Farhat Hashmi
25/05/2026
بسم الله الرحمٰن الرحيم
عرفات کا میدان
🔸 "لبیک کہنا" اس میدان کی سنت
🔹 عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ مَا لِى لاَ أَسْمَعُ النَّاسَ يُلَبُّونَ قُلْتُ يَخَافُونَ مِنْ مُعَاوِيَةَ فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ فُسْطَاطِهِ فَقَالَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ
[سنن النسائي: 3006]
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مقام عرفات میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا انہوں نے مجھ سے فرمایا کیا معاملہ ہے کہ میں لوگوں کو لبیک کہتے ہوئے نہیں سن رہا؟
میں نے کہا کہ لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ سے خوف کرتے ہیں۔ پس ابن عباس اپنے رہنے کی جگہ سے باہر آئے اور کہا
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ
🔸 اس میدان میں نمازوں کے اوقات کو موخر کرنا
🔹 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّى الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا إِلاَّ بِجَمْعٍ وَعَرَفَاتٍ
[سنن النسائي: 3010]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ عرفات اور مزدلفہ کے علاوہ ہمیشہ نماز اس کے وقت پر ادا کرتے تھے۔
🔸 اس میدان میں آخرت کو یاد کرنا
🔹 عن ابن عباس:
أن رسول الله ﷺ خطب بعرفات، فلما قال:
لبيك اللهم لبيك، قال:
إنما الخير خير الآخرة
[السلسلة الصحيحة: 2146]
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفات میں خطبہ دیا، پس جب آپ ﷺنے کہا:
لبيك اللهم لبيک، تو فرمایا:
إنما الخير خير الآخرة
بے شک خیر تو صرف آخرت کی خیر ہی ہے۔
🔸 اس دن کےسورج کےغروب ہونے سے سبق لینا
🔹 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ وَاقِفًا بِعَرَفَاتٍ فَنَظَرَ إِلَى الشَّمْسِ حِينَ تَدَلَّتْ مِثْلَ التُّرْسِ لِلْغُرُوبِ فَبَكَى وَاشْتَدَّ بُكَاؤُهُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ عِنْدَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ وَقَفْتَ مَعِي مِرَارًا لِمَ تَصْنَعُ هَذَا فَقَالَ ذَكَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ وَاقِفٌ بِمَكَانِي هَذَا فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ دُنْيَاكُمْ فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ
[مسند احمد: 6173]
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ ایک مرتبہ (میدان) عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے انہوں نے سورج کو دیکھا جو غروب کے لئے ڈھال کی طرح لٹک آیا تھا وہ اسے دیکھ کر رونے لگے اور خوب روئے۔ ان کے پاس موجود ایک آدمی نے پوچھا کہ اے ابو عبدالرحمن آپ کے ساتھ مجھے کئی مرتبہ وقوف کا موقع ملا ہے لیکن کبھی آپ نے ایسا نہیں کیا؟
انہوں نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی یاد آ گئی وہ بھی میری اسی جگہ پر وقوف کیے ہوئے تھے انہوں نے فرمایا تھا:
لوگو! تمہاری دنیاکی جتنی زندگی گذر چکی ہے اس کے بقیہ حصے کی نسبت صرف اتنی ہی ہے جتنی تمہارے اس دن کے بقیہ حصے کی گذرے ہوئے دن کے ساتھ ہے۔
📡 Follow AlHuda International WhatsApp Channel:
https://whatsapp.com/channel/0029VaCWIUF6BIEcnlj0sz1q/5312
بسم الله الرحمٰن الرحيم
خاموش مت رہیں!
تکبیر پڑھیئے،
تہلیل کہیئے،
تحمید کہیئے
اس لیے کہ آپ عشرۂ ذی الحجہ میں ہیں
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَ لِلّٰہِ الْحَمْدُ 🤍
اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیلًا○🤍
Takbiraat Resource Portal:
https://www.farhathashmi.com/takbiraat/
📡 Follow AlHuda International WhatsApp Channel:
https://whatsapp.com/channel/0029VaCWIUF6BIEcnlj0sz1q/5303
25/05/2026
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
🔹🔸 عرفہ کا دن 🔸🔹
🔹 میدان عرفات کی فضیلت:
🔸 قرآن میں عرفات کا ذکر
🔹 لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ
[البقرة: 198]
اگر تم حج کے دوران اپنے رب کا فضل (رزق وغیرہ) بھی تلاش کرو تو کوئی مضائقہ نہیں۔ پھر جب تم عرفات سے واپس آؤ تو مشعر الحرام (مزدلفہ) پہنچ کر اللہ کو اس طرح یاد کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت کی ہے ورنہ اس سے پہلے تو تم راہ بھولے ہوئے تھے۔
🔸 عرفات کا ایک اور نام "نعمان" ہے
🔹 أَخَذَ اللَّهُ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ يَعْنِي عَرَفَةَ
[السلسلة الصحيحة: 1623]
نبی کریم ﷺنے فرمایا:
اللہ نے آدم علیہ السلام کی پشت میں موجود تمام اولاد سے "نعمان" یعنی میدان عرفات میں عہد لیا تھا۔
🔸 اولاد آدم کو میدان عرفات میں بکھیر کر عہد لیا جانا
🔹 قَالَ أَخَذَ اللَّهُ [تبارك و تعالى]الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ يَعْنِي عَرَفَةَ فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَالذَّرِّ ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قِبَلًا قَالَ {أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ}
[مسند احمد: 2455]
[ السلسلة الصحيحة: 1623]
نبی کریم ﷺنے فرمایا:
اللہ تبارک و تعالی نے آدم علیہ السلام کی پشت میں موجود تمام اولاد سے میدان عرفات میں عہد لیا تھا ، پھراللہ نے ان کی صلب سے ان کی ساری اولاد نکالی جو اس نے پیدا کرنا تھی اور اسے اپنے سامنے چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی شکل میں بکھیر دیا، پھر (ان کی طرف متوجہ ہو کر) ان سے کلام کیا اور فرمایا:
{أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ}
کیامیں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں (یہ گواہی اس لئے لے لی) تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے، یا تم یہ کہنے لگو کہ ہم سے پہلے ہمارے آباؤ اجداد نے بھی شرک کیا تھا، ہم ان کے بعد ان ہی کی اولاد تھے تو کیا تو ہمیں باطل پرستوں کے عمل کی وجہ سے ہلاک کرے گا؟
🔸 میدان عرفات، ابراہیم علیہ السلام کی وراثت
🔹 عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ قَالَ أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الأَنْصَارِىُّ وَنَحْنُ بِعَرَفَةَ فِى مَكَانٍ يُبَاعِدُهُ عَمْرٌو عَنِ الإِمَامِ فَقَالَ أَمَا إِنِّى رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْكُمْ يَقُولُ لَكُمْ قِفُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ
[أبو داود: 1921]
یزید بن شیبان کہتے ہیں کہ ابن مربع انصاری ہمارے پاس آئے اور ہم عرفات میں ایسی جگہ اترے تھے جس کو عمرو ،امام سے دور خیال کرتے تھے تو انہوں نے کہا کہ میں تمہاری طرف رسول اللہﷺکا بھیجا ہوا قاصد ہوں آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ تم اپنی نشانیوں کی جگہ کھڑے رہو کیونکہ تم اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کی وراثت میں سے ایک وراثت پر ہو۔
🔸 میدان عرفات میں پہنچنا ہی حج ہے
🔹 فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ رَجُلاً فَنَادَى الْحَجُّ الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ مَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَتَمَّ حَجُّهُ
[سنن ابی داؤد: 1951]
رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا اور اس نے پکار کر کہا:
حج، حج تو عرفات کا دن ہے۔ جو شخص مزدلفہ کی رات میں فجر کی نماز سے پہلے پہلے یہاں آ گیا اس کا حج پورا ہو گیا۔
📡 Follow AlHuda International WhatsApp Channel:
https://whatsapp.com/channel/0029VaCWIUF6BIEcnlj0sz1q/5310
🕋 لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ…
لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ،
لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ،
إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ،
لَا شَرِيكَ لَكَ
✨✨✨
🌿 حاضر ہوں اے اللہ! حاضر ہوں۔
حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، حاضر ہوں۔
بے شک تمام تعریفیں، نعمتیں اور بادشاہی تیرے ہی لیے ہے۔
تیرا کوئی شریک نہیں۔
🕌 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے تو اس کے دائیں اور بائیں جانب کے درخت، پتھر اور ڈھیلے بھی اس کے ساتھ تلبیہ کہتے ہیں، یہاں تک کہ زمین کے دونوں کناروں تک”
📖 (سنن ابن ماجہ: 2921)
📡 Follow AlHuda International WhatsApp Channel:
https://whatsapp.com/channel/0029VaCWIUF6BIEcnlj0sz1q/5281
25/05/2026
*❤️کیا ہم میں اماں ہاجرہ کے دل کا کچھ حصہ ہے؟*
کبھی کبھی...
جب زندگی عورت پر تنگ ہو جاتی ہے...
اور وہ محسوس کرتی ہے کہ اسے اپنی طاقت سے بڑھی تقدیروں کے سامنے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے...
تو اماں ہاجرہ دل میں سرایت کر جاتی ہے...
گویا اس کی کہانی کسی قدیم زمانے کی عورت کی کہانی نہیں ہے...
بلکہ ایک ایسی کہانی ہے جو قیامت تک عورتوں کی روحوں میں دہرائی جاتی ہے...
ہر عورت میں...
اماں ہاجرہ کا کچھ نہ کچھ ہے...
اس عورت کا کچھ حصہ جس نے ایک ویران صحرا میں کھڑے ہو کر دیکھا...
نہ گھر...
نہ کوئی ہمدم...
نہ پانی...
نہ کوئی انسان...
پھر اس نے ابراہیم علیہ السلام کو جاتے ہوئے دیکھا...
کون سا دل یہ منظر برداشت کر سکتا ہے؟
ایک عورت...
اپنے شیرخوار بچے کے ساتھ...
ایسی زمین میں جہاں زندگی کا نام و نشان نہیں...
وہ نہیں جانتی کہ ایک گھنٹے بعد کیا ہوگا...
اور نہ ہی یہ کہ اسے سکون کہاں سے ملے گا...
اس کے باوجود...
اس کا پہلا سوال تھا:
"کیا اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے؟"
یا اللہ...
اس سارے خوف کے بیچ اس کا دل اللہ کو کیسے دیکھ رہا تھا؟
جب انہوں نے کہا: ہاں
تو اس نے وہ جملہ کہا جو آج تک دلوں کی تربیت کر رہا ہے:
"تو پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا"
یہاں...
بات صرف ایک طاقتور عورت کی نہیں ہے...
بلکہ ایک ایسے دل کی ہے جو آخر تک اللہ سے بھرا ہوا تھا...
اور کیا ہم میں اماں ہاجرہ کے دل کا کچھ حصہ ہے؟
ہاں...
ہر اس بار جب کوئی عورت اپنے بچوں کے لیے ڈرتی ہے...
پھر مطمئن نظر آنے کی کوشش کرتی ہے...
ہر اس بار جب وہ رات کو تنہا روتی ہے...
پھر صبح اپنے پیاروں کے لیے مسکراتی ہے...
ہر اس بار جب وہ دوڑتی ہے... تھکتی ہے... اپنی ذمہ داریوں کے بیچ بھاگتی ہے...
گویا وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کر رہی ہو...
اطمینان کے ایک قطرے کی تلاش میں...
ہر اس بار جب وہ محسوس کرتی ہے کہ زندگی نے اسے ایک ایسے صحرا میں لا کھڑا کیا ہے جسے وہ سمجھ نہیں پاتی...
پھر بھی وہ چلتی رہتی ہے...
ہر عورت میں...
اماں ہاجرہ کا کچھ نہ کچھ ہے...
لیکن سب سے گہرا سوال:
کیا ہم میں اماں ہاجرہ کا یقین بھی ہے؟
کیا جب زندگی اپنے دروازے بند کر دیتی ہے...
تو ہم بھی اس کی طرح کہتے ہیں:
"اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا"؟
یا ہمارے دل جلدی ٹوٹ جاتے ہیں...
بے چین ہو جاتے ہیں...
اور اللہ کے سوا ہر چیز سے لپٹ جاتے ہیں؟
امان ہاجرہ کے پاس نہ تھا:
مال...
نہ اہل و عیال...
نہ کوئی ضمانت...
لیکن اس کے پاس ایک چیز تھی...
اگر وہ کسی انسان کے دل میں بھر جائے...
تو وہ پوری دنیا کا سامنا کر سکتا ہے...
اس کے پاس تھا:
اللہ پر یقین...
اس کی سعی پر غور کرو...
وہ دو پہاڑوں کے بیچ دوڑتی ہے...
ایک بار...
اور ایک بار...
اور ایک بار...
ایک تھکی ہوئی ماں...
لیکن وہ رکتی نہیں...
گویا اللہ نے اس منظر کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا...
تاکہ ہم سمجھیں کہ سچی سعی...
ضائع نہیں ہوتی...
اور وہ ماں جو توکل بھرے دل کے ساتھ حرکت کرتی ہے...
اللہ اس کی تھکن کو دیکھتا ہے...
اسی لیے...
اللہ نے زمزم کو براہ راست آسمان سے نہیں پھوڑا...
بلکہ اسے پہلے سعی کروائی...
تاکہ ہمیں سکھائے:
کہ یقین کا مطلب رکنا نہیں ہے...
بلکہ یہ کہ تم سعی کرو...
اور تمہارا دل اللہ کے ساتھ مطمئن ہو...
آج کتنی ہی عورتیں ہیں...
جو اماں ہاجرہ کے صحرا کا کچھ حصہ جی رہی ہیں...
تنہائی کا صحرا...
یا تھکن کا...
یا ذمہ داری کا...
یا لمبے انتظار کا...
یا بچوں کے لیے خوف کا...
یا ان پوشیدہ جنگوں کا جنہیں کوئی نہیں دیکھتا...
لیکن سب عورتوں کے پاس...
اماں ہاجرہ کا دل نہیں ہوتا...
کیونکہ ہاجرہ کا دل...
نہ مایوس دل تھا...
نہ اعتراض کرنے والا...
نہ ناراض...
وہ ایک ایسا دل تھا جو اللہ کو جانتا تھا...
اور یہی بہت بڑا فرق ہے...
💚 یا رب...
اگر ہم میں اماں ہاجرہ کی تھکن کا کچھ حصہ ہے...
تو ہمیں اس کے یقین کا کچھ حصہ بھی عطا فرما...
اور اگر ہمارے دل ہر روز سعی کرتے ہیں...
تو ہماری سعی کو صرف اپنی طرف کر دے... دنیا کی طرف نہیں...
اور اگر اللہ کی تقدیریں ہمیں زندگی کے صحراؤں میں لا کھڑا کریں...
تو ہمیں ضائع نہ ہونے دے...
بلکہ ہماری روحوں میں وہ عجیب یقین بو دے:
"تو پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا..."
کیونکہ وہ عورت جو اللہ کو ویسے جانتی ہے جیسے اماں ہاجرہ نے جانا تھا...
وہ تھک سکتی ہے...
رو سکتی ہے...
زندگی اسے تھکا سکتی ہے...
لیکن وہ...
کبھی گرتی نہیں...🤍✨
25/05/2026
🌿*اصل کامیابی یہ ہے کہ حج کے بعد بھی دلوں میں “لبیک” زندہ رہے*
حج کو “فریضہ” صرف اس لیے نہیں کہا جاتا کہ وہ فرض عبادت ہے…بلکہ اس لیے بھی کہ یہ بندے کے *ایمان* *محبت* اور *اطاعت* کا عملی امتحان ہے۔
*دیکھ کر حج کے مناظر*
دل گہری سوچ میں ڈوب گیا
کون سی چیز ہے جو ایک انسان کو اپنے گھر کا آرام، نرم بستر، ٹھنڈی فضا، اپنی آسائشیں اور سہولتیں چھوڑنے پر آمادہ کر دیتی ہے؟
کون سی طاقت ہے جو اسے ہزاروں میل دور، تپتے صحراؤں، شدید گرمی، ہجوم اور مشقت کے درمیان کھینچ کر لے جاتی ہے؟
یہ صرف سفر نہیں ہوتا…
یہ ایمان کی قوت ہوتی ہے۔
یہ اللہ کی محبت ہوتی ہے۔
جب دل میں اللہ کی محبت جاگتی ہے تو پھر انسان آرام نہیں دیکھتا، تکلیف نہیں گنتا، راستے کی دشواری نہیں سوچتا۔وہ بس یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح اللہ کے در پر حاضری ہوجائے۔
اسی لیے حاجی جب منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کی طرف بڑھتا ہے تو حقیقت میں وہ اپنی محبت کا ثبوت دے رہا ہوتا ہے۔
تپتی دھوپ میں چلنا…
گرمی برداشت کرنا…
راتیں جاگنا…
ہجوم میں صبر کرنا…
یہ سب صرف اعمال نہیں ہوتے، یہ بندگی کے عملی اظہار ہوتے ہیں۔
*محبت ہمیشہ قربانی مانگتی* ہے۔اور حج شاید دنیا کی سب سے عظیم عملی قربانیوں میں سے ایک ہے۔
*مگر یہاں ایک سوال دل کو ہلا دیتا ہے…*
اگر چند دن کے لیے اللہ کی محبت انسان کو اتنا بدل سکتی ہے، تو پھر یہی کیفیت باقی گیارہ مہینوں میں کیوں برقرار نہیں رہتی؟
یہ جذبۂ ایمان مدھم کیوں پڑ جاتا ہے؟
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ حج میں انسان دنیا سے کٹ جاتا ہے، اور اللہ سے جڑ جاتا ہے۔وہاں موبائل، کاروبار، شہرت، مقابلہ، دنیا کی دوڑ… سب پیچھے رہ جاتے ہیں۔
دل بار بار اللہ کو پکارتا ہے، زبان مسلسل ذکر کرتی ہے، آنکھیں عبادت کے مناظر دیکھتی ہیں، ماحول انسان کو اللہ کی طرف کھینچتا ہے۔
لیکن جب انسان واپس دنیا میں آتا ہے تو آہستہ آہستہ:
* غفلت بڑھنے لگتی ہے،
* دنیا دل پر چھانے لگتی ہے،
* گناہ دل کو سخت کرنے لگتے ہیں،
* اور ذکرِ الٰہی کم ہونے لگتا ہے۔
یوں دل کی وہ حرارت مدھم پڑنے لگتی ہے۔
حالانکہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان صرف حج کے دنوں میں بدل جائے…
اصل کامیابی یہ ہے کہ حج کے بعد بھی اس کے دل میں “لبیک” زندہ رہے۔
*یعنی*
* نماز میں بھی وہی حاضری ہو،
* دعا میں بھی وہی عاجزی ہو،
* گناہوں سے بچنے میں بھی وہی خوف ہو،
* اور اللہ کی محبت میں بھی وہی تڑپ باقی رہے۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ صرف عرفات میں نہیں سنتا…
وہ سال کے بارہ مہینے اپنے بندے کے قریب ہوتا ہے۔
*امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ* کی دعا یاد آگئی دل میں تڑپ برقرار اور ہر دفعہ وقوف عرفہ میں یہ دعا کثرت سے کرتے۔
*"اللهم لا تجعله آخر العهد منك"*"اے اللہ میری یہ آخری حاضری نہ ہو"
*✍️عروج*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Islamabad
46000