Syed Monis Raza
21/06/2025
آنکھیں دراصل ہماری روح کا آئینہ ہوتی ہیں۔ جو کچھ بھی ہمارے دل اور دماغ میں چل رہا ہوتا ہے، وہ آنکھوں سے چھپا نہیں رہ پاتا۔ ہم خوش ہوتے ہیں، تو آنکھیں چمک اٹھتی ہیں، ایک خاص طرح کی رونق اور چمک آجاتی ہے جو ہمارے اطمینان اور مسرت کو ظاہر کرتی ہیں۔ غمگین ہونے پر یہی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اداسی چھا جاتی ہے، اور اکثر لفظوں کے بغیر ہی ہماری تکلیف آنسوؤں کی صورت میں نمودار ہو جاتی ہے۔
فکر اور پریشانی کی حالت میں آنکھوں میں بے چینی اور تھکن دکھائی دیتی ہے۔ ان میں ٹھہراؤ اور گہرائی آجاتی ہے، جیسے وہ کسی سوچ میں گم ہوں۔ جب ہم کسی سے محبت کرتے ہیں، تو آنکھوں میں ایک نرمی اور اپنائیت پیدا ہو جاتی ہے، اور ایک خاص چمک اس تعلق کو بیان کرتی ہے۔ غصے میں آنکھیں سرخ یا ان میں ایک شدت عیاں ہوتی ہے۔ جو اندرونی طیش کو ظاہر کرتی ہیں۔
غرض یہ کہ آنکھیں ہماری خاموش زبان ہیں، جو ہمارے ہر جذبے، ہر احساس اور سوچ کو دنیا کے سامنے أشکار کر دیتی ہیں۔ ہمارے اندر کی کہانیاں سنا دیتی ہیں، بغیر کسی لفظ کے۔
انکھیں بولتی ہیں!
شرط یہ ہے کہ کوئی انکھوں کو سن سکے ۔۔۔
دل کے ہر راز پر گواہ آنکھیں
لب خاموش ہیں، بیاں آنکھیں
Click here to claim your Sponsored Listing.