Awais Informative.com
ہے آج تیسری شعبان ظہور کر مولا ع
ولادت مولا حسین مبارک ہو 💞😍💓💜
❤️❤️❤️❤️
السلام علیکم
*یہ میرا مسئلہ تو نہیں ہے*
ایک چُوہا کسان کے گھر میں بِل بنا کر رہتا تھا۔ ایک دن چُوہے نے دیکھا کہ کسان اور اُس کی بیوی ایک تھیلے سے کچھ نکال رہے ہیں۔ چُوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے۔
خُوب غور سے دیکھنے پر اُس نے پایا کہ وہ ایک چُوہے دانی تھی۔ خطرہ بھانپنے پر اُس نے گھر کے پِچھواڑے میں جا کر کبُوتر کو یہ بات بتائی کہ گھر میں چوہے دانی آ گئی ہے۔
کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مجھے اس سے کیا؟ مجھے کون سا اُس میں پھنسنا ہے؟
مایُوس چُوہا یہ بات مُرغ کو بتانے گیا۔ مُرغ نے بھی مذاق اُڑاتے ہوئے کہا کہ جا بھائی یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔
بالآخر چُوہے نے جا کر بکرے کو بھی یہ بات بتائی۔ جسے سُن کر بکرا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا اور یہی کہا کہ جاؤ میاں یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔
اُسی رات چوہے دانی میں كھٹاک کی آواز ہوئی جس میں ایک زہریلا سانپ پھنس گیا تھا۔
اندھیرے میں اُس کی دم کو چُوہا سمجھ کر کسان کی بیوی جب اُسے نکالنے لگی تو سانپ نے اُسے ڈس لیا۔
طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا۔ جِس نے اُسے کبُوتر کا سُوپ پلانے کا مشورہ دیا۔
کبُوتر ابھی برتن میں اُبل ہی رہا تھا کہ خبر سُن کر کسان کے کچھ رشتہ دار عیادت کو آ پہنچے۔ جن کے کھانے کے انتظام کیلئے اگلے دن مُرغ کو ذبح کر دیا گیا۔
کچھ دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی۔ جِس کے جنازے اور تعزیت پر آنے والوں کی ضیافت میں بکرا کاٹنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہ تھا۔ جب کہ چُوہا تو کب کا دُور جا چکا تھا۔ بہت دُور ۔
لہٰذا
اگلی بار اگر کوئی آپ کو اپنا مسئلہ بتائے اور آپ کو لگے کہ "یہ میرا مسئلہ نہیں ہے" تو انتظار کیجئیے اور دوبارہ سوچئیے کہ کہیں ہم سب خطرے میں تو نہیں ہیں۔ کیونکہ اگر سماج کا ایک حصہ، ایک طبقہ، یا ایک شہری بھی خطرے میں ہے تو یقیناََ کہ پُورا مُلک خطرے میں ہے۔
ذات، مذہب اور طبقے کے دائرے سے باہر نکلیں،
صرف اپنی ہی ذات تک محدود مت رہیے، دوسروں کا بھی اِحساس کیجئیے۔
کیونکہ پڑوس میں لگی آگ آپکے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے
اللہ ہمیں ایک ھی مقصد کے لیے لڑنا نصیب فرماۓ
کون سا ایک مقصد؟
اللہﷻجن لوگوں پر اپنے دین کی ذمہ داری ڈالتا ہے تو انہیں اعلی صفات عطا فرماتا ہے بصیرت فراست اور دور اندیشی عطا فرماتا ہے اور وہ لوگ ہر شخص کو اس کے مرتبے پر رکھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔
یہاں ایک مسیحی کو اسلام کی طرف اور اسلام کے عظیم مقصد کی طرف راغب کرنے کے لیے بصیرت افروز انداز اپنایا گیا ہے۔مسیحی کہتا ہیکہ میں تو اپنا قلعہ لے کر اپنا رستہ ناپوں گا میری اور کیا غرض ہے آپ سے؟؟
جبکہ ایک حقیقی مسلمان کہتا ہیکہ تقدیر ایسا دروازہ کھولتی ہیکہ کون کس کا دشمن بنتا ہے؟ کون کس کا دوست؟ یہ اللہ جانتا ہے۔۔۔۔۔۔
یہ دراصل غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کا انداز ہے ہمارے اکابرین بھی واضح طور پے نہیں کہتے کہ آپ اسلام قبول کر لو۔۔بلکہ وہ اپنے مسلمانی کردار اپنے نیک عمل اعلی اخلاق خوش خلقی اخلاص اور پیار و محبت سے ایسے مائل کرتے تھے کہ کوئ بھی غیر مسلم اسلام کی آغوش میں آۓ بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔۔
اسلام کی اپنی ذاتی کشش ہے ذاتی حسن ہے جو ہر مچلنے والے دل کو آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔۔۔
اسلام اپنے عمدہ محاسن بہترین اخلاق اعلی کردار کی بدولت اربوں دلوں کو مسلمان کر چکا ہے اور تاقیامت ایسا ھوتا رہے گا۔۔
Munir
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
35200