Daily Update

Daily Update

Share

07/07/2026

نواب محمد اورنگزیب خان (1904ء - 1924ء)
ریاستِ دیر کے نویں حکمران، سخی، دین دار اور حامیِ تعلیم
نواب محمد اورنگزیب خان، نواب اول محمد شریف خان کے فرزندِ ارجمند تھے۔ آپ 1877ء میں ریاستِ دیر کے علاقے براول بانڈی میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں ایک حادثے کے باعث، جب آپ تالاب میں گر گئے تھے، آپ کی قوتِ گویائی میں لکنت پیدا ہو گئی تھی، اسی نسبت سے تاریخ کے اوراق میں آپ "چاڑا نواب" کے نام سے معروف ہوئے۔ 1904ء میں 27 برس کی عمر میں آپ نے ریاستِ دیر کی باگ ڈور سنبھالی۔۔۔

کردار اور اخلاقی اوصاف
نواب اورنگزیب خان اپنی ذات میں ایک قلندر صفت حکمران تھے۔ آپ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو آپ کی انتہائی درجے کی دین داری اور پرہیزگاری تھی۔ آپ صوم و صلوٰۃ کے اس قدر پابند تھے کہ ہفتے میں دو دن روزے رکھنے کا اہتمام کرتے تھے۔ آپ ایک انتہائی انصاف پسند، راست گو، دریا دل اور سخی حکمران تھے، جن کے دربار سے کبھی کوئی سائل خالی ہاتھ نہیں لوٹتا تھا۔ آپ کے دورِ حکومت کا بیشتر حصہ بیرونی یلغاروں کو روکنے اور ریاست کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے 45 سے زائد جنگوں میں گزرا۔۔۔

اسلامیہ کالج پشاور کے لیے عظیم مالی تعاون
نواب اورنگزیب خان کی سب سے روشن تاریخی خدمت اسلامیہ کالج پشاور کے قیام کے لیے ان کا مثالی مالی تعاون ہے۔ 10 مئی 1911ء کو جب صوبہ سرحد کے کمشنر جارج روز کیپل نے اسلامیہ کالج کی تعمیر کے لیے صوبے بھر کے نوابان اور سرکردہ خوانین کا اجلاس بلایا، تو نواب دیر نے اس قومی مقصد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔۔۔

تاریخی شواہد کے مطابق، اس وقت جمع ہونے والے کل ساڑھے پانچ لاکھ روپے کے چندے میں سے ایک بہت بڑا حصہ نواب اورنگزیب خان کا تھا۔ آپ نے ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے نقد اور چار سو پچاس سلیپرز (اعلیٰ معیار کی لکڑی) عطیہ کیے، جوکہ مجموعی چندے کا ایک چوتھائی (1/4) حصہ بنتا تھا۔ یہ آپ کی علمی و ملی بصیرت اور قوم کی ترقی کے لیے آپ کی بے لوث محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ اس عظیم عطیے کے باوجود کالج انتظامیہ نے آپ کی خدمات کا اعتراف اس طرح نہیں کیا جس طرح دیگر خوانین کا کیا گیا، تاہم آپ کی شرافت اور خاکساری کا یہ عالم تھا کہ آپ نے کبھی اپنے نام کے لیے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔۔۔

آخری ایام اور انتقال
آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ریاست کی فلاح اور عوام کی خدمت میں گزارا۔ اپنے آخری ایام میں جب آپ فالج کے مرض میں مبتلا ہوئے تو آپ نے امورِ سلطنت کی نگرانی کے لیے اپنے معتمد وزراء (جن میں مرزا عبدالحق، گورامان اور صفدر خان شامل تھے) پر اعتماد کیا۔ 1924ء میں آپ کا انتقال ہوا اور آپ کو دیر خاص میں شاہی مسجد کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے اور ولی عہد، نواب سر محمد شاہ جہان خان ریاست کے حکمران بنے۔۔۔

نواب اورنگزیب خان کی حیات اس بات کی گواہی ہے کہ ایک حکمران کس طرح اپنی دنیاوی طاقت کو اللہ کی رضا اور قوم کی تعمیر کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ وہ اپنے اخلاص، تقویٰ اور سخاوت کے باعث آج بھی ریاستِ دیر کی تاریخ میں ایک تابندہ ستارے کی مانند یاد کیے جاتے ہیں۔۔۔

(بحوالہ: تاریخِ دیر یوسفزئی، تواریخِ رحمت خانی و دیگر تاریخی ذرائع)
مدفون احاطہ شاھی مسجد دیر خاص

07/07/2026

Bayan
# for you page

07/07/2026

Bayan

06/07/2026

Want 🙏 20 million views

Want your business to be the top-listed Travel Agency in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Islamabad
Islamabad