Pakistani models
19/07/2024
یہ اسد عباس شاہ ہیں ان کا اک بیٹا اور دو بیٹیاں تھیں۔شاہ صاحب اک عوامی آدمی ہیں خلق خدا کو ان کی شخصیت سے راحت تو ملی ہو گی لیکن انہوں نے کسی کو گزند نہیں پہنچائی۔خدا نے ان کا امتحان لینا تھا اسی لیے پچھلے سال ان کا نوجوان بیٹا 22 سال کی عمر میں چل بسا اور اس کے چند روز بعد ان کی بہو بھی یہ صدمہ برداشت نہ کر سکی اور وہ بھی چل بسی۔چند روز کے وقفے سے دو جوان جنازوں نے انہیں توڑ کر رکھ دیا۔یہ اپنی وال پہ اپنے بیٹے اور بہو کے متعلق کچھ شئیر کرتے تو درد دل رکھنے والے ہر بندے کا دل دکھ سے بھر جاتا۔ہمارے دوست سید حماد حسین گیلانی نے اس دکھ کے چلتے ان کو ان فالو کر دیا اور کہا کہ ہم ان کا دکھ دیکھ نہیں سکتے جس پہ بیت رہی ہے اس کا کیا حال ہو گا۔شاید خدا نے ابھی ان کے صبر کا مزید امتحان لینا تھا۔ان کی جوان بیٹی ثانیہ زہرا کے لیے سادات گھرانے سے اک رشتہ آیا۔سید جیون شاہ دربار کے متولی ہیں انہوں نے اپنے بیٹے کے رشتے کے وقت سید اسد عباس کو دھوکہ دیا اور کہا ان کا بیٹا علی رضا کنوارہ ہے شادی کے بعد علم ہوا کہ علی رضا پہلے سے شادی شدہ اور بچے کا باپ بھی ہے۔خیر شادی کے بعد علی رضا کا اصل رنگ باہر آیا اس جانور نے ثانیہ زہرا پہ تشدد کرنا شروع کر دیا اس دوران ثانیہ زہرا اک بیٹے کی ماں بن چکی تھی۔جب اسد عباس صاحب کو معلوم ہوا تو یہ اپنے جگر کے ٹکڑے کو گھر لے آئے اور خلع کے لیے عدالت میں کیس کر دیا۔کیس چلتا رہا اور جب علی رضا نے دیکھا اب عدالت سے اس کے خلاف فیصلہ آنے والا ہے تو یہ ثانیہ زہرا کی یونیورسٹی پہنچ گیا معافی تلافی اور منتیں ترلوں کے بعد ثانیہ زہرا نے اپنے بیٹے کی خاطر قسمت کا لکھا سمجھ کر گھر بسانے کا فیصلہ کیا۔یہی ثانیہ کی غلطی تھی۔یہ جانور جب کیس واپس کرانے کے بعد ثانیہ کو گھر لے آیا تو اس نے مزید تشدد شروع کر دیا۔ثانیہ سہتی رہی۔اس نے ثانیہ کو کہا کہ اپنے باپ سے جائیداد کا حصہ لے دو۔سید عباس کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ میرا بیٹا تو چلا گیا اب جو کچھ بھی ہے میری ان دو بیٹیوں کا ہے لیکن ابھی میں زندہ ہوں میرے خدا کے حضور پیش ہونے تک صبر کر لیں۔
مگر علی رضا اس پہ راضی نہ ہوا اور آئے روز ثانیہ زہرا کو پیٹ پیٹ کر ادھ موا کر دیتا۔یہ ثانیہ کو اپنے بابا سے بات تک نہیں کرنے دیتا تھا۔سید عباس اپنی بیٹی اور نواسوں سے ملنے کے لیے متعدد بار ان کے دروازے پیٹ پیٹ کر ناکام لوٹ آتے۔ثانیہ شاید بچوں کی خاطر سب سہہ رہی تھی۔اگر اک بار بھی وہ سید اسد عباس کو کہتی کہ میں نے اس گھر میں نہیں رہنا تو سید اسد اک لمحہ لگائے بغیر اپنے جگر گوشے کو بانہوں کے حصار میں لے لیتے پہلے بھی تو انہوں نے بیٹی کو گھر میں واپس بلا کر خلع کا کیس ڈالا تھا۔
ابھی دو محرم کو ان کو پولیس کا فون آتا ہے کہ ان کی بیٹی نے خود کشی کر لی ہے جب یہ وہاں پہنچے تو خاندان والے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔اوپر ثانیہ زہرہ کی لاش اس صورت میں ملی جیسا کہ اخبار کی کٹنگ میں نظر آ رہا ہے وہاں موجود مظہر عباس کات اور دیگر نے پولیس کے سامنے اعتراضات اٹھائے کہ خود کشی ایسے تھوڑی کی جاتی ہے کہ آدھا جسم لٹکا ہو اور آدھا میز پہ دھرا ہو
جب ثانیہ زہرا کو غسل دیا گیا تو پتا چلا اس کا جبڑا ٹوٹا ہوا ہے جگہ جگہ تشدد کے نشانات ہیں۔یہ واضح قتل تھا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جب نوٹس لیا تو درندہ علی رضا بھاگ گیا۔
اسد عباس نے جوان بیٹے جوان بہو اب بیس سالہ بیٹی کو کھویا ہے ان کے دکھ اندازہ آپ اور میں لگا ہی نہیں سکتے۔اب جو لوگ الٹا اسد عباس کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ اس نے بیٹی کو بولا ہو گا کہ ڈولی اٹھی ہے وہاں سے جنازہ نکلے یا اب وہی ےتمہارا گھر ہے وغیرہ وغیرہ تو خدارا اصلیت جانے بغیر کسی مظلوم کو مزید دکھ دینا کسی صورت مناسب نہیں۔ہم سید اسد عباس کو پرسہ پیش کرتے ہوئے ان سے یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں۔اور ہم سی ایم پنجاب اور وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کیس کو پاکستان میں مثال بنایا جائے اور اس درندے علی رضا کو قرار واقعی سزا دی جائے ورنہ اسی سوشل میڈیا پہ میری اپنی وال پہ ہر روز میموری میں ایسے کئی کیسز آئے ہوتے ہیں جن پہ ہم نے آواز اٹھائی تھی اور اس کے بعد انتظامیہ کی خاموشی اور نئے کیس کا انتظار رہتا ہے۔
ِبنِ_نعیم
15/06/2024
💔💔💔💔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Lahore