں گے میں ایک تصویر شیئر کی ہے اس میں سے ہر ایک بندہ اپنے محلے کی جتنا بھی کام ہوا ہے اس کی تصدیق کرے۔
میں نے صرف جو کام ہوئے ہیں ان کے بارے میں معلومات لے رہا ہوں ایک جنرل سروے ہے اس میں بھرپور حصہ لیں اگر یہ صرف کاغذوں کی حد تک ہے پھر بھی أپ کمنٹس ضرور کریں۔
جزاکم اللہ خیرا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Lahore
45000