Abdul Razzaque baloch
panas 🥵🥵🥵
دعوت القران - سورۃ نمبر 1 الفاتحة
آیت نمبر 5
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ
ترجمہ:
اے پروردگار ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں
تفسیر:
(ایاک نعبد وایاک نستعین) ” ہم تیری ہی عبادت کرتے اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں “ یعنی تجھ اکیلے ہی کو ہم عبادت اور استغانت کے لئے مخصوص کرتے ہیں کیونکہ (نحوی قاعدے کے مطابق) معمول کا اپنے عامل سے پہلے آنا حصر کے معنی پیدا کرتا ہے اور حصر سے مراد صرف مذکور کے لئے حکم کا اثبات اور اس کے سوا کسی اور کے لئے اس حکم کی نفی کرنا ہے۔ گویا بندہ کہتا ہے :
” ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تیرے سوا کسی سے مدد کے طلب گار نہیں ہوتے۔ “
” عبادت “ ایک ایسا اسم ہے جو ان تمام ظاہری اور باطنی اعمال و اقوال کا جامع ہے جن کو اللہ پسند کرتا ہے اور جن سے وہ راضی ہوتا ہے۔
(استعانۃ) کا مطلب، جلب منفعت اور دفع ضرر کے حصول میں پورے وثوق کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسہ کرنا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے قیام، منافع کے حصول اور نقصان کے ازالے میں صرف اسی سے مدد کا طلبگار ہونا ابدی سعادت کا وسیلہ اور تمام برائیوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ پس نجات کا راستہ یہی ہے کہ عبادت بھی صرف ایک اللہ کی جائے اور مدد بھی صرف اسی سے مانگی جائے۔
اور عبادت اس وقت تک عبادت نہیں جب تک کہ اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حاصل نہ کیا گیا ہو اور اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا نہ ہو۔ ان دو امور کے وجود سے عبادت متحقق ہوتی ہے :)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Hyderabad