Learning Point
01/02/2024
بیجنگ کی " چائینا سٹارٹ اپ بیٹا وولٹ" نامی کمپنی نے دنیا کی پہلی جوہری بیٹری جس نے جوہری توانائی کو بہت چھوٹی شکل دی، سکے سے بھی چھوٹی جس میں 63 جوہری ایٹمز، آئسوٹوپس کو یکجا کیا ہے۔
چارجنگ یا دیکھ بھال کے بغیر 50 سال تک چل سکتی ہے، چارجنگ یا دیکھ بھال کے بغیر۔
دنیا کی پہلی جوہری بیٹری ہے جس نے جوہری توانائی کو بہت چھوٹی شکل دی ہے۔ سکے سے بھی چھوٹے موڈیول میں 63 جوہری آئسوٹوپس کو یکجا کیا گیا ہے۔بالآخر اسے فون اور ڈرون جیسے کمرشل آلات کے لیے بڑے پیمانے پر تیار کیا جاے گا۔ بیٹا وولٹ جوہری توانائی بیٹریاں ایرو سپیس، مصنوعی ذہانت کے آلات، طبی ساز و سامان، مائیکرو پروسیسرز، جدید ترین سینسرز، چھوٹے ڈرونز اور مائیکرو روبوٹس جیسے متعدد آلات کو دیرپا بجلی کی فراہمی کی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے۔ مذکورہ بیٹری ختم ہوتے آئیسوٹوپس سے خارج ہونے والی توانائی کو بجلی میں تبدیل کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جسے پہلی مرتبہ دریافت کیا گیا ہے۔
سوویت یونین اور امریکہ کے سائنس دان خلائی جہازوں، زیر آب نظاموں اور دور دراز کے سائنسی سٹیشنوں میں استعمال کے لیے ٹیکنالوجی تیار کرنے میں کامیاب رہے تاہم، تھرمونیوکلیئر بیٹریاں مہنگی اور حجم میں بہت بڑی تھیں۔ جوہری بیٹریوں کا حجم چھوٹا کرنا، ان کے تجارتی بنیادوں پر استعمال کی کوشش چین کے 5 سالہ منصوبے کے تحت شروع کی گئی جس کا مقصد 2021 سے 2025 کے درمیان ملک کی معیشت کو مضبوط بنانا ہے.
یہ پہلی نیوکلیئر بیٹری 100mv بجلی اور 3v کی وولٹیج فراہم کر سکتی ہے. جسامت 15×15×5 مکعب ملی میٹرز ہے۔ اس بیٹری سے موبائل فونز کو کبھی چارج کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی، ڈرونز مستقل پرواز کرنے کے قابل ہوں گے۔ کسی قسم کی اچانک ضرب لگنے پر آگ نہیں پکڑے گی، نہ ہی پھٹے گی 60- ڈگری سے 120 درجے کے درجہ حرارت میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جوہری توانائی بیٹری بالکل محفوظ ہے، کوئی تابکاری باہر نہیں نکلتی، انسانی جسم میں پیس میکرز، مصنوعی دل اور سماعت میں مدد دینے والے طبی آلات میں استعمال کے لیے موزوں ہیں۔ ماحول دوست ہیں۔ 50 برس کی مدت پوری ہونے پر 63 آئسوٹوپس تانبے کے مستحکم آئسوٹوپ میں تبدیل ہوجاتے ہیں جو غیر تابکار ہوتا ہے، ماحول کے لیے کوئی خطرہ یا آلودگی پیدا نہیں کرتا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.