Storyline

Storyline

Share

28/09/2021

*پانچ چیزوں سے پانچ چیزوں کی پہچان ہوتی ہے*

۱- درخت کی پہچان پھل سے،
۲- بیوی کی پہچان شوہر کی تنگ دستی میں،
۳- شوہر کی پہچان بیوی کی بیماری میں،
۴- دوست کی پہچان مصیبت میں،
۵- مؤمن کی پہچان آزمائش میں،

*پانچ چیزوں کو پانچ چیزیں ترقی عطا کرتی ہیں*:

۱- تواضع علماء کو ترقی عطا کرتا ہے،
۲- مال کمینوں کو بڑھاوا دیتا ہے،
۳- خاموشی لغزش کو دور کرتی ہے،
۴- حیاء اخلاق کو بلندی عطا کرتی ہے،
۵- دل لگی تکلف کو دور کرتی ہے،

*پانچ چیزیں پانچ چیزوں کو لاتی ہیں*:
۱- استغفار رزق لاتا ہے،
۲-پست نگاہ فراست ایمان پیدا کرتا ہے،
۳- حیاء بھلائی کی توفیق بخشتا ہے ،
۴- نرم گفتگو مسئلہ کا حل لاتا ہے،
۵- غصہ شرمندگی پیدا کرتا ہے،

*پانچ چیزوں کو پانچ چیزیں دور کردیتی ہیں*:
۱- نرم گفتگو غصہ کو دور کرتا ہے
۲- طلب پناہِ خداوندی، شیطان کو باز رکھتا ہے،
۳- غور و فکر شرمندگی کو دور کرتا ہے،
۴- زبان پر ضبط غلطی کو دور کرتا ہے،
۵- دعا بری تقدیر کو ٹال دیتی ہے،

*پانچ لوگوں کا قرب باعث سعادت ہے*:
۱- فرمانبردار لڑکا،
۲- نیک بیوی،
۳-وفا دار دوست،
۴- مؤمن پڑوسی،
۵-فقیہ عالم،

*پانچ چیزیں پانچ چیزوں کے ساتھ بھلی معلوم ہوتی ہیں*:
۱- تندرستی آسودہ حالی کے ساتھ،
۲- سفر بہترین ہم نشین کے ساتھ،
۳- خوبصورتی عمدہ اخلاق کے ساتھ،
۴- نیند سکون قلب کے ساتھ،
۵- رات ذکر خداوندی کے ساتھ

رفتار بقدر ہدف ہو؛
چنانچہ طلب رزق کے لیے فرمان باری تعالیٰ ہے: *فامشوا* ( چلو)
اور نماز کے لیے: *فاسعوا* (جلدی کرو )
اور جنت کے لیے: *وسارعوا* (لپکو )
اور خود اپنے لیے : *ففروا إلى الله*( اللہ کی جانب دوڑ لگاؤ )

27/09/2021

نفسیاتی مریضوں کے لیے ایک انمول تحفہ... 🥀🌺

مزہ تو اس وقت آتا ہے ...🖤🥀
جب بندہ اذان سے دس پندرہ منٹ وپہلے
ہی اٹھ پڑے، لیکن دس پندرہ منٹ
بہت لمبے ہو جائیں،
اور وہ اپنی جرابیں، اور جرسی،
اور کوٹ، اور ٹوپی اتار کر
ایک طرف رکھ دے، اور
اذان کا انتظار کرنے لگے،
لیکن اذان ہوتی سنائی نہ دے
، اور وہ سلیپر پہن کر
وضو کرنے چلا جائے،مزے سے وضو کرے
، ٹھہر ٹھہر کر،
تھوڑے ٹھوڑے پانی سے، 🖤🥀
اور ہر رکن پر یا اللہ تیرا شکر ہے،
الحمد للہ، سبحان اللہ،
ما شاء اللہ، اللہ اکبر، کہتا جائے،
وضو سے لطف اندوز ہو کر نکلے،
اور دیکھے ابھی اذان نہیں ہو رہی
، کان لگا کر سننے کی کوشش کرے،
لیکن اذان سنائی نہ دے،
اور پھر ایک ایک کر کے اپنی
ٹوپی جرسی، کوٹ، اور جرابیں پہننے لگے،
اور پھر بھی اذان سنائی نہ دے،
اور وہ ہاتھ باندھ کر بیٹھ جائے،
اور اللہ کا شکر ادا کرنے لگے،
اور پھر دور کوئی درود شریف
پڑھنا شروع کرے🖤🥀
، اور اس کے چہرے پر رونق بدل جائے
، اور پھر دور و نزدیک کی مسجدوں سے
اذانیں بلند ہونا شروع ہو جائیں،
اور اس کا دل و دماغ کِھل اٹھیں،
اس کے چہرے پر تبسم پھیل جائے،
اور وہ اذان کے الفاظ دہراتا جائے،
بہت ساری اذانیں اکٹھی سن کر
اس پر ایک وجد کی سی کیفیت
طاری ہو جائے، اور وہ اٹھ کر نماز کے لئے
""""مصلیٰ بچھانے لگے،
اور پھر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوا
مصلیٰ پر کھڑا ہو جائے،
اللہ اکبر،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نماز کے انتظار کی
لذت سے نوازے اور بہرہ مند فرمائے، آمین۔ 🖤🥀

27/09/2021

🍃🍃🍃🍃🌹🍃🍃🍃🍃

*شکر گزاری*

ایک نوجوان نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ : اللہ تعالٰی اپنے نافرمان بندوں سے اپنی نعمتیں چھین لیتا ہے

لیکن میں نے دیکھا سب کے پاس پہننے اوڑھنے کو کھانے پینے کیلیۓ سب کچھ موجود ہوتا ہے اللہ تعالٰی تو کسی سے کچھ بھی نہیں چھینتے


بزرگ مسکراۓ اور پوچھا.....
کیاتمہاری نماز میں خشوع وخضوع ہے؟

نوجوان بولا: .... نہیں
کیا قرآن کی تلاوت کرتے وقت لذت محسوس ہوتی ہے؟

نوجوان بولا: .... نہیں
کیا پانچ وقت کی نماز پابندی سے پڑھتے ہو؟

نوجوان بولا:..... نہیں
کیا نیکی کرنےکیطرف دھیان جاتا ہے؟

نوجوان بولا:..... نہیں
کیا زبان اللہ کے ذکر کی عادی ہے؟

نوجوان بولا: ..... نہیں


تب بزرگ نے جواب دیا:.....
یہی اللہ کی وہ نعمتیں ھیں جنھیں وہ اپنے نافرمانوں سے چھین لیتا ہے


🍃🍃🍃🍃🌹🍃🍃

27/09/2021

ماسٹر صاحب بچے کو بڑی جان مار کے حساب سکھا رھے تھے. وہ ریاضی کے ٹیچر تھے. اُنھوں نے بچے کو اچھی طرح سمجھایا کہ دو جمع دو چار ہوتے ہیں-

مثال دیتے ہوئے انھوں نے اسے سمجھایا کہ یوں سمجھو کہ میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دئے. ..پھر دو کبوتر دئے...تو تمھارے پاس کل کتنے کبوتر ہو گئے؟

بچے نے اپنے ماتھے پہ آئے ہوئے silky بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کرتے ہوئے جواب دیاکہ
*ماسٹر جی "پانچ"*

ماسٹر صاحب نے اسے دو پنسلیں دیں اور پوچھا کہ یہ کتنی ھوئیں؟
بچے نے جواب دیا کہ دو،
پھر دو پنسلیں پکڑا کر پوچھا کہ اب کتنی ہوئیں؟
*"چار" بچے نے جواب دیا.*

ماسٹر صاحب نے ایک لمبی سانس لی جو اُن کے اطمینان اور سکون کی کی علامت تھی.....
پھر دوبارہ پوچھا...

اچھا اب بتاؤ کہ فرض کرو کہ میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دئیے پھر دو کبوتر دیئے تو کُل کتنے ہو گئے....؟ *"پانچ" بچے نے فورًا جواب دیا.*

ماسٹر صاحب جو سوال کرنے کے بعد کرسی سیدھی کر کے بیٹھنے کی کوشش کر رہے تھے اس زور سے بدکے کہ کرسی سمیت گرتے گرتے بچے......
اؤ احمق‘‘‘پنسلیں دو اور دو "4" ہوتی ھیں تو کبوتر دو اور دو "5" کیوں ہوتے ہیں ؟

اُنھوں نے رونے والی آواز میں پوچھا...

*"ماسٹر جی ایک کبوتر میرے پاس پہلے سے ہی ہے" بچے نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ھم مسلمان تو ہو گئے مگر کچھ کبوتر ھم اپنے آباؤ اجداد سے لےآئے ہیں اور کچھ معاشرے سے لے لئے ہیں.
اسی لئے جب قرآن کی بات سنتے ہیں تو سبحان اللّہ بھی کہتے ہیں،

جب حدیث نبوی سنتے ہیں تو درود بھی پڑھتے ہیں،

*مگر جب عمل کی باری آتی ہے تو باپ دادا اور معاشرے والا کبوتر نکال لیتے ہیں،*

Want your business to be the top-listed Shop in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Karachi