Scroll Shock

Scroll Shock

Share

Photos from Scroll Shock's post 01/06/2026

رجنی شیٹی — وہ عورت جس نے لاکھوں کی نوکری چھوڑ کر آٹو چلانا شروع کر دیا

کس لیے؟

ممکن ہے رجنی شیٹی کے فیصلے میں آپ کو اپنی زندگی کا فیصلہ مل جائے۔

پڑھتے جائیے۔

بنگلورو سے ایک خبر آئی ہے جو سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ اسے شیئر کر رہے ہیں، کمنٹ کر رہے ہیں، بحث کر رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے "یہ ہمت ہے"، کوئی کہتا ہے "یہ پاگل پن ہے"۔ لیکن جو بھی کہے — ایک بات سب کہہ رہے ہیں ۔ ۔ کہ یہ بات ہے کچھ الگ سوچنے اور کر دکھانے کی۔ ۔ ۔

ایک عورت۔ نو سال کا شاندار آئی ٹی کریئر۔ اچھی خاصی تنخواہ۔ بڑا عہدہ۔

اور ایک دن سب چھوڑ کر آٹو رکشہ چلانا شروع کر دیا۔

یہ رجنی شیٹی کی کہانی ہے۔

---

صبح کے چھ بجے

بنگلورو کی ٹریفک صبح سویرے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ رجنی کی آنکھ الارم سے پہلے کھل جاتی تھی — اس لیے نہیں کہ نیند پوری ہو گئی تھی، بلکہ اس لیے کہ دماغ نے رات بھر آرام ہی نہیں کیا تھا۔ کل کی میٹنگ، آج کا ڈیڈ لائن، اگلے ہفتے کا ریویو — سب کچھ نیند میں بھی ساتھ رہتا تھا۔

وہ اٹھتی، جلدی سے تیار ہوتی، ناشتے کے نام پر چائے کا ایک گھونٹ لیتی اور نکل پڑتی۔ آفس پہنچتے پہنچتے نو بج جاتے اور تب تک ای میلز کی لمبی قطار انتظار کر رہی ہوتی تھی۔

آئی ٹی مینیجر کی نوکری سنتے میں بڑی لگتی ہے۔ اصل میں اس کا مطلب ہوتا ہے — ٹیم کے مسائل اپنے اوپر لو، اوپر والوں کے ٹارگٹ پورے کرو، اور درمیان میں کہیں خود کو بھی سنبھالو۔ رجنی یہی کرتی تھی۔ ہر دن۔ نو سال تک۔

دوپہر کا کھانا؟ اکثر میز پر بیٹھے بیٹھے، لیپ ٹاپ کھلا رکھ کر۔ شام کو چھ بجے نکلنے کا پلان ہوتا، نکلتی آٹھ بجے۔ گھر پہنچ کر جسم تھکا ہوتا لیکن دماغ پھر بھی چلتا رہتا — کیونکہ فون پر کوئی نہ کوئی میسج آ ہی جاتا تھا۔

یہ سلسلہ مہینوں نہیں، سالوں چلا۔

---

جب اندر سے کچھ ٹوٹنے لگا

رجنی بعد میں بتاتی ہے کہ مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ میں کب بدل گئی۔

پہلے چھوٹی چھوٹی باتوں پر چڑچڑاہٹ ہونے لگی۔ پھر دوستوں سے ملنے کا دل بند ہو گیا۔ پھر گھر پر بھی خاموش رہنے لگی۔ ڈاکٹر کے پاس گئی تو کہا — "اینگزائٹی ہے، آرام کریں۔" لیکن وہ نوکری کرتے ہوئے آرام کیسے کرتی؟

ایک رات وہ آفس سے نکلی۔ بنگلورو کی سڑکوں پر ٹریفک تھی، آٹو والے ادھر ادھر جا رہے تھے، پھیری والے آواز لگا رہے تھے — اور رجنی ایک جگہ رک کر کھڑی ہو گئی۔

بس ایسے ہی۔

اس نے سوچا — یہ آٹو والا کتنا آزاد لگ رہا ہے۔ اپنی مرضی سے چل رہا ہے، اپنی مرضی سے رکتا ہے، کوئی اوپر والا نہیں جو سر پر کھڑا ہو۔

یہ سوچ اس دن دماغ میں آئی اور پھر گئی نہیں۔

---

پلاننگ جو مہینوں چلی

رجنی نے اگلے دن استعفیٰ نہیں دیا۔ وہ اتنی جذباتی نہیں تھی۔

اس نے چھ سات مہینے چپ رہ کر سوچا۔ حساب لگایا کہ آٹو سے کتنا کما سکتی ہے، بنگلورو میں اکیلی عورت کا کتنا خرچہ ہے، کتنے مہینے کی بچت ہو تو بغیر ڈر کے شروع کر سکتی ہے۔ انٹرنیٹ پر ریسرچ کی، آٹو لائسنس کا پروسیس سمجھا، کچھ ڈرائیوروں سے بات کی جو خود اپنا آٹو چلاتے تھے۔

گھر والوں کو بتایا تو پہلی ردعمل وہی تھی جو آپ سوچ رہے ہیں — "کیا پاگل پن ہے؟ نو سال کی محنت مٹی میں ملا دی؟"

لیکن رجنی کے ذہن میں ایک بات بالکل صاف تھی۔

وہ یہ نہیں سوچ رہی تھی کہ آٹو چلانا بڑا کام ہے یا چھوٹا۔ وہ یہ سوچ رہی تھی کہ میں اپنی زندگی کی مالک بننا چاہتی ہوں۔ بس۔

---

جس دن استعفیٰ دیا

آفس میں سب نے منع کیا۔ باس نے تنخواہ بڑھانے کی بات کی۔ کسی نے کہا چھٹی لے لو، کسی نے کہا یہ فیصلہ غلط ہے۔

رجنی نے سنا، مسکرائی، اور چلی گئی۔

پھر اس نے اپنا آٹو رکشہ لیا اور بنگلورو کی سڑکوں پر نکل پڑی۔

آج وہ ماہانہ ساٹھ ہزار روپے کما رہی ہے۔ کوئی باس نہیں، کوئی ٹارگٹ نہیں، کوئی ڈیڈ لائن نہیں۔ صبح اٹھتی ہے تو دل بھاری نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر نزرین مدلج نے اس کے آٹو میں سفر کیا، اس سے بات کی اور ویڈیو انسٹاگرام پر ڈال دی — اور بس یہیں سے رجنی کی کہانی ساری دنیا تک پہنچ گئی۔

---

آخری بات

لوگ پوچھتے ہیں — کیا یہ صحیح فیصلہ تھا؟

— یہ سوال ہی غلط ہے۔

صحیح اور غلط وہی طے کرتا ہے جو اس زندگی میں جی رہا ہو۔ رجنی نے اپنے لیے طے کر لیا۔

اصل سوال یہ ہے کہ آپ نے کبھی اپنے آپ سے پوچھا — کہ جو زندگی آپ جی رہے ہیں، وہ آپ کی مرضی کی ہے یا بس چل رہی ہے؟

تحریر : محمود فیاض

Want your business to be the top-listed Media Company in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Lahore